خلیج میں گرما گرمی: عرب دنیا کا بدلتا ہوا دفاعی منظرنامہ!!!

0
11

خلیج میں گرما گرمی:
عرب دنیا کا بدلتا ہوا دفاعی منظرنامہ!!!

خلیج فارس کے تزویراتی پانیوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگوں نے خطے کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں روایتی اتحاد اور حفاظتی ضمانتیں ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر کی جانب سے سلطنت عمان کے خلاف دی جانے والی فوجی کارروائی کی دھمکی نے نہ صرف سفارتی حلقوں کو حیران کیا بلکہ واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں میں بھی شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، امریکی قیادت کا یہ سخت موقف خطے کی سلامتی کے حوالے سے اس کی غیر سنجیدگی اور یکطرفہ پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ دھمکی ایک ایسے اہم آبی راستے کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو عالمی تجارتی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے اور جس پر تہران اور مسقط دونوں اپنے علاقائی حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے اس گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حفاظتی ٹیکس عائد کرنے کی کوششوں کو واشنگٹن ایک غیر قانونی سرگرمی قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف جنگ بندی کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں کیونکہ معاشی پابندیوں کے خاتمے اور فضائی حملوں کی روک تھام پر فریقین کے مابین شدید اختلافات برقرار ہیں۔ امریکی صدر کا یہ اصرار ہے کہ کسی بھی عبوری معاہدے کے تحت اس آبی گزرگاہ کو تجارتی بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلا رہنا چاہیے، لیکن زمین پر موجود حقائق اس کے برعکس کہانی بیان کر رہے ہیں جہاں سفارتی تعطل نے خطے کو غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
سلطنت عمان کے خلاف امریکی غیظ و غضب اس لیے بھی غیر متوقع تھا کیونکہ مسقط ہمیشہ سے واشنگٹن اور تہران کے مابین خفیہ اور اعلانیہ مذاکرات کا بنیادی مرکز اور سہولت کار رہا ہے۔ جب امریکہ نے فروری 2026 میں امن مذاکرات کو یکطرفہ طور پر ترک کر کے دوبارہ عسکری کارروائیاں شروع کیں، تو عمان نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی تھی اور اسے خطے کے امن کے لیے ایک مہلک اقدام قرار دیا تھا۔ اب امن کے ضامن ملک کو ہی تباہ و برباد کرنے کی دھمکی دینا امریکی خارجہ پالیسی کے اس تضاد کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ دنیا کے متعدد ممالک کو یا تو عسکری دھمکیاں دے چکا ہے یا ان پر براہِ راست حملے کر چکا ہے۔ اگرچہ بعد میں امریکی وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ ترین عہدیداروں نے خلیجی ممالک کو یہ یقین دہانی کرائی کہ عمان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ پر کوئی اضافی محصولات عائد کرے، لیکن اس نوعیت کے بیانات نے خلیجی عرب ریاستوں کے دلوں میں موجود عدم تحفظ اور بے اعتباری کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے کیونکہ وہ اب واشنگٹن کے بدلتے ہوئے مزاج پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
خلیج کی عرب ریاستیں اس وقت خود کو ایک انتہائی مشکل اور پرپیچ تزویراتی صورتحال میں محسوس کر رہی ہیں جہاں ایک طرف ان کا روایتی محافظ ہے اور دوسری طرف پڑوس میں بسا طاقتور حریف۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے امریکی حملوں کو روکنے کے لیے ان پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی تھی، جس کی وجہ سے یہ معصوم ریاستیں بلاوجہ اس تباہ کن تنازع کا شکار بنیں۔ اب جب کہ جنگ بندی کے امکانات پر بات ہو رہی ہے، خلیجی دارالحکومتوں میں اطمینان سے زیادہ خوف اور اندیشے پائے جاتے ہیں۔ تہران کی عسکری حکومت اس جنگ کے بعد مزید مضبوط اور جارحانہ انداز میں ابھر رہی ہے، کیونکہ وہ اس عسکری تصادم کو اپنی اخلاقی اور تزویراتی فتح قرار دے رہی ہے۔ واشنگٹن کے تحقیقی اداروں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ ایران کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر وسیع پیمانے پر حملے کرتی، تو اس کا نتیجہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوتا اور ایک بدترین انسانی بحران جنم لیتا جس کے اثرات صدیوں تک ختم نہ ہوتے۔
اس ابتر صورتحال میں امریکی صدر کا یہ مطالبہ کہ خطے کے تمام بااثر مسلم ممالک بشمول پاکستان، ترکی، مصر اور خلیجی ریاستیں بیک وقت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کریں، انتہائی مضحکہ خیز اور فہم سے بالاتر ہے۔ سماجی رابطوں کے ذرائع پر امریکی صدر کا یہ کہنا کہ ان تمام ممالک پر یہ لازمی ہونا چاہیے کہ وہ امریکی کوششوں کے بدلے ان معاہدوں کا حصہ بنیں، مشرقِ وسطیٰ کے زمینی حقائق اور عوامی امنگوں سے مکمل لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسی جنگ جس کو خلیجی عربوں نے کبھی پسند نہیں کیا اور جس کے بھاری معاشی و جانی نقصانات انہوں نے خود برداشت کیے، وہ انہیں کسی بھی طور پر امریکہ کا احسان مند نہیں بنا سکتی بلکہ وہ اسے ایک تزویراتی بوجھ تصور کر رہے ہیں۔
عالمی امور کے ماہرین اور بین الاقوامی تعلقات کے ذمہ دار اداروں کا اب یہ واضح تجزیہ ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے اب امریکہ پر اندھا اعتماد کرنا ایک بہت بڑی تاریخی غلطی ثابت ہو چکا ہے۔ موجودہ تاریخ میں خلیج کی یہ ریاستیں اب پہلے سے کہیں زیادہ خود مختار سوچ اپنا رہی ہیں اور انہیں اپنی دفاعی کمزوریوں کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے۔ ان ریاستوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ان کے سب سے بڑے سیکیورٹی ضامن نے یکطرفہ طور پر کام کیا اور اسرائیل کے تزویراتی مفادات کو اس جنگ کا بنیادی اصول بنا دیا، جبکہ اس جنگ کی تمام تر قیمت خلیجی عرب ملکوں کو چکانی پڑی۔ ان کا روایتی حریف نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے سامنے ڈٹا رہا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو شدید نقصان پہنچانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا داخلی نظام کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اس صورتحال کا منطقی نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خلیجی ممالک اب امریکی امداد پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں اور اپنی افواج کو اس قابل بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ وہ کسی بھی بیرونی مدد کے بغیر مستقبل کی جنگیں لڑ سکیں۔ لندن کے تعلیمی اداروں اور ایشیائی خطے کے معاشی جریدوں میں شائع ہونے والے مقالات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والی اس جنگ نے خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کو ایک ایسے مشترکہ خوف میں مبتلا کر دیا ہے جہاں شہری آبادیوں پر میزائل حملوں اور فضائی بمباری کا خطرہ ہمیشہ ان کے سروں پر منڈلاتا رہے گا۔ امریکہ کی اس غیر ذمہ دارانہ پالیسی نے خلیج فارس کو امن کا گہوارہ بنانے کے بجائے ایک ایسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، اور اب خطے کے ممالک یہ جان چکے ہیں کہ تزویراتی خودمختاری اور داخلی مضبوطی ہی ان کی بقا کی واحد ضمانت ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here