مشرق وسطیٰ میں امن کا سراب اور پوشیدہ حقیقت!!!

0
13

رواں برس دو جون کی تاریخ دنیا کو ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے مابین شدید کشیدگی کے اسی دوراہے پر لے آئی ہے جہاں ایک طرف جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں اور دوسری طرف امن کی منافقانہ کوششوں کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی چمکدمک اور بڑی سرخیوں کے پیچھے چھپا اصل کھیل ہمیشہ کی طرح مظلوموں کے خون سے کھیلا جا رہا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین بظاہر دکھائی دینے والی تلخی یا رہنماؤں کی باہمی گالی گلوچ محض ایک سیاسی ڈراما اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ذریعہ ہے، کیونکہ جب بات خطے پر تسلط کی اتی ہے تو یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں تہران نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے بالواسطہ مذاکرات کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنے تمام تر وعدوں کے برعکس جنوبی لبنان میں وحشیانہ جارحیت اور فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ یہ مذاکرات کا تعطل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر اپنے سماجی رابطے کے پبلک پلیٹ فارم پر مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بات چیت انتہائی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک ایسا شخص جس کی پوری زندگی سرمایہ دارانہ جھوٹ پر مبنی رہی ہو، اس کے دعووں پر خطے کی وہ اقوام کیسے بھروسا کر سکتی ہیں جنہوں نے چار دہائیوں سے سامراجی غنڈہ گردی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر رکھا ہے۔
اس سیاسی ڈرامے کا سب سے عبرت ناک پہلو اس وقت دیکھنے کو ملا جب امریکی قیادت کی جانب سے اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا، مگر اس اعلان کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان کے بارہ سے زائد دیہات اور قصبوں کو اپنی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنا ڈالا۔ سڑکوں پر چلتی گاڑیوں اور شہری دفاع کے مراکز پر حملے کر کے معصوم انسانوں کا خون بہایا گیا اور اسی تباہی کو مغربی دنیا امن کے امریکی ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے۔ خطے سے آنے والی صحافتی رپورٹس یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو شدید ترین مغلظات بکیں اور انہیں پاگل قرار دیا، لیکن اس پورے سکرپٹ میں یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا جواب کیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میدان جنگ کی صورتحال گواہی دے رہی ہے کہ اسرائیل نے امریکی قیادت کی ان باتوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے اور وہ مسلسل لبنانی سرزمین کو خاک و خون میں ملا رہا ہے۔ ایسے میں ان مغربی رپورٹس کو محض تفریح سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ اس جارحیت کے جواب میں لبنانی مزاحمتی قوتوں نے خاموش بیٹھنے کے بجائے بھرپور دفاعی کارروائی کی ہے اور قابض افواج کے ڈیڑھ سو سے زائد ٹینکوں کو تباہ کر کے ان کی پیش قدمی کو روک دیا ہے۔ مغربی دنیا کے لیے اپنے وطن کی مٹی کی خاطر لڑنے والوں کو دہشت گرد کہنا ہمیشہ سے آسان رہا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ جو کام بیروت کی حکومت اور فوج کو کرنا چاہیے تھا، وہ اب صرف یہ مصلح گروپ کر رہا ہے۔
اس ابھرتے ہوئے بحران کے دوران ایران کی جانب سے یہ نظریاتی اعلان سامنے آیا ہے کہ مسلمانوں کا خون ایک ہے اور اگر اسرائیل نے اپنی یہ جارحیت بند نہ کی تو تہران نہ صرف مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دے گا بلکہ براہ راست صیہونی حکومت کے خلاف محاذ کھول دے گا۔ اگرچہ تہران کے بیانات میں بھی ایک بڑی للکار دکھائی دیتی ہے، مگر تاحال زمین پر کوئی بڑی کارروائی یا میزائلوں کی بارش دیکھنے کو نہیں ملی جو اسرائیلی بمباری کا شکار بننے والے معصوم عوام کو فوری ریلیف فراہم کر سکے۔ اسی دوران واشنگٹن میں لبنانی سفارت خانے کی جانب سے ایک انتہائی مضحکہ خیز امریکی تجویز پیش کی گئی جس کے تحت بیروت کے جنوبی حصوں پر حملے بند کرنے کے بدلے شمالی اسرائیل پر حملے روکنے کی بات کی گئی ہے۔ اس نوآبادیاتی سوچ کی انتہا دیکھیے کہ اس پورے معاہدے میں جنوبی لبنان کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے جہاں اصل تباہی مچائی جا رہی ہے۔ یہ دراصل پورے ملک کو قربان کر کے محض ایک مخصوص علاقے کو بچانے کا مکرر کھیل ہے جسے مزاحمتی قوتوں نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے پورے ملک کے لیے جامع جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل اس وقت جنوبی لبنان پر مستقل قبضے کی کوشش میں ہے اور اگرچہ اسے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک تاریخی پہاڑی قلعے پر علامتی کامیابی ملی ہے، مگر اب وہاں سے بھی اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں واپس لوٹنا شروع ہو گئی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں جب بھی اسرائیل نے لبنان پر چڑھائی کی، ہر جنگ کے بعد یہاں کی مزاحمتی تحریک پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم ہو کر ابھری ہے۔ اسرائیل کا یہ خیال بالکل خام تھا کہ ایران پر حملوں سے بیروت کی ان قوتوں کو ملنے والی امداد بند ہو جائے گی۔ آج اسرائیل خود ایک ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے جہاں اس کے اندرونی فیصلے انتہا پسند نظریاتی گروہ اور بیرونی دباؤ طے کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی اپنی خودمختاری ختم ہو چکی ہے۔ مغرب کا نام نہاد امن کا ایجنڈا دراصل ایک نئے استعمار کا نام ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے وسائل پر قبضہ کرنا اور عوام کو غلام بنانا ہے۔ مغربی میڈیا ہمیشہ اسرائیل کے دفاعی حق کا راگ الاپتا ہے لیکن جنوبی لبنان کے اس کسان کا سوال دبا دیا جاتا ہے جس کا گھر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، یا اس ماں کا درد چھپا دیا جاتا ہے جس کا بچہ گود سے چھن گیا۔ آنے والے دن انتہائی اہم ہیں کیونکہ اب گلوبل ساؤتھ یعنی تیسری دنیا کے عوام بیدار ہو رہے ہیں اور وہ جان چکے ہیں کہ ان جھوٹے مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ اب فیصلہ اس بات پر ہو گا کہ کیا مظلوم اقوام اپنے حقوق کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتی ہیں یا استعماری طاقتیں اپنے پرانے ہتھکنڈوں سے انہیں ایک بار پھر کچلنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here