مسلم اُمہ سازشوں کے نرغے میں !!!

0
6
جاوید رانا

اپنے گزشتہ کالم میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کے حوالے سے جن خدشات و متوقع اثرات کا عندیہ دیا تھا درحقیقت حالات اس سے بھی زیادہ دگر گُوں ہو چکے ہیں۔ ہمارے اس کالم کے تحریر کیے جانے تک جہاں ایک جانب اسرائیل اور نیتن یاہو کی گریٹر اسرائیل اور مسلم دشمنی کُھل کر سامنے آچکی ہے وہیں ایران کے عزم، جذبے اور استقامت کو دیکھ کر دنیا حیرت و استعجاب میں نظر آتی ہے جبکہ یہود کی محبت میں غرق ٹرمپ اور امریکی ایڈمنسٹریشن ایسے مخمصے میں پھنس چکے ہیں جو نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کے سواء کچھ نہیں۔ گزشتہ دس بارہ دنوں میں امریکی اسرائیل اکٹھ نے ایران کیخلاف جو قیامت برپا کی ہے، عالمی و انسانی اقدار کی دھجیاں بکھیری ہیں اقوام متحدہ، عالمی اداروں، ممالک تو کجا خود امریکہ میں ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کو عوامی رائے عامہ کی مخالفت اور ناراضگی کا سامنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو کے عشق اور مسلم دشمن پالیسیوں نیز عالمی برتری کے زعم میں ایران کو ہدف بنانے کا اقدام امریکہ خصوصاً ٹرمپ کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے جو نہ اگلتے بن رہا ہے نہ نگلتے۔ ٹرمپ کو تو امریکی عوام، دانشور، اور میڈیا ہذیان کا متاثر قرار دے رہے ہیں، ایران کے حوالے سے رجیم کی تبدیلی سے ایران کے سپریم کمانڈر کے انتخاب میں اپنی رضا مندی کی شرط کے بیانات ٹرمپ کی ہزیانی کیفیت کی مثال ہی تو ہے۔ امن کے قیام کا دعویٰ کرنے والا ٹرمپ اپنی غیر متنوع فطرت و حرکات کے سبب غیر مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور مڈ ٹرم الیکشن کی شکست کے خوف سے امن کی جگہ جنگ و جدل پر اُتر آیا ہے اور نیتن یاہو کے گریٹر اسرائیل مشن کی تکمیل میں نہ صرف خود آلۂ کار بنا ہو اہے بلکہ امریکی حربی، معاشی و ترقیاتی تاثر کو بھی ختم کرنے میں ذریعہ بن رہا ہے۔ امریکن ایڈمنسٹریشن اور ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران بھی وینز ویلا کی طرح چار روزہ جنگ کا بھی متحمل نہیں ہو سکے گا لیکن اسرائیل و امریکی قیامت خیزی اور ایرانی مذہبی، عسکری و سول قیادت کو ختم کرنے کے باوجود اب صورتحال یہ ہے کہ ایرانی عزم، استقلال جذبے و نظرئیے کے سبب اسرائیل کو بدترین تباہی و خوفزدگی کا سامنا ہے بلکہ دنیا کی سب سے مضبوط، مقتدر اور سیاہ و سفید کی مالک ریاست امریکہ کو بھی وقت پڑ گیا ہے۔ ایران پر بدترین حملوں، قتال، انسانیت سے بعید اقدامات کے باوجود عرب و خلیجی ممالک میں امریکی مفادات، اثاثوں اور اڈوں کی تباہی، برطانیہ و مغربی ممالک کا اس جنگ سے گریز اور دنیا بھر میں معاشی خصوصاً انرجی بحران یقیناً امریکی برتری اور انفرادیت کو بڑا دھچکا ہے۔
ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں آبنائے ہرمز کو بند کئے جانے کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ سچ ہی ثابت ہوئے ہیں۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہوگا جو بندش کے اثرات سے متاثر نہ ہوا، ہو۔ تیل کی پیداوار و ترسیل کے عرب و خلیجی ممالک نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں اور بیشتر ممالک یہ مطالبہ کر رہے ہیں امریکہ و اسرائیل اور ایران کی جنگ فوری ختم کی جائے ورنہ اس جنگ کے اثرات شدید نقصان اور درماندگی کا سبب ہونگے۔ قارئین اس تمام تر صورتحال سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ مضمرات کا شکار بن رہے ہیں، امریکہ سمیت ہر ملک مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، اسٹاک مارکیٹس کریش ہو رہی ہیں اور جنگ کے سبب نا امیدی سے دوچار ہیں۔
اس وقت جو صورتحال خصوصاً مشرق وسطیٰ اور خطے کے متعلقہ علاقوں کے ممالک کو درپیش ہے، ہمارے تجزئیے کے مطابق یہ یہود ونصاریٰ کے اس نظرئیے کے تناظر میں ہے جس کا حوالہ حضرت عیسیٰ کے آنے سے قبل آخری جنگ Aymagedon کے بارے میں ہے اور نیتن یاہو نے نہایت مکاری سے ٹرمپ کے توسط سے عرب، ایران و اسلامی ممالک کو زیر نگیں کرنے کیلئے یہ جال بچھایا ہے کہ گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو سکے جبکہ انکل سام کا مشن چین کے بڑھتے ہوئے معاشی و ترقی کے سفر سے خوف اور اس کا راستہ روکنا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے اس کھیل میں ہنود بھی شامل ہے۔ بہر حال یہ امر تو طے ہے کہ ایران و اسرائیل امریکہ جنگ ختم ہونے والی نہیں اور بہت ممکن ہے کہ امریکی و اسرائیلی اکٹھ کی اس سازش کے خلاف دنیا کی سیاست یونی پولر سے ملٹی پولر ہیئت اختیار کر لے، تاہم مسلم ممالک کو تقسیم کئے جانے کی سازشوں سے بچنا ہوگا۔ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here