آقائے کائنات کے چند مشاہیر اجدادِ کرام!!!

0
5

آپ کی انہیں قابلِ قدر خوبیوں کا بین اثر تھا کہ پورا عرب آپ کا بے حد احترام کرتا تھا اور دوست تو دوست دشمن بھی آپ کی عظمت شان کے سامنے سربہ خم رہا کرتا تھا۔ آپ کی غیر معمولی مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا یہ عالم تھا کہ مکہ والوں پر جب بھی کوئی مصیبت ناگہانی آتی یا قحط سالی کا حملہ ہوتا تو مکہ والے آپ کو وسیلہ بنا کر خداوند قدوس کی بارگاہ میں دعائیں کرتے تو فوراً مصیبت ٹل جاتی اور قحط سالی سے نجات مل جاتی۔حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ احسان تا قیامت فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ آپ ہی نے چاہِ زم زم کی اس طرح نشاةِ ثانیہ فرمائی کہ اسے از سر نو کھدوا کر درست کیا اور قیامت تک کے لئے مقدس و شفا بخش آبِ زم زم سے سیرابی کی سبیلیں ہموار فرمائیں۔ واضح رہے کہ حضرت ہاشم اور جنابِ مطلب کے بعد خانہ کعبہ کی تولیت و سجادی آپ میں منتقل ہوئی اور ساتھ ساتھ آبِ زم زم کی سقایت کے عظیم منصب پر بھی آپ تادمِ حیات فائز رہے۔ انتہائی سبق آموز اور درس خیز واقعہ فیل بھی آپ ہی کے دور میں رونما ہوا۔ اصحابِ سیر اور مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ فیل محسنِ انسانیت سرکارِ ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کے ٹھیک پچپن دن پہلے وقوع پذیر ہوا۔ قرآنِ مقدس میں ربِ کائنات نے سورہ فیل میں اس واقع کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
واقعہ اصحابِ فیل کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ابرہہ نامی یمن کے بادشاہ کی آنکھوں میں خانہ کعبہ کی عظمت و حرمت خاروں کی طرح کھٹکتی تھی۔ اس کے دل میں بغض و حسد کی آگ اس قدر تیز ہوئی کہ اس نے خانہ کعبہ کے مدِ مقابل یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک انتہائی پرشکوہ عمارت بنائی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ بجائے خانہ کعبہ کے اس کی بنائی ہوئی عمارت میں جوق در جوق آئیں اور اس کا طواف کریں اور اس کا احترام بجا لائیں تاکہ اس کی واہ واہی ہو اور لوگوں کے دلوں سے خانہ کعبہ کی عظمتیں کالعدم ہوجائیں۔ زرقانی علی المواہب جلد اول کی روایت کے مطابق جب یہ بات مکہ مکرمہ میں مشتہر ہوئی تو قبیلہ کنانہ کے ایک شخص کے سینے میں غم و غصہ کی ایسی لہر دوڑی کہ وہ فرطِ غیظ و غضب میں یمن جا کر ابرہہ کے بنائے ہوئے گرجا کو نجاست آلود کر دیا۔ جب یہ بات ابرہہ کو معلوم ہوئی تو وہ مارے غصے کے اس کی بھنویں تن گئیں اور اس کا جوشِ انتقام طشت از بام ہوگیا اور اس نے اپنی ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خانہ کعبہ کے انہدام کا برملا اعلان کر دیا اور ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ مکرمہ پر دھاوا بول دیا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here