انسان جب دنیا میں آتا ہے تو سب سے پہلے جس حصار میں خود کو محفوظ پاتا ہے، وہ خاندان ہوتا ہے۔ یہی وہ دائرہ ہے جہاں محبت بے غرض، تعلق بے حساب اور قربت بے لفظ ہوتی ہے۔ خاندان محض چند رشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو شناخت، تحفظ اور وابستگی عطا کرتا ہے۔ جب رشتوں اور روایت کی بات ہو تو ذہن میں اپنے گھر کا وہ نقش ابھرتا ہے جس کی بنیاد میرے والد مرحوم سید عبدالجبار نے رکھی تھی۔ انہوں نے خاندانی روایات کو صرف قائم ہی نہیں رکھا بلکہ انہیں عملی زندگی میں جی کر بھی دکھایا۔ وہ دوسروں کے کام آنے کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے تھے۔ کوئی ضرورت مند ہو یا کسی کو سہارا درکار ہو، وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے کیونکہ ان کے نزدیک انسانیت ہی سب سے بڑا رشتہ تھی۔ تعلیم کے معاملے میں بھی ان کا کردار قابلِ تقلید تھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کی بلکہ اپنے بڑے بھائی کے بچوں، گھریلو ملازمین اور اپنے دفتر کے ڈرائیور، مالی، چوکیدار اور نائب قاصدوں کے بچوں کی تعلیم کا بھی بیڑا اٹھایا۔ وہ خود انہیں اسکولوں میں داخل کرواتے اور ان کے تمام اخراجات برداشت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہی بچے تعلیم یافتہ ہو کر معاشرے کا باوقار حصہ بن چکے ہیں اور انہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔ میری والدہ نے بھی ان روایات کو محبت اور خلوص سے جلا بخشی۔ پڑوس ہو یا رشتہ دار، کسی کے بچے کی بیماری کی صورت میں وہ رات بھر جاگ کر تیمارداری کرتیں، گھر والوں کو حوصلہ دیتیں اور ہر ممکن مدد فراہم کرتی تھیں۔ علاقے میں کسی ضرورت مند خاندان کی بچی کی شادی کے لیے وہ خود مکمل جہیز تیار کر کے دیتیں کیونکہ ان کے لیے بھی رشتہ صرف خون کا نہیں بلکہ انسانیت کا تھا، اسی لیے پشاور کینٹ ان کے لیے ایک خاندان کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ پائیدار اقدار ہیں جو ہمارے خاندانی نظام کو وسعت دیتی ہیں اور یہی ہماری وہ تہذیبی پہچان ہے جہاں رشتے نبھائے جاتے ہیں اور روایتیں زندہ رکھی جاتی ہیں۔
اسی خاندانی اہمیت کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے 1994 میں 15 مئی کو خاندان کا عالمی دن قرار دیا تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ خاندان ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا بدلتا ہوا معاشرہ اس مضبوط بنیاد کو کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ دور کی گوناگوں مصروفیات، ابلاغ کے جدید ذرائع اور معاشی دباؤ نے رشتوں میں دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے خاندانی نظام کی اہمیت کو دوبارہ سمجھیں، گھروں میں مکالمے کی فضا بحال کریں، بزرگوں کے تجربات سے رہنمائی حاصل کریں اور نئی نسل کو رشتوں کی اصل قدر سکھائیں کیونکہ حقیقی ترقی صرف مادی سہولتوں کا نام نہیں بلکہ مضبوط انسانی تعلقات کا نام ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب رشتے مضبوط ہوتے ہیں تو روایتیں زندہ رہتی ہیں، اور جب روایتیں زندہ رہیں تو معاشرہ اپنی پہچان برقرار رکھتا ہے کیونکہ مضبوط خاندان ہی ایک مستحکم اور باوقار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔















