امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کو شدید مالی بحران میں دھکیل دیا، رپورٹ

0
24

واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کیخلاف اختیار کی جانیوالی غیر متوقع اور جارحانہ خارجہ پالیسی نے بین الاقوامی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ حالیہ سیاسی پیش رفت کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے ایران پر روایتی فضائی حملوں کی دھمکیوں کے بجائے اب ایک نئی اسٹریٹجک بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے اطراف قائم کی جانے والی اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کی اقتصادی شہ رگ کو مکمل طور پر بند کرنا ہے، جس کے باعث تہران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اس تبدیل شدہ حکمت عملی کو ماہرین روایتی جنگ کے بجائے ایک تباہ کن معاشی اور فوجی محاصرہ قرار دے رہے ہیں۔ اس سخت ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے پس پردہ سفارتی ذرائع کو بھی متحرک کیا ہے تاکہ ایران پر سن 2015 کے جوہری معاہدے سے کہیں زیادہ سخت شرائط تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اہم تزویراتی مشاورت کے بعد ایران کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اس کے پاس وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اگر اس نے فوری طور پر اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو اسے سنگین ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب، داخلی سیاست میں ٹرمپ کی ان پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے روایتی رہنماؤں کو شدید سیاسی ناکامیوں کا سامنا ہے، جبکہ ٹرمپ کے حامی امیدوار عوامی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔ اس نئی صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here