واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اپریل کے مہینے میں صارفین کیلئے اشیاء کی قیمتوں کے اشاریے یعنی افراطِ زر میں 0.6 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 3.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ میں مہنگائی کی رفتار ملازمین کی اوسط آمدنی میں ہونے والے 3.6 فیصد اضافے سے آگے نکل گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی حقیقی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی سطح پر جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والا توانائی کا بحران ہے، جس کے نتیجے میں صرف ایک ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5.4 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر توانائی کے شعبے میں 17.9 فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشیائ ِ خوردونوش بالخصوص گوشت اور روزمرہ کی دکان داری کے اخراجات بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد وفاقی ریزرو بینک کی جانب سے سود کی شرح میں کمی کے امکانات فی الحال ختم ہو گئے ہیں اور مالیاتی منڈیوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ہول سیل قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث آنے والے مہینوں میں صارفین پر بوجھ مزید بڑھے گا جس سے نمٹنے کے لیے معاشی پالیسیوں میں سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔











