نیویارک (پاکستان نیوز)امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں رواں ہفتے ٹرمپ انتظامیہ کی زیر نگرانی اسرائیل اور لبنان کے درمیان 3 روزہ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان اہم مذاکرات سے قبل اسرائیل جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اپنے فوجیوں کے علامتی انخلا کے اعلان پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد لبنانی حکومت کے لیے ایک خیر سگالی کا مظاہرہ کرنا ہے تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور لبنان کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کے معاملات سے الگ تھلگ رکھا جا سکے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس ممکنہ منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج نام نہاد پیلی لائن سے پیچھے ہٹیں گی، جو اپریل میں ہونے والی گزشتہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقے کی حد بندی کرتی ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کے روز ان خبروں کی واضح تردید کی ہے کہ اسرائیلی فوج بیوفورٹ قلعے سے پیچھے ہٹے گی۔ یہ قلعہ ایک ایسے پہاڑی سلسلے پر واقع ہے جہاں گزشتہ چند دنوں میں شدید ترین لڑائی دیکھی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع دونوں ہی اس عزم پر قائم ہیں کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے اس حصے سے، جسے وہ حفاظتی زون قرار دیتے ہیں، اپنی فوجیں ہرگز واپس نہیں بلائے گا۔ سفارتی کوششوں میں تیزی کے درمیان اتوار کو ہی اسرائیل کے فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر اور لبنانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہیکل نے الگ الگ جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں کا دورہ کر کے اپنی افواج کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔












