کرکٹ کا فاتح!!!

0
6
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

قارئین کرام ، سید کاظم رضا نقوی کا سلام قبول فرمائیے۔ کھیل کے میدان سے خبریں تو آپ تک پہنچ ہی چکی ہوں گی کہ سن دو ہزار چھبیس کے عالمی بیس اوورز کے مقابلے کا تاج بھارت کے سر سج چکا ہے۔ یہ محض ایک جیت نہیں بلکہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اس خلیج کا اظہار ہے جہاں ایک طرف کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ہماری کرکٹ دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ نوے کی دہائی میں جو قومی ٹیم ایک ناقابل تسخیر قوت تھی، آج اس کا عکس بھی نظر نہیں آتا۔ اس تنزلی کی وجوہات بے شمار ہیں، مگر ناصر محمود صاحب کے تحریر کردہ ایک اقتباس سے اس صورتحال کی بہتر عکاسی ہوتی ہے جس میں انہوں نے فنون لطیفہ کے ماتھے کا جھومر، عاشر عظیم کا ذکر کیا ہے۔عاشر عظیم وہ نام ہے جو اسی اور نوے کی دہائی کے ناظرین کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔ ان کے تخلیق کردہ شاہکار دھواں اور فلم مالک نے اردو ڈرامہ و فلم کی تاریخ میں وہ نقوش چھوڑے جو مٹائے نہیں جا سکتے۔ وہ محض ایک اداکار نہیں بلکہ ایک بااصول سرکاری افسر بھی تھے، مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایسے ہی ہیروں کو مٹی میں رول دیا جاتا ہے۔ ان کی فلم مالک میں جب سیاست دانوں اور بااثر طبقات کے مظالم کو بے نقاب کیا گیا تو اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں وہ کینیڈا ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ المیہ صرف فن تک محدود نہیں بلکہ یہی طرز عمل ہماری کرکٹ کے میدان میں بھی سرایت کر چکا ہے جہاں باصلاحیت نوجوانوں کی قدر کرنے کے بجائے انہیں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔جس طرح عاشر عظیم جیسے قابل لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی، بالکل ویسا ہی سلوک ہماری کرکٹ کی انتخابی مجلس نووارد کھلاڑیوں کے ساتھ کرتی ہے۔ ایک عام تماشائی بھی سمجھ سکتا ہے کہ ٹیم کا توازن کیسے برقرار رکھا جاتا ہے، مگر بھاری بھرکم مشاہرے لینے والے عہدیدار اس سادہ سی بات سے عاری نظر آتے ہیں۔ ہماری ٹیم میں اب گروہ بندی، اقربا پروری اور بااثر شخصیات کے قریبی رشتہ داروں کی بھرمار ہو چکی ہے، جبکہ حقیقی فتح ہم سے روٹھ گئی ہے۔ پڑوسی ملک میں اگر ایک عظیم بلے باز کا بیٹا بھی ہو تو وہ سفارش کی بنیاد پر قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنا پاتا، مگر یہاں نالائق بھانجے، بھتیجے اور دامادوں کو ٹیم میں زبردستی شامل کر لیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یکطرفہ عبرت ناک شکست کی صورت میں نکلتا ہے۔موجودہ صورتحال میں ماہرین کرکٹ بھی عالمی اداروں کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے مایہ ناز کھلاڑی شین واٹسن نے عالمی کرکٹ کونسل کے قوانین پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ بین الاقوامی مقابلہ تھا تو اعزازات کا فیصلہ اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے تھا۔ ان کے بقول اگرچہ بھارتی کھلاڑی نے عمدہ کارکردگی دکھائی لیکن ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا حقدار پاکستان کا وہ بلے باز تھا جس نے دو سینچریوں سمیت سب سے زیادہ دوڑیں بنائیں، مگر عالمی ادارہ بھارت کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود ہماری شکست کی اصل وجہ ہماری اپنی نالائقی اور نااہلی ہی ہے۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب بڑے کھلاڑی رخصت ہوتے ہیں تو ان کا خلا پْر کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے گیند بازوں کے جانے کے بعد وہ جگہ آج تک خالی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نئے ہیرے تراشنے کا عمل رک گیا ہے؟ اگر آپ کے پاس اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب ہو تو ضرور مطلع فرمائیے گا۔ دعا ہے کہ پاکستان کرکٹ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرے اور پوری دنیا میں پھیلی ہوئی بے امنی اور جنگ و جدل کے بادل چھٹ جائیں تاکہ انسانیت کا لہو بہنا بند ہو۔ آمین۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here