امیر المومنین حضرت علی
کی شخصیت ایک
بے مثال نمونہ!!!
فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان کے اس روح پرور تذکرے میں امیر المؤمنین، امام المتقین، زبد الواصلین اور چہارم خلیفہ راشد حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی حیاتِ طیبہ کے درخشاں پہلوؤں کو نہایت عقیدت سے سمویا گیا ہے جن کی شہادت اکیس رمضان المبارک چالیس ہجری کو وقوع پذیر ہوئی۔ آپ کی تمام تر زندگی اسلام اور بانیِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیر مشروط محبت اور فداکاری کا ایک بے مثال نمونہ تھی جس کی عظمت و رفعت کے بیان سے انسانی زبان قاصر ہے کیونکہ آپ تاریخ انسانی میں مشکل کشا، درمندوں کی دوا، فاتحِ خیبر اور شاہِ زمن کے طور پر ابھرے۔ اسلام کے اس عظیم سپہ سالار کی شخصیت غیرتِ الہیٰ کی وہ شمشیر اور اسرارِ امامت کی وہ تعبیر ہے جس پر ملتِ اسلامیہ ہمیشہ ناز کرتی رہے گی۔تاریخی روایات کے مطابق حضرت عمرو بن حصین سے مروی ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی المرتضیٰ کی شان میں ارشاد فرمایا کہ بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ ہر صاحبِ ایمان کا دوست ہے، جس سے آپ کی قربتِ نبوی اور مقامِ ولایت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اسی تسلسل میں حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی المرتضیٰ سخت تپتی دوپہر میں موسمِ سرما کا لباس پہن کر تشریف لائے تو ان سے اس غیر معمولی عمل کی بابت دریافت کیا گیا، جس پر آپ نے انکشاف فرمایا کہ غزوہِ خیبر کے دوران جب میری آنکھوں میں شدید تکلیف تھی تو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن میری آنکھوں پر لگا کر بارگاہِ الہیٰ میں التجا کی کہ اے پروردگار! علی سے سردی اور گرمی کی تمازت کو دور فرما دے، چنانچہ اس دعا کی برکت سے آپ عمر بھر موسمی سختیوں سے بے نیاز رہے۔آپ کی زندگی سراسر معجزات اور فیوض و برکات کا سنگم رہی ہے، جیسا کہ کتبِ سیرت میں مذکور ہے کہ ایک بار جب آپ سخت علیل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادرِ مبارک میں ڈھانپ کر آپ کی صحت یابی کے لیے دعا فرمائی جس کے اثر سے آپ فی الفور تندرست ہو گئے اور آپ کو یہ بشارت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں وہی کچھ عطا کیا ہے جو نبی اکرم نے اپنے لیے اور آپ کے لیے طلب کیا تھا۔ ولادتِ باسعادت کا تذکرہ کیا جائے تو آپ حضورِ اکرم کی پیدائش کے تیس سال بعد خانہ کعبہ کی مقدس فضاؤں میں پیدا ہوئے اور یہ آپ کا منفرد اعزاز ہے کہ آپ کے منہ میں پہلی گھٹی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لعابِ دہن سے دی اور آپ کا نامِ نامی بھی خود منشائے نبوی کے مطابق تجویز کیا گیا۔
حیاتِ علی کا آخری مرحلہ بھی نہایت رقت آمیز اور نصیحت آموز تھا جب آپ نے زخمی حالت میں اپنے لختِ جگر حضرت امام حسن کو گریہ کناں دیکھ کر صبر کی تلقین کی اور انہیں وہ سنہری اصول بتائے جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ ہیں۔ آپ نے بصیرت افروز کلمات میں واضح کیا کہ سب سے بڑی دولت عقل، سب سے بڑی محتاجی حماقت، سب سے بڑی وحشت خود پسندی اور سب سے بہترین شے حسنِ اخلاق ہے، جبکہ نفع و نقصان کے حوالے سے احمق، جھوٹے، بخیل اور بدکردار شخص کی دوستی سے اجتناب برتنے کا درس دیا کیونکہ ایسا گروہ انسان کو فائدے کے بجائے ہمیشہ خسارے کی جانب دھکیلتا ہے۔
خلافت اور جانشینی کے حساس معاملے پر بھی آپ کا طرزِ عمل نہایت جمہوری اور فکری رہا، جب آپ سے امام حسن کی بیعت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے اسے امت کی صوابدید پر چھوڑتے ہوئے کسی جبر کے بجائے مصلحتِ عامہ کو ترجیح دی۔ آپ کی شخصیت جرات و بہادری، زہد و تقویٰ اور علم و عمل کا وہ شاہکار تھی جس نے حق کی خاطر اپنے پورے خاندان بشمول شہدائے کربلا کی قربانی پیش کر دی مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ آپ نے معاشی خود مختاری کے لیے محنت و مزدوری کو اپنا شعار بنایا اور رزقِ حلال کی ایسی مثال قائم کی جس میں حرام کی ادنیٰ سی آمیزش بھی نہ تھی، حتیٰ کہ فتنوں کے ہجوم میں بھی آپ حق کی بقا کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے اور آخر کار اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دینِ متین کی آبیاری فرمائی۔









