اصفہان کے ستر ہزار یہودی اور عالمی دجالی نظام کا کھیل

0
4

آج کل سوشل میڈیا پر ایک عجیب تماشا بنا ہوا ہے جہاں کوئی ایک حدیث اٹھاتا ہے اور اس کے آدھے جملے کا پوسٹ بنا کر پورے عالم اسلام میں فرقہ واریت کی آگ لگا دیتا ہے۔ ذرا رکیے اور ایک لمحہ سوچئے کہ کیا واقعی نبی کریم کی پیشگوئیوں کو سمجھنے کا یہی سطحی طریقہ ہے یا یہ مسلمانوں کو اصل معرکے سے غافل رکھنے کے لیے دجالی سیاست کا سب سے کامیاب ہتھیار ہے۔ صحیح روایات میں ذکر آتا ہے کہ دجال کا ظہور مشرق کی سمت سے ہوگا اور اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے پیروکار ہوں گے ۔جس پر ایک مسلمان کا کامل ایمان ہے کہ یہ پیشگوئی ہر صورت پوری ہو کر رہے گی۔ تاہم یہاں ایک سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ سن انیس سو اناسی کے انقلاب کے بعد جب ایران سے بیشتر یہودی ہجرت کر چکے ہیں اور وہاں اب محض آٹھ سے دس ہزار یہودی باقی ہیں تو پھر اصفہان کے ستر ہزار یہودی کہاں سے آئیں گے؟ تاریخ اور زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جنگیں اور عالمی زلزلے آبادیوں کے نقشے بدل دیتے ہیں اس لیے ممکن ہے کہ مستقبل کی کسی بڑی جنگ کے نتیجے میں یہودی آبادی کا ایک بڑا حصہ دوبارہ اس خطے میں منتقل ہو جائے یا پھر یہ ستر ہزار یہودی وہاں کے مقامی شہری نہ ہوں بلکہ مستقبل کے کسی عالمی دجالی فوجی اتحاد یا قابض افواج کا حصہ بن کر وہاں پہنچیں۔
اصل بحث یہ نہیں کہ وہ وہاں کیسے آئیں گے بلکہ اصل غور طلب نکتہ یہ ہے کہ دجالیت دراصل ہے کیا؟ کیونکہ دجالیت محض ایک کانے شخص کے اچانک نمودار ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی آمد سے قبل ایک مکمل دجالی نظام دنیا پر مسلط ہو چکا ہوگا۔ آج کا عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور سود پر مبنی معیشت کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ اور جدید ٹیکنالوجی پر عالمی طاقتوں کا کنٹرول اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کی منافقت اسی دجالی نظام کے مختلف بازو ہیں جو الحاد اور بے حیائی کی یلغار کے ذریعے انسانیت کو گھیر چکے ہیں۔ دجال جب آئے گا تو وہ کوئی نیا نظام لانے کے بجائے اسی پہلے سے تیار شدہ طاغوتی نظام کی قیادت سنبھالے گا جس کا سب سے بڑا نشانہ مسلمانوں کا اتحاد ہے۔ اس عالمی دجالی نظام کو سب سے بڑا خطرہ مسلمانوں کے ہتھیاروں یا معیشت سے نہیں بلکہ قرآن کے اس حکم سے ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں مت پڑو لہذا دجالی ایجنٹوں نے اسی بنیاد پر وار کیا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جب مسلمان قرآن کے اس حکم سے ہٹیں گے تو انہیں غلام بنانا آسان ہو جائے گا۔
موجودہ عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو امریکی قیادت کے بیانات ہوں یا اسرائیلی عزائم سب کا رخ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی طرف ہے جہاں ایک ملک کو دوسرے کا دشمن قرار دے کر اسلحے کی دوڑ تیز کی جا رہی ہے۔ آج کی عالمی سیاست کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ صیہونیت کا سب سے بڑا ٹکراؤ جن قوتوں سے ہے ان کو کمزور کرنے کے لیے ہی سوشل میڈیا پر مسلمانوں کو شیعہ سنی اور عرب عجم کے نام پر لڑایا جا رہا ہے جو کوئی اتفاق نہیں ہے۔ شام اور عراق سے لے کر لیبیا تک یہی کھیل کھیلا گیا جہاں پہلے مسلمانوں کو مسلک اور قومیت کے نام پر لڑا کر کھوکھلا کیا گیا اور پھر ان کے وسائل پر قبضہ کر لیا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ آج مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اسی دجالی منصوبے کا ایندھن بن رہے ہیں۔ اسلام کا اصل مسئلہ فرقوں کا جھگڑا نہیں بلکہ باطل دجالی نظاموں کا غلبہ ہے اور جب مسلمان فروعی اور مسلکی بحثوں میں الجھ جاتے ہیں تو وہ اقامت دین اور طاغوت سے بغاوت کا اصل معرکہ بھول جاتے ہیں جس کا فائدہ اٹھا کر عالمی طاقتیں پورے خطے کو نگل لیتی ہیں۔ دجال جب آئے گا تو اس کے ساتھ صرف ستر ہزار یہودی نہیں ہوں گے بلکہ اس کی صفوں میں وہ نام نہاد مسلمان بھی کھڑے ہوں گے جو فکری دھوکے کا شکار ہو کر سچ اور جھوٹ میں فرق نہ کر سکیں گے اور جنہوں نے اپنی توانائیاں امت کو جوڑنے کے بجائے توڑنے میں صرف کی ہوں گی۔ اس لیے آج خود سے یہ سوال پوچھنے کے بجائے کہ اصفہان کے یہودی کہاں سے آئیں گے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جب یہ عالمگیر دجالی نظام ہماری معیشت اور سیاست پر مسلط ہے تو ہم کس صف میں کھڑے ہیں یعنی امت کو تقسیم کرنے والوں کے ساتھ یا باطل کے خلاف سینہ سپر ہو کر غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here