شکاگو (پاکستان نیوز)شکاگو کے ایک نواحی علاقے ایونسٹن میں ICEکے اہلکاروں نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایک امریکی شہری کو حراست میں لے لیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وفاقی اہلکار علاقے میں ایک مفرور شخص کی تلاش کے سلسلے میں کارروائی کر رہے تھے۔ مقامی پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق وفاقی اہلکاروں نے غلطی سے اس مقامی شہری کو اپنا مطلوبہ شخص سمجھ لیا اور اس سے شناخت کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی۔ شہری کی جانب سے اعتراض پر اہلکاروں نے اس کے ساتھ زبردستی کی اور اسے زمین پر پٹخ دیا جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں۔ مقامی پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جب پولیس اور طبی امداد کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو متاثرہ شخص زمین پر زخمی حالت میں ملا۔ اس کے سر، گردن اور دانتوں پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور ہاتھ پاؤں سے خون بہہ رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ شخص مسلسل پکار رہا تھا کہ وہ ایک امریکی شہری ہے لیکن اہلکاروں نے اس کی ایک نہ سنی اور اس کے ساتھ تشدد کا برتاؤ کیا۔ قریبی عمارت کی نگرانی کے کیمروں میں بھی ریکارڈ ہونے والی ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہلکاروں نے اسے زبردستی زمین پر گرایا۔ بعد ازاں جب اہلکاروں نے اس شخص کی اصل شناخت کی تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ وہی مطلوبہ مفرور نہیں بلکہ ایک عام امریکی شہری ہے جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ امریکی محکمے کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے مطلوبہ شخص سے مشابہت کی بنیاد پر کارروائی کی تھی اور شہری کے عدم تعاون کی وجہ سے فورس کا استعمال کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غصہ پھیل گیا اور احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وفاقی اہلکار وہاں سے روانہ ہو گئے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔













