امریکی دو پارٹی سسٹم کی اجارہ داری !!!

0
14
رمضان رانا
رمضان رانا

ماضی میں سابقہ سوویت یونین، چین اور دوسرے ترقی پسند ملکوں میں ون پارٹی سسٹم اپنایا گیا تھا جس کو کمیونسٹ پارٹیوں کا نام دیا گیا تھا جن کا خیال تھا کہ روس، چین اور دوسرے اشتراکی یا اشتمالی ممالک میں بادشاہوں، جابروں، اجارہ داروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں کے خلاف اشتراکی انقلاب کو جمہوریت کے نام پر ناکام نہ ہونے دیا جائے جو ایک غلط نظریہ تھا جس کے خلاف استحصالی اور سامرابی طاقتوں کو سازشوں کا موقع ملا کہ اشتراکیت اور اشمالیت پسند ملکوں میں ون پارٹی سسٹم سے عوام کی حاصل کردہ آزادی دبا دی گئی ہے جو کسی حد تک صحیح بھی تھا جس کے خلاف عوام میں ردعمل آئے جس کی جگہ شوشل ڈیموکریسی نے لے لی جو آج دنیا بھر کے ممالک میں پائی جاتی ہے۔ روسی اور چینی نظام حکومت کے نقش قدم پر چل کر برطانیہ اور امریکہ نے بھی دو پارٹی سسٹم اجارہ داری نظام اپنا لیا جس کے خلاف مختلف گروہوں، تنظیموں کی شکل میں ردعمل آرہا ہے کہ آج برطانیہ میں رفارمسٹ کے نام پر تبدیلی آئی ہے جس نے موجودہ بلدیاتی انتخابات میں موجودہ لیبر پارٹی اور کنزرٹیو پارٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے یہی حال اب امریکہ میں ہو را ہے کہ جس کی دو پارٹی نظام حکومت کو شوشلسٹ نظریات کے حامیوں سے رابطہ بڑ چکا ہے کہ ابھی فی الحال ڈیموکریٹ پارٹی جو اپنے آپ کو لیبرل کے نام پر بیوقوف بنا رہی تھی اس کے اندر شوشلسٹ ڈیموکریٹ لوگ مضبوط ہو رہے ہیں جو آج سینٹر برنی، سینٹر الزبتھ وارن، میئر نیویارک ممدانی کی شکل میں رہنمائی کر رہے ہیں کہ جنہوں نے ورمائنٹ کے بعد نیویارک شہر میں انقلاب برپا کردیا ہے کہ دنیا کا ساتواں بجٹ کے لحاظ سے ملک کا ایک شوشلسٹ میسر ممدانی منتخب ہوچکا ہے جو اب اپنے شہر کے کانگریس کے پرائمری انتخابات میں امیدواروں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے جو شوشلزم کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں کہ ہم اپنی عوام کے بنیادی مسائل حل کریں گے جس میں عوام کو فری میڈیکل، تعلیم، صحت کے انتظامات کرائیں گے وہ نظام جو روس میں ناکام بنا دیا گیا تھا اس کا آغاز امریکہ سے ہونا جارہا ہے۔بلاشبہ امریکہ میں جمہوریت مضبوط ہے کہ جس میں صدر کانگریس، گورنرز، ریاستی اسمبلیوں، ریاستی اٹارنی جنرلوں، ججوں، اسکول بورڈوں کے ممبران اور دوسرے اداروں کے عہدیداران کے انتخابات منعقد ہوتے چلے آرہے ہیں جو شاید دنیا کی سب سے بڑی ڈیموکریسی جائے مقام ہے مگر امریکہ میں صرف دو پارٹیوں ڈیموکریٹ پاٹری اور ریپبلکن پارٹی دو صدیوں کی اجارہ داری بن چکی ہے جن کے خلاف کوئی تیسری قوت نہیں پائی جاتی ہے جو دو پارٹیوں کی اجارہ داری کو ختم کرکے ملک پر دنیا کا بدترین سرمایہ داری نظام کو لگام دے پائے جس کا آغاز اب نیویارک شہر سے ہوچکا ہے کہ آج نیویارک اور دوسری ریاستوں میں ترقی پسندوں کی آواز بلند ہو رہی ہے جو آئندہ توجہ کے انتخابات میں ابھر کر سامنے آرہے ہیں جن کا خطرہ عوامی شوشلزم ہے جس کو امریکہ میں گانی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا کہ جس سے امریکی عوام کو خوف زدہ رکھا گیا کہ کئی لوگ خطرناک ہوتے ہیں۔جو انقلاب کے ذریعے آپ کو قتل کردیں گے۔ یہ لوگ باغی ہیں جس کے نام پر امریکہ میں ہزاروں دانشوروں، پروفیسروں، مصّنفوں، ادیبوں، لکھاریوں اور سیاستدانوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا کہ یہ لوگ باغی ہیں جو ملک میں شوشلزم کے نام پر بغاوت برپا کرنا چاہتے ہیں حالانکہ شوشلسٹ طبقہ عوام کے حقیقی دوست تھے آج امریک میں بعض ریاستوں میں شوشل ڈیموکریسی کا نعرہ بلند ہو رہا ہے جس میں عوام یونیورسل ہیلتھ، تعلیم اور دوسرے بنیادی مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی نمائندگی کے لئے شوشلسٹ نظریات کے لوگ سامنے آرہے ہیں جسکا مظاہرہ مشین گن، نیویارک، ورمائنٹ، کیلیفورنیا اور دوسری بڑی ریاستوں میں ہو رہا ہے جس میں خوش قسمتی سے مسلمان امریکن پیش پیش ہیں جو گمراہی کی وجہ سے ماضی میں شوشلسٹوں کو کافر قرار دیا کرتے تھے ان کو شاید ایک صدی کے بعد پتہ چلا ہے کہ شوشلسٹ نظام سے عوام کے زیادہ مسائل حل ہوتے ہیں جس میں مذہب کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جو صرف اور صرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں، اجارہ داروں کے خلاف ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here