ڈاکٹر بشیر بدر : شاعرِ عصرِ حاضر!!!

0
12
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

بعض شاعر کئی کتابیں لکھ کربھی شاعر نہ بن سکے اور زندگی میں ہی مر گئے۔ اْن کے مرنے کے بعد اْن کا نہ نام اور نہ ہی کام زندہ رہا۔ بعض ایسے بھی خوش قسمت ہیں کہ اْن کا نام اْن کے ایک شعر کی بدولت اْنہیں امر کر گیا۔ چند اشعار بطور مْشتے از خروارے پیش کرتا ہوں۔ مومن خان مومن کا شعر ہے!
وہ مرے پاس ہوتے ہیں گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
جب مرزا غالب نے یہ شعر سْنا تو بے ساختہ کہا۔ مومن خان مومن میرا پورا دیوان لے لیں اور مجھے یہ شعر عطا کر دیں۔ گویا اِس شعر کی خْوبی کا مرزا غالب پر اتنا اثر ہوا۔ میر انیس کا شعر ہے!
انیس دم کا بھروسا نہیں زمانے میں
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
الطاف حسین حالی کا شعر ہے!
اک عْمر چاہئیے کہ گوارا ہو نیشِ عشق
رکھّی ہے آج لذّتِ زخمِ جگر کہاں
مولانامحمد علی جوہر کا شعر ہے!
قتلِ حسی?ن اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
جوش ملیح آبادی کہتے ہیں!
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حسین
میرے دوست شعیب بن عزیز کا شعر ہے!
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اِس طرح تو ہوتا ہے، اِس طرح کے کاموں میں
پروین شاکر کا شعر ہے!
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اْس نے
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی
سبطِ علی صبا کا شعر ہے!
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیئے
قمر صدیقی کا شعر ہے!
افلاس نے بچوں کو بھی تہذیب سکھا دی
سہمے ہوئے رہتے ہیں، شرارت نہیں کرتے
میرا ایک شعر ماشاء اللہ میرے دوستوں میں بہت مقبول ہوا حالانکہ یہ شعر چند دوستوں کے منافقانہ رویہ کے بارے میں تھا۔ خدا کا شکر کہ وہ تفہیمِ شعر سے عاری تھے ورنہ میری وہ خوب گوشمالی کرتے۔ شعر یوں ہے!
ہم کو تو ہر اک دوست دغا دے کے گیا ہے
تم دوست اگر ہو تو دغا کیوں نہیں دیتے
اسی طرح کئی اشعار ہیں جو اْن شاعروں کے تعارف کے لیے کافی ہیں۔!
ڈاکٹر بشیر بدر کا یہ شعر اْنہیں امر کر گیا ہے
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
میں بذاتِ خود اِس شعر سے بہت متاثر ہوں اور یہ شعرمیرے چند پسندیدہ اشعار میں سے ہے۔ ممتاز ادبی دانشور پروفیسر سیّد اظہار الحسن بخاری نے اپنی تصنیف کا عنوان ” اجالے اپنی یادوں کے” رکھا ہے۔ چند ماہ قبل اس کتاب کی تقریبِ رْونمائی اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ہوئی جس کی صدارت کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔ میں نے صدارتی تقریر کا آغاز ڈاکٹر بشیر بدر کے اسی شعر سے کیا اور اْن کی شاعری پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔
بشیر بدر عصرِ حاضر کے نامور، مقبول، معتبر اور مستند شاعر تھے۔ وہ مشاعروں کی زینت تھے۔ اْن کی شاعری ایسے ہی سلیس و سادہ ہے جیسے وہ خود ایک سادہ انسان تھے۔ اْن کی شاعری سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے۔ گو اْن کی زیادہ تر شاعری روایتی اور رومانوی ہے مگر اْن کا اسلوب رواں اور اشعار مترنّم ہیں۔ اْن کی شاعری فطری اور وجدانی ہے۔ آمد ہی آمد ہے۔ آورد سے دْور، بْقع? نْور اور چراغِ طْور ہے۔ اْن کی شاعری میں موسیقیّت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ اردو شاعری میں میر تقی میر، مرزا غالب، علامہ اقبال، فیض احمد فیض ، عبد الحمید عدم، ساحر لدھیانوی، اختر شیرانی اور احمد فراز کی شاعری موسیقیّت سے بھر پْور ہے۔ بشیر بدر کی شاعری بھی موسیقّت سے لبریز اور دل آویز ہے۔ میری نظر میں عصرِ حاضر میں بھارت میں اردو کے جو چند بڑے شعراء ہیں بشیر بدر اْن میں سرِ فہرست ہیں۔ استاد فوق لدھیانوی کا شعر ہے
مدفون کتنی صدیوں کے اب تک حیات ہیں
انسان مر بھی جائے تو مرتا نہیں ہے فن
بشیر بدر کی زندگی میں ہی اْن کی شاعری کے مجموعے شائع ہوئے۔ ” کوئی شام گھر رہا کرو”، آمد” اور ” مجھے بادل کر دو” بہت مقبول ہوا۔ ” کلیاتِ بشیر بدر” بھی اْن کی زندگی میں شائع ہوئی جس کے سرنامہ پر” شاعرِ اعظم” لکھا ہوا ہے۔ میری نظر سے اْن کا کلام گزرا ہے۔
گو اْن کی شاعری زیادہ تر رومانوی ہے مگر اِس میں زندگی کے حقائق پر بھی گہری نظر ہے۔ بعض اشعار تو سماجی زندگی کے عکّاس ہیں اور حکمت کے خزینے ہیں۔ کہتے ہیں
پرکھنا مت، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر میں ملا، دریا نہیں رہتا
دونوں اشعار کے پہلے مصرع میں نصیحت ہے اور دوسرے مصرع میں جوازِ نصیحت ہے۔ یہ مقام صرف اساتذہ کا مقدّر ہے۔ فارسی شاعری میں غنی کاشمیری کے اکثر اشعار میں یہی اسلوب پایا جاتا ہے۔ ایک مصرع میں دعوٰی اور دوسرے مصرع میں دلیل۔ کہتے ہیں
غنی روزِ سیاہے پیرِ کنعاں را تماشا کْن
کہ نْورِ دیدہ اش روشن کْند چشمِ زلیخا را
مرزا غالب کی شاعری اور زندگی خود داری و خود شناسی کی آئینہ دار ہے۔ کہتے ہیں
وہ اپنی خْو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
اِسی خودداری کا مظاہرہ بشیر بدر کے اِن اشعار میں ملاحظہ کریں۔ کہتے ہیں
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں
جو چھوڑ دیا پھر اْسے مْڑ کر نہیں دیکھا
٨٢ مئی ٦٢٠٢ کو یہ آفتابِ شاعری پسِ ابرِ نہاں ہو گیا مگر اِس کی آب و تاب سے اردو شاعری تابندہ ہے۔ اپنی موت کے بارے میں کہہ گئے تھے
دو چار دن کی بات ہے ، دل خاک میں سو جائے گا
جب آگ پر کاغذ رکھا باقی بچا کْچھ بھی نہیں
لیکن باقی بہت کْچھ بچا ہے۔ اْن کی ولولہ انگیز شاعری دْنیائے ادب میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ بقولِ علامہ اقبال
مرنے والوں کی جبیں روشن ہے اِس ظْلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here