جنگ بندی کی پیشکش نا قابل قبول ہے!!!

0
8
حیدر علی
حیدر علی

جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا بالکل اسی طرح امریکی صدر ایران کو ایسی شرائط پیش کر رہے ہیں جن کا مقصد تہران کو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے تاہم ایران ان شرائط کو قبول کرنے کے بجائے اپنے میزائل حملوں کی شدت میں اضافہ کر رہا ہے اور اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے صورتحال انتہائی سنگین بنا دی ہے جس کے باعث جنگ بندی کے امکانات معدوم اور تصادم کے جذبات مزید بھڑک رہے ہیں جبکہ دنیا بھر کے ناظرین یہ مناظر دیکھ رہے ہیں کہ رہائشی عمارتوں پر بمباری کی جا رہی ہے اور آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں جہاں مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے یہ وصیت کر رہی ہیں کہ ان کی ہلاکت کی صورت میں اللہ نگہبان ہوگا مگر وہ اپنے ان آباؤ اجداد کو ہمیشہ یاد رکھیں جو جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر انسانیت اور اخلاقیات کی تمام حدیں پامال کی جا رہی ہیں۔
اس جنگ کے معاشی اثرات سے اب خود امریکی شہری بھی محفوظ نہیں رہے کیونکہ انہیں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے اور نیویارک سے سان فرانسسکو تک گیس کی قیمتیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ ان کا مستقبل میں تعین کرنا ناممکن ہو گیا ہے مگر ایران کے لیے اس طویل مدتی جنگ کو برداشت کرنا کوئی نیا تجربہ نہیں ہے کیونکہ عراق کے ساتھ اس کی طویل جنگ کی یادیں اب بھی تازہ ہیں اور اس وقت تہران کی اولین ترجیح اپنی بقا کا تحفظ ہے جس کے حصول کے لیے وہ واشنگٹن کے جنگی اخراجات اور جانی نقصانات میں اضافہ کر کے توانائی کے بحران اور افراط زر کو ناقابل قبول حد تک بڑھانا چاہتا ہے تاکہ حریف قوتیں تھک ہار کر اپنی نام نہاد فتح کا اعلان کریں اور واپسی کی راہ لیں۔عسکری ماہرین کے مطابق امریکی و اسرائیلی جنگی ساز و سامان کی بہتات نے ایران کو ایک نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے جس کے تحت وہ جنگ کے دائرے کو وسیع کر کے دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے کے ممالک کا معاشی ڈھانچہ درہم برہم ہو جائے اور اگر توانائی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں تو ایران اسے اپنی بڑی کامیابی تصور کرے گا کیونکہ اس کی یہ خواہش ہے کہ دشمن کے میزائل ذخائر اور دفاعی تنصیبات ختم ہو جائیں اور اسی مقصد کے تحت وہ جنگ کو کئی محاذوں پر پھیلانے کی پالیسی پر گامزن ہے چاہے اس کے لیے اسے اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔ایران کا موجودہ لائحہ عمل ابتدائی طور پر قوت برداشت کا مظاہرہ کرنا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ کچھ عرصے کے شدید حملوں کے بعد دشمن کی قوت میں کمی آئے گی اور تب اسے جوابی کارروائی کا بھرپور موقع ملے گا جبکہ اس تمام صورتحال کے پس منظر میں امریکی سیاسی حالات اور انتخابات بھی کلیدی اہمیت رکھتے ہیں جہاں جانی و مالی نقصانات میں اضافہ کسی بھی وقت پالیسیوں کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اب تک کئی فوجی اڈوں پر حملے ہو چکے ہیں اور فضائی بیڑوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ حزب اللہ کی شمولیت اور خلیج کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے تیل و گیس کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تجارت کا گزرنا محال ہو گیا ہے اور ایرانی حکام اب بھی اسی دعوے پر قائم ہیں کہ وہ طویل مدتی جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں جبکہ ماہرین اسے وقت کے خلاف ایک ایسی دوڑ قرار دے رہے ہیں جہاں فریقین ایک دوسرے کی مواصلاتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور امریکی ایوانوں میں یہ خدشہ سر اٹھا رہا ہے کہ کہیں یہ موجودہ تنازع بھی ماضی کی دہائیوں پر محیط جنگوں کی طرح طویل نہ ہو جائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here