کراچی براستہ دوبئی!!!

0
4
عامر بیگ

جب سن انیس سو ستانوے میں برطانیہ نے طویل نوآبادیاتی عہد کے اختتام پر ہانگ کانگ کا انتظام چین کے سپرد کیا تو عالمی معاشی ایوانوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا۔ اس نازک موڑ پر بہت سے کثیر القومی تجارتی ادارے اس شش و پنج میں مبتلا تھے کہ ایشیا میں اپنے علاقائی صدر دفاتر کہاں منتقل کیے جائیں۔ بعض ماہرینِ معیشت کی نظر میں اس وقت کراچی ایک مثالی تجارتی مرکز کے طور پر ابھر سکتا تھا کیونکہ پاکستان کا یہ معاشی قلب جغرافیائی اعتبار سے جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی گزرگاہوں کے عین سنگم پر واقع ہے۔ اسی پس منظر میں سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ موقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ خطے میں معاشی برتری حاصل کرنے کی تگ و دو نے کئی پسِ پردہ محرکات کو جنم دیا۔ ان دعوؤں کی بنیاد پر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ کراچی کے امن و امان کو سبوتاڑ کرنے کے لیے مختلف اندرونی اور بیرونی قوتیں متحرک رہیں، جس کے نتیجے میں شہر کو لسانی اور سیاسی خلفشار کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ اس بیانیے کے حامیوں کا پختہ یقین ہے کہ اگر کراچی استحکام کی راہ پر گامزن رہتا تو عالمی سرمایہ کاری کا رخ اس جانب ہوتا، جس سے ملکی معیشت کو غیر معمولی توانائی ملتی۔اسی دوران خطے کے نقشے پر ایک اور معاشی مرکز یعنی دبئی نے برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کیں۔ متحدہ عرب امارات کے اس متحرک شہر نے آزاد تجارتی مراکز، جدید بندرگاہوں اور اعلیٰ معیار کی سہولیات کے ذریعے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو اپنی جانب مائل کیا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ کراچی کے حالات میں بگاڑ اسی مسابقت کا شاخسانہ تھا، کیونکہ عالمی سرمایہ ہمیشہ ان مقامات کو ترجیح دیتا ہے جہاں قانون کی بالادستی اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول میسر ہو۔ بعد ازاں جب گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کو ترقی دینے کا منصوبہ سامنے آیا، تو اسے بھی خطے کی معاشی سیاست کے تناظر میں دیکھا گیا۔ بلوچستان میں بدامنی اور شورش نے اس اہم منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا، حالانکہ گوادر اپنی قدرتی گہرائی کے باعث عالمی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جہاں بڑے بحری جہاز براہِ راست لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات کی خاطر مختلف خطوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں، مگر کسی بھی قوم کی حقیقی قوت اس کے داخلی استحکام، مضبوط اداروں اور شفاف پالیسیوں میں پنہاں ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے ساحلی شہروں، بالخصوص کراچی اور گوادر کو امن و ترقی کا گہوارہ بنا لے تو یہ نہ صرف ملکی خوشحالی بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج بھی کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بندرگاہیں و صنعتیں ملکی معیشت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع معاشی امکانات موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لانے کے لیے دانش مندانہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور وہاں کے خوشحال طبقے ہنگامی بنیادوں پر کراچی منتقلی کی راہیں تلاش کر رہے ہیں، تو یہ ان عناصر کے لیے ایک بڑا سبق ہے جو دبئی کی تعمیر کے لیے کراچی کو تخریب کا نشانہ بناتے رہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست کی بساط نہایت پیچیدہ ہوتی ہے، مگر اقوام کی تقدیر بالآخر ان کی اپنی بصیرت، اتحاد اور انتھک محنت سے ہی سنورتی ہے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here