روایتی سیاست اور نئے صوبے!!!

0
13
شبیر گُل

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد سے مسلسل یہ نوید سنائی جا رہی ہے کہ یہ ملک بے پناہ معدنی ذخائر سے مالامال ہے۔ سونا، چاندی، تانبا، تیل، گیس، کوئلہ، قیمتی پتھر، نمک اور گرینائٹ کے سینکڑوں میل پر محیط ذخائر یہاں موجود ہیں۔ آئے روز عوام کو یہ خوشخبریاں بھی دی جاتی ہیں کہ ملک میں آٹھ ٹریلین ڈالرز کے معدنیات دریافت ہو گئے ہیں، اربوں روپے کا تیل نکل آیا ہے، سو سال کے لیے گیس کے ذخائر مل گئے ہیں اور ٹریلینز ڈالرز کا سونا دریافت ہوا ہے۔ عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انھی دلاساں کے سہارے ملکی تقدیر بدلنے کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں لیکن عملی طور پر حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور یورپ میں مقیم سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بھی حالات دن بدن مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکمران ہوں، سابقہ ادوار کے سیاست دان یا فوجی آمر، کسی نے بھی عام آدمی کی معاشی مشکلات کم کرنے پر توجہ نہیں دی۔ بیروزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کے بجائے ملک کو معاشی جمود اور بدامنی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
کسی بھی محکمے میں عوامی بہبود کا کوئی جامع پروگرام نظر نہیں آتا اور چالیس پچاس سال پہلے اقتدار پر قابض رہنے والے خاندان ہی آج بھی مسندِ اقتدار پر براجمان ہیں۔ مقتدر حلقوں کی مبینہ سرپرستی میں انھی روایتی عناصر کو مسلسل قوم پر مسلط کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد تیزی سے یورپ اور دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام انتہائی محنتی ہیں اور وہ دنیا میں جہاں بھی جائیں، اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اپنا مقام بناتے ہیں اور خطیر زرمبادلہ بھیج کر ملک کی خدمت کرتے ہیں لیکن ملک کے اندر ایسے عناصر کا غلبہ ہے جنہوں نے عوامی حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے۔ ملکی دولت لوٹ کر سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کیا جا رہا ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مقتدر طبقات نے وطنِ عزیز کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ان سیاسی لٹیروں اور مقتدر اشرافیہ کی بدعنوانی کو دیکھ کر معاشرے کے ہر طبقے میں کرپشن سرایت کر چکی ہے، جس کے باعث تاجر، فیکٹری مالکان اور سرکاری ملازمین کی اکثریت اس بوسیدہ نظام سے فائدہ اٹھا رہی ہے جبکہ محنت کش مزدور اور متوسط طبقہ مسلسل پیس رہا ہے۔
ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف گامزن ہے اور عوام کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹھے مراعات یافتہ طبقات مفت بجلی، گیس اور تیل کی سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور اس کا تمام تر بوجھ غریب عوام پر لاد دیا گیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ایک دن گیس کی قیمت سو روپے بڑھا کر اگلے دن تین روپے کم کی جاتی ہے اور اسے ایک ریلیف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ شریف خاندان، زرداری خاندان، فضل الرحمن، متحدہ قومی موومنٹ اور ان کے حواری اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے ہر ادارے میں مبینہ طور پر رشوت کے عوض بھرتیاں کر رہے ہیں جبکہ صحافیوں کے منہ پلاٹوں اور مراعات کے ذریعے بند کر دیے گئے ہیں۔ میرٹ کو پامال کر دیا گیا ہے جس سے نوجوان اس نظام سے مایوس ہو چکے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں معالجین کا رویہ دن کے وقت انتہائی سرد ہوتا ہے لیکن شام کو اپنے نجی کلینکس میں وہ بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پورا نظام مقتدر طبقات کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں ملاوٹ اور کرپشن کو ایک کلچر بنا دیا گیا ہے۔ گندم، چینی اور چاول پیدا کرنے والا ملک آج اپنے عوام کو سستا اناج فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
ہم ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود کسی جامع زرعی پالیسی سے محروم ہیں جبکہ نجی بجلی گھروں کے معاہدوں نے عوام پر بلوں کا بوجھ بڑھا کر ان کا کچومر نکال دیا ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے کپاس اور فولاد کی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور ان بجلی گھروں کے کرتا دھرتا طاقتور سیاسی مافیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان چمڑے، جراحی کے آلات، فٹ بال، دستانے اور کپڑے کی صنعت میں بین الاقوامی سطح پر ایک خاص مقام رکھتا ہے لیکن کرپٹ اشرافیہ اور موجودہ سیاسی قیادت کی وجہ سے ہم عالمی منڈی میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو ہمارا حق تھا۔ پڑوسی ممالک افغانستان اور بھارت میں چینی، پیاز، آلو اور تیل کی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں بہت کم ہیں، وہاں تیل کی قیمت پاکستانی روپوں کے حساب سے بہت کم ہے جبکہ یہاں حکمران عوام پر ظلم کرتے ہوئے تیل چار سو روپے لیٹر سے بھی زائد قیمت پر بیچ رہے ہیں۔ ایک طرف عوام کو لوٹا جا رہا ہے اور بیرونی قرضے لیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف گڈ گورننس کے کھوکھلے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان پانچ دہائیوں کی بدامنی اور جنگی ماحول کے باوجود معاشی طور پر مستحکم ہے جبکہ ہمارے ہاں قانون کی پامالی کا راج ہے۔
حالیہ دنوں میں ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی ایک مہم چل نکلی ہے جس پر پیپلز پارٹی، ن لیگ، تحریکِ انصاف اور مولانا فضل الرحمن کو شدید تحفظات ہیں۔ موجودہ سیاسی گدھ عر?صہ دراز سے رائج اس نظام سے فائدے حاصل کر رہے ہیں، اس لیے مزید صوبوں کا قیام ان کے لیے تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میں بھی اصلاحات لائی جانی چاہئیں تاکہ حقیقی نمائندے ہی اسمبلیوں میں پہنچ سکیں اور من پسند لٹیروں اور الیکٹیبلز پر مشتمل جعلی اسمبلیاں وجود میں نہ آئیں جن کے بعد انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جائیں۔ صوبوں کی تقسیم سے پہلے مقتدر حلقوں کو اپنے آئینی دائرہ کار تک محدود ہونا چاہیے تاکہ ملکی خزانہ، قدرتی وسائل اور عوامی حقوق محفوظ رہ سکیں، فوج کی ساکھ برقرار رہے اور کوئی باغی عنصر سر نہ اٹھا سکے۔ پڑوسی ممالک میں عسکری قیادت سادہ زندگی گزارتی ہے جبکہ ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے جو صرف چوروں اور کرپٹ عناصر کو نوازتا ہے، اس لیے ملک کو ان عناصر سے نجات دلانا ناگزیر ہے۔
نئے صوبے بنا کر بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلدیاتی، صوبائی اور مرکزی انتخابات میں مکمل شفافیت لائی جانی چاہیے تاکہ حقیقی قیادت سامنے آئے اور لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔ پاکستان کو وجود میں آئے 78 برس بیت چکے ہیں اور اس دوران انتظامی ڈھانچہ ون یونٹ سے چار صوبوں میں تبدیل ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر عوامی مسائل اور بیروزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ صحت اور تعلیم کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لوگوں کی شکایات اور احساسِ محرومی بڑھنے سے صوبائی اور لسانی تعصبات نے سر اٹھایا ہے اور ملک میں دہشت گردی اور منشیات کے رجحان کو فروغ ملا ہے۔ نوجوان اس نظام سے مایوس ہو کر عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ملک میں امن و امان کا مسئلہ سنگین ہو چکا ہے۔ انصاف اب نوٹوں میں تولا جاتا ہے اور ہماری عدالتیں گرتے گرتے دنیا بھر میں 125 ویں نمبر پر آ گئی ہیں جبکہ محراب و منبر سے تفرقہ بازی اور نفرت انگیزی پھیلائی جا رہی ہے۔ ان حالات میں ملک میں آئین کی بالادستی قائم کرنا سب سے اہم ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here