سیاست، فضول لوگ اور راج کپور۔ لکھنے کے لیے ہر ہفتے ہمارے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی دھمکیاں، یا پھر عیدِ قربان پر پاکستانی اور بنگالی قصابوں کی لوٹ مار اور ان کا خود کو مسلمان کہنا۔ مگر یہ سب لکھ کر حاصل کیا ہے۔ ہمارے لوگ قربانی ضرور کرتے ہیں اور قصابوں کو تین سو سے پانچ سو ڈالر تک دے دیتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی لکھا گیا تھا کہ قربانی کے ان ایام میں ان غریبوں کو یاد رکھنا چاہیے جن کے لیے پاکستان میں میٹھا کھانا بھی ایک آسائش بن چکا ہے، کیونکہ ایسے غریب یہاں دیارِ غیر میں کہاں ملیں گے۔ بہر حال یہ ہمارے دوستوں کا ذاتی معاملہ ہے اور اس پر مزید بحث کرنا فضول ہے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان کے ایک مشہور زمانہ سیاست دان ڈالر کمانے یا اپنی اور پاکستان کی موجودہ حکومت کی مشہوری اور واہ واہ کرانے یہاں آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے یہاں کے کئی نامور لوگوں کو اعزازات دینے کے لیے تلاش کیا مگر جو بظاہر معتبر لوگ تھے وہ پیچھے ہٹ گئے۔ ان کا تو شکریہ لیکن لونگ آئی لینڈ میں اپنی مشہوری کے خواہشمند ایک ڈاکٹر نے بڑی خوشی سے ان کے لیے اپنے گھر پر ایک تقریب کا اہتمام کر لیا۔ اس طرح وہ سیاست دان بھی خوش ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہو کر خوش ہو گئے کہ دیکھو ہمارے چاہنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ اس تقریب میں یہ پابندی بھی عائد تھی کہ مہمانوں میں سے کوئی بھی عمران خان کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔ ان کی اس پست ذہنیت پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم وہاں ہوتے تو احتجاجاً اٹھ کر چلے آتے اور کم از کم یہ ہی پوچھ لیتے کہ دبئی میں پرتعیش گاڑیوں کا بزنس کس طرح کیا جا رہا ہے، یا پھر پاکستان سے لوٹا ہوا پیسہ واپس کرنے کا کوئی ارادہ ہے یا نہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے ایسے لوگوں سے کوئی تعلقات تو دور کی بات، جان پہچان تک نہیں ہے۔ ایسی باتیں اور شعبدے بازیاں ان ڈاکٹروں ہی کو مبارک ہوں جو اپنے اصل پیشے پر توجہ دینے کی بجائے سیاست میں گھسنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان زندہ باد کا لفظ زبان پر لانا ہمارے لیے اب مشکل ہو چکا ہے، مگر اتنا ضرور ہے کہ ہم ایک مجبور حالت میں ملک چھوڑ کر آئے تھے کیونکہ اس وقت بھٹو کا دور آچکا تھا۔ یہ سب خیر فضول باتیں ہیں جن کا ذکر کرنا ہی بے کار ہے۔
آج 4 جون ہے اور ہم سوچ رہے تھے کہ پاکستان کی کس ایسی شخصیت کا ذکر کریں جس نے ملک اور قوم کو اپنی ذات سے فائدہ پہنچایا ہو۔ اس تلاش میں ہمیں فلمی اداکار سنتوش کمار اور اداکارہ صبیحہ خانم کا پتہ چلا۔ ان دونوں کا انتقال بالترتیب 11 جون اور 13 جون کو ہوا تھا۔ صبیحہ خانم بلاشبہ ایک عظیم فنکارہ تھیں اور اداکاری کے میدان میں ان کے مقابلے کی فنکارہ ہندوستان میں صرف مینا کماری ہی تھیں۔ وہ اپنی جذباتی اداکاری کی بدولت سب کی پسندیدہ اداکارہ تھیں۔ دوسری طرف سنتوش کمار بھی ایک بہت بڑے اداکار تھے جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان چلے آئے تھے، اور یہ بات بتاتے چلیں کہ انہیں پاکستان آنے کا مشورہ دلیپ کمار نے دیا تھا۔
سنتوش کمار کے دو اور بھائی درپن اور سلیمان الیاس بھی تھے جو اس انڈسٹری کے مقبول ہدایت کار بنے۔ ان فنکاروں نے فلموں کے ذریعے عوام کو جو معیاری تفریح فراہم کی وہ ایک تاریخی حقیقت ہے، خاص طور پر اس دور میں جب تفریح کا واحد ذریعہ صرف سینما ہی ہوا کرتا تھا۔ ہندوستان میں تو یہ ہمیشہ سے سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے مگر پاکستان میں ہم، جیو اور اے آر وائی جیسے اداروں نے ٹیلی ویڑن سیریلز کے ذریعے ہندوستانی فلموں کے سحر کو کسی حد تک کم کیا۔ ایک وقت تھا کہ دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند سینما ہالوں کی رونق بڑھاتے تھے۔ دلیپ کمار کو جہاں ان کی لازوال اداکاری کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے، راج کپور کو ان کی بہترین ہدایت کاری، جاندار اداکاری اور فلم سازی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آج 4 جون ان کی برسی کا دن ہے۔ اگر ہالی وڈ کے پاس چار نامور بھائی ہیں تو برصغیر کے پاس راج کپور کے دو بازو ہیں۔ انہوں نے اپنی فلمی سفر کی شروعات فلم آگ سے کی جو فلاپ ہو گئی، لیکن 1949 میں وہ محبوب خان کی فلم انداز میں دلیپ کمار کے ساتھ جلوہ گر ہوئے اور کامیاب رہے۔ اس کے صرف ایک ماہ بعد ان کی دوسری فلم برسات ریلیز ہوئی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی اور وہ پہلی ہی برسات میں فلمی انڈسٹری پر چھا گئے۔ راج کپور نے خواجہ احمد عباس کو اپنے ساتھ ملایا اور فلم آوارہ لکھوائی، جن کا شمار اس دور کے ترقی پسند لکھاریوں میں ہوتا تھا۔ فلم آوارہ ایک لازوال شاہکار تھی جس نے نہ صرف عوام کے دل جیتے بلکہ روس میں نمائش کے بعد یہ فلم بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی پہچان بنی۔
راج کپور کی کامیاب ترین فلموں کا ذکر کیا جائے تو آوارہ کے بعد انہوں نے فلم بوٹ پالش پروڈیوس کی جو ایک ہٹ فلم تھی۔ اس کے بعد انہوں نے شری 420 کو ڈائریکٹ کیا اور پھر ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں دیتے چلے گئے جن میں جس دیش میں گنگا بہتی ہے اور سنگم شامل ہیں۔ اس کے بعد فلم میرا نام جوکر مالی طور پر ناکام ہو گئی جس کی وجہ سے وہ مالی بحران کا شکار ہو کر نیچے آ گرے۔ ایسے مشکل وقت میں انہوں نے اپنے بیٹے رشی کپور کو لے کر فلم بابی بنائی اور اس فلم کی کامیابی سے وہ دوبارہ کروڑوں روپے کے مالک بن گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ستیم شیوم سندرم، پریم روگ اور پھر اپنے چھوٹے بیٹے کو فلموں میں لا کر رام تیری گنگا میلی جیسی فلموں سے بے پناہ مال اور شہرت حاصل کی۔ راج کپور نے اپنے پورے کیریئر میں تقریباً 500 فلموں میں کام کیا ہو گا اور انڈسٹری کو کئی نئے فنکاروں سے متعارف کرایا۔ غرض یہ کہا جا سکتا ہے کہ جتنا کام راج کپور نے کیا اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہیں ہندوستان کے ہر بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ چونکہ ادب، فلم اور شاعری کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، لہذا ایک سچے پاکستانی ہونے کے ناطے ہم راج کپور کو ان کی برسی پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔











