جب اس دنیا میں طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو اس کے نتائج ہمیشہ لرزہ خیز ہی برآمد ہوتے ہیں۔ جنگِ عظیم دوم کی فاتح مغربی قوتوں نے تیل کی دولت پر تسلط حاصل کرنے کی خاطر مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کو تو اپنا باجگزار بنا لیا لیکن فارس کی چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب ان کے لیے ایک ایسی آہنی دیوار ثابت ہوئی جسے عبور کرنا ناممکن ہو گیا۔ عرب دنیا کی موروثی بادشاہتوں کے برعکس ایران میں عوامی تائید سے منتخب ہونے والے محمد مصدق جیسے سربراہِ مملکت مغربی ایوانوں کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انیس سو ترپن میں امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ اداروں نے گٹھ جوڑ کر کے ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور شہنشاہِ ایران جیسے آمر کو مسلط کر دیا۔ مصدق کا جرم محض یہ تھا کہ انہوں نے قومی وسائل کو بیرونی غاصبوں سے بچانے کے لیے تیل کی صنعت کو سرکاری تحویل میں لے لیا تھا، مگر ان کا یہی جرات مندانہ اقدام ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بن گیا۔محمد مصدق کی قربانی نے ایران کو علی شریعتی اور امام خمینی جیسے فکری رہنما عطا کیے جنہوں نے مغرب اور بالخصوص اسرائیل کے لیے دائمی مشکلات پیدا کر دیں۔ شام، لبنان، عراق، لیبیا اور یمن جیسے خطوں کی تباہی کے بعد اسرائیل کے سامنے سینہ سپر ہونے والی واحد ریاست ایران ہی رہی ہے جس نے بڑی طاقتوں کے سامنے کبھی جبیں سائی نہیں کی۔ سرزمینِ ایران اپنی قدیم تہذیب اور مذہبی عقائد سے گہری وابستگی کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، جہاں کی معاشرتی اقدار ایرانیوں کو ایک ایسی خود مختار سوچ عطا کرتی ہیں جو انہیں کسی دوسری قوم کی غلامی قبول کرنے سے روکتی ہے۔ اس فکری مضبوطی کو اس وقت مزید تقویت ملی جب شہرِ قم نظریاتی تعلیم کے ایک عالمی مرکز کے طور پر ابھرا۔ عالمِ اسلام کے ہر گوشے سے تشنگانِ علم وہاں پہنچ کر فقہ، منطق اور حدیث میں مہارت حاصل کرتے رہے، اور اسی علمی فضا میں سید علی خامنہ ای نے امام خمینی کے زیرِ سایہ وہ تربیت پائی کہ بعد ازاں منصبِ رہبری پر فائز ہوئے۔وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دیگر اسلامی مراکزِ تعلیم نے جدیدیت کے نام پر اپنی اصل روح کھو دی، وہاں قم کی جامعات اپنے نظریات پر سختی سے قائم رہیں۔ یہی فکری استقامت تھی کہ حالیہ حملے میں سید علی خامنہ ای کی شہادت نے عالمِ اسلام میں ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا جس نے مسلکی تفریقات کی تمام دیواریں گرا دیں اور مسلمانوں کی اکثریت کو ایک پرچم تلے متحد کر دیا۔ شاعر نے سچ کہا تھا کہ اپنی آزادی کو مٹایا نہیں جا سکتا اور سر کٹانے والے کبھی سر جھکانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس عزم کی ایک ہولناک قیمت جنوبی ایران کے شہر مناب میں اس وقت ادا کی گئی جب ایک تعلیمی ادارے پر اس وقت بمباری کی گئی جب وہاں ڈیڑھ سو سے زائد معصوم بچیاں زیرِ تعلیم تھیں۔ رمضان المبارک کی ان مقدس ساعتوں میں معصوم کلیوں کا یہ سفاکانہ قتل عام انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے جس نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔قرآنِ مجید کی آیات جب زندہ درگور کی جانے والی بچیوں کے بارے میں سوال کرتی ہیں تو آج کے دور کے نام نہاد مہذب ممالک کی بربریت ان قدیم جاہلانہ رسوم سے بھی کہیں زیادہ بھیانک نظر آتی ہے۔ مناب کے اس اجتماعی قتل اور سید علی خامنہ ای کی شہادت نے اخلاقی طور پر اس معرکے کا فیصلہ کر دیا ہے کیونکہ حق کی راہ میں جان دینے والے کبھی ہارا نہیں کرتے۔ غزہ کے شہدائ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایرانی قیادت نے ثابت کر دیا کہ وہ وقت کے فرعون کی فرعونیت کو للکارنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ مفاہمت اور مصلحت کے راستے تو ہر دور میں دستیاب رہے ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ یزید میں بھی بہت سے اربابِ سیاست نے عافیت اسی میں جانی تھی، لیکن امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے تپتے میدان میں سر کٹا کر یہ واضح کر دیا کہ باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنا حریت کی لغت میں شامل نہیں۔ بلاشبہ ہر کربلا کے بعد اسلام ایک نئی زندگی پاتا ہے اور ظالم کی شکست اس وقت یقینی ہو جاتی ہے جب مظلوم موت کو گلے لگا کر جاویداں ہو جاتا ہے۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد














