ممبئی(پاکستان نیوز) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سر پر پہنچتے ہی بھارت میں مہلک نیپا وائرس پھیلنے لگا اور وباکے نئے کیسزسامنے آگئے جبکہ پاکستان میں بھی ہائی الرٹ کردیا گیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال میں وائرس کے کم از کم 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ہنگامی طبی اقدامات کے تحت تقریباً 100 افراد کو قرنطینہ میں رکھاگیاہے۔ مہلک وائرس کا یہ پھیلاؤ ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب دنیابھر سے متعدد ٹیمیں،شائقین کرکٹ کی بڑی تعدادبھارت پہنچنے والی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی ہائی الرٹ کردیا گیا تاہم ملک میں تاحال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ وفاقی وزارت صحت کے ادارے بارڈر ہیلتھ سروسز نے بھارت میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ پر انتباہ اور ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ملک بھر کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر سخت سکریننگ کی ہدایت کر دی گئی ہے اور پاکستان آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں کی 100 فیصد سکریننگ لازمی قرار دے دی گئی ہے، تمام مسافروں کی تھرمل سکریننگ اور طبی معائنہ بھی لازم ہے۔ مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری تاریخ کی تصدیق کی ہدایت کی گئی ہے اور نیپا سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والوں کی خصوصی نگرانی کا حکم دیا گیا ہے، مشتبہ علامات پر مسافر کو فوری آئسولیٹ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ کلیئرنس کے بغیر کسی مسافر کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نیپا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے پر تھائی لینڈ، ملائیشیا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور نیپال میں بھی سکریننگ شروع کر دی گئی ہے۔ نیپا وائرس چمگادڑوں کے ذریعے پھیلنے والی ایک خطرناک بیماری ہے، بعض اوقات اس کی اموات کی شرح 75 فیصدتک رپورٹ ہو چکی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق نیپا وائرس انفیکشن ‘زونوٹک النیس’ یعنی ایسی بیماری ہے جوجانوروں سے انسانوں میں پھیلتی ہے جبکہ یہ آلودہ غذا اور وائرس سے متاثرہ شخص سے قریبی رابطے کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہے۔









