نیویارک (پاکستان نیوز)محکمہ صحت و انسانی خدمات کے سیکرٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کو سی این این کی نامور اینکر ڈونا باش کے ساتھ ایک تندوتیز انٹرویو کے بعد شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔ انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کووڈ 19 کی وبائی صورتحال سے نمٹنے، ملک میں خسرہ کے پھیلاؤ اور ویکسین مخالف بیانیے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر وزیر صحت اپنے حواس کھو بیٹھے۔ انہوں نے خاتون میزبان پر بار بار چیختے ہوئے غیر مصدقہ دعوے کیے اور پھر اینکر کو گھبرائی ہوئی قرار دیا، جس پر ڈونا باش نے برہم ہو کر جواب دیا کہ وہ گھبرائی ہوئی نہیں بلکہ ان کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے سخت زچ اور پریشان ہیں۔ انٹرویو کے دوران رابرٹ کینیڈی نے خاتون اینکر کی بات کاٹتے ہوئے اور ان کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ سائنسدان نہیں ہیں اس لیے اس مسئلے کو نہیں سمجھ سکتیں، جس پر اینکر نے فوراً یاد دلایا کہ کینیڈی خود بھی کوئی سائنسدان نہیں ہیں۔ وزیر صحت نے خسرہ کی ویکسین کے بارے میں یہ غلط دعویٰ بھی کیا کہ صرف یہی ایک واحد ویکسین ہے جس پر تحقیق کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں ان کے شعبے نے بچوں کے لیے تجویز کردہ بنیادی 17 ویکسینز کی تعداد گھٹا کر 11 کر دی تھی، جس سے ہپٹائٹس، فلو اور دیگر موذی بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے خارج کر دیے گئے تھے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بے شمار لوگ بیماری اور موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال پر امریکی رکن کانگریس شان کاسٹن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی طبی ڈگری کے غیر متعلقہ اور متنازع شخص کو اس اہم اور حساس عہدے پر بٹھانا انتہائی خطرناک ہے، اور عوام کو ان کے سائنسی دعووں اور عہدے کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے تاکہ گمراہ کن معلومات کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔







