ماں کی خدمت…!
ایک مقدس فریضہ
تخلیق کائنات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انسانی رشتوں میں والدین کا مرتبہ سب سے بلند ہے اور ان کے حقوق کی ادائیگی دینِ فطرت کا اہم جزو ہے۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں جب ہم اپنی روح کی بالیدگی کے لیے کوشاں ہیں، ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جن والدین نے ہمیں زندگی کی تمازت سے بچا کر اپنی آغوش کی ٹھنڈک دی، کیا ہم ان کی خدمت کا حق کماحقہ ادا کر پا رہے ہیں۔ اسلام نے والدین بالخصوص والدہ کے حقوق پر بہت زور دیا ہے اور اس حوالے سے ایک ایمان افروز روایت حضرت عبداللہ بن عمر سے منسوب ہے کہ جب ایک شخص نے جنت کی طلب کا اظہار کیا تو آپ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی والدہ کی خدمت اور ان سے گفتگو میں نرمی اختیار کرے، کیونکہ گناہِ کبیرہ سے بچتے ہوئے والدین کی خدمت ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو جنت کے قریب کر دیتا ہے۔والدین کے احسانات کا بدلہ چکانا کسی طور ممکن نہیں، اس لیے بارگاہِ الٰہی میں عاجزی کے ساتھ یہ التجا کرنی چاہیے کہ وہ ان پر ویسا ہی رحم فرمائے جیسا انہوں نے ہمارے بچپن میں ہماری پرورش کے دوران برتا۔ والدین نے جس طرح اپنی آسائشوں کو قربان کر کے ہمیں پروان چڑھایا، اب بڑھاپے کی کمزوری میں وہ ہماری توجہ اور محبت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ انسانی فطرت میں ماں کا مقام اس لیے بھی زیادہ حساس ہے کیونکہ وہ فطرتی طور پر نرم دل ہوتی ہے اور اسے اولاد کی توجہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اسی بنا پر قرآنِ پاک میں بھی اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کرتے ہوئے ماں کی ان تکالیف کا ذکر کیا ہے جو اس نے حمل اور رضاعت کے دوران برداشت کیں۔والدین کی خدمت محض ان کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ان کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی اولاد کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی یادوں کو زندہ رکھے اور ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ حسنِ سلوک جاری رکھے۔ خاندان کے لوگوں کے ساتھ محبت اور میل جول برقرار رکھنا اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا شریک ہونا دراصل والدین کی روح کو تسکین پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ والدین کے لیے کی جانے والی دعائیں اور ان کے حق میں کیا گیا صدقہ جاریہ دراصل اس ثواب کا ذریعہ ہے جو ان کے جانے کے بعد بھی ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی زندگی میں ان کی خدمت کر کے اور ان کے بعد ان کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی دنیا اور آخرت سنواریں۔











