جنگ بندی کی پیشکش نا قابل قبول ہے!!!

0
113
حیدر علی
حیدر علی

جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا بالکل اسی طرح امریکی صدر ایران کو ایسی شرائط پیش کر رہے ہیں جن کا مقصد تہران کو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے تاہم ایران ان شرائط کو قبول کرنے کے بجائے اپنے میزائل حملوں کی شدت میں اضافہ کر رہا ہے اور اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے صورتحال انتہائی سنگین بنا دی ہے جس کے باعث جنگ بندی کے امکانات معدوم اور تصادم کے جذبات مزید بھڑک رہے ہیں جبکہ دنیا بھر کے ناظرین یہ مناظر دیکھ رہے ہیں کہ رہائشی عمارتوں پر بمباری کی جا رہی ہے اور آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں جہاں مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے یہ وصیت کر رہی ہیں کہ ان کی ہلاکت کی صورت میں اللہ نگہبان ہوگا مگر وہ اپنے ان آباؤ اجداد کو ہمیشہ یاد رکھیں جو جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر انسانیت اور اخلاقیات کی تمام حدیں پامال کی جا رہی ہیں۔
اس جنگ کے معاشی اثرات سے اب خود امریکی شہری بھی محفوظ نہیں رہے کیونکہ انہیں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے اور نیویارک سے سان فرانسسکو تک گیس کی قیمتیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ ان کا مستقبل میں تعین کرنا ناممکن ہو گیا ہے مگر ایران کے لیے اس طویل مدتی جنگ کو برداشت کرنا کوئی نیا تجربہ نہیں ہے کیونکہ عراق کے ساتھ اس کی طویل جنگ کی یادیں اب بھی تازہ ہیں اور اس وقت تہران کی اولین ترجیح اپنی بقا کا تحفظ ہے جس کے حصول کے لیے وہ واشنگٹن کے جنگی اخراجات اور جانی نقصانات میں اضافہ کر کے توانائی کے بحران اور افراط زر کو ناقابل قبول حد تک بڑھانا چاہتا ہے تاکہ حریف قوتیں تھک ہار کر اپنی نام نہاد فتح کا اعلان کریں اور واپسی کی راہ لیں۔عسکری ماہرین کے مطابق امریکی و اسرائیلی جنگی ساز و سامان کی بہتات نے ایران کو ایک نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے جس کے تحت وہ جنگ کے دائرے کو وسیع کر کے دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے کے ممالک کا معاشی ڈھانچہ درہم برہم ہو جائے اور اگر توانائی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں تو ایران اسے اپنی بڑی کامیابی تصور کرے گا کیونکہ اس کی یہ خواہش ہے کہ دشمن کے میزائل ذخائر اور دفاعی تنصیبات ختم ہو جائیں اور اسی مقصد کے تحت وہ جنگ کو کئی محاذوں پر پھیلانے کی پالیسی پر گامزن ہے چاہے اس کے لیے اسے اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔ایران کا موجودہ لائحہ عمل ابتدائی طور پر قوت برداشت کا مظاہرہ کرنا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ کچھ عرصے کے شدید حملوں کے بعد دشمن کی قوت میں کمی آئے گی اور تب اسے جوابی کارروائی کا بھرپور موقع ملے گا جبکہ اس تمام صورتحال کے پس منظر میں امریکی سیاسی حالات اور انتخابات بھی کلیدی اہمیت رکھتے ہیں جہاں جانی و مالی نقصانات میں اضافہ کسی بھی وقت پالیسیوں کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اب تک کئی فوجی اڈوں پر حملے ہو چکے ہیں اور فضائی بیڑوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ حزب اللہ کی شمولیت اور خلیج کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے تیل و گیس کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تجارت کا گزرنا محال ہو گیا ہے اور ایرانی حکام اب بھی اسی دعوے پر قائم ہیں کہ وہ طویل مدتی جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں جبکہ ماہرین اسے وقت کے خلاف ایک ایسی دوڑ قرار دے رہے ہیں جہاں فریقین ایک دوسرے کی مواصلاتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور امریکی ایوانوں میں یہ خدشہ سر اٹھا رہا ہے کہ کہیں یہ موجودہ تنازع بھی ماضی کی دہائیوں پر محیط جنگوں کی طرح طویل نہ ہو جائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here