گذشتہ کالم پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے اختتام پر ہم نے خواہش ظاہر کی تھی کہ حالیہ صورتحال مذاکرات و ثالثی کی کوششوں سے مشرق وسطیٰ با الخصوص امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کے بھیانک اثرات و انجام سے تباہی و عالمی دُشواریوں سے بچ سکے لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے شیطانی و دشمنانہ منصوبے کے تناظر میں لگتا ہے کہ جنگی جنون کا یہ بھوت سارے خطے کو ہی نہیں ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہ لے جائے ۔ ایران کو کمزور سمجھنے والے ٹرمپ اور اسکے سیکرٹری جنگ کو اس حد تک حواس باختہ کر دیا ہے کہ عین جنگ کے دوران خلاف معمول چیف آف آرمی اسٹاف ، سیکورٹی و انٹیلی جنس اور ایڈمرل سمیت آدھے درجن عہدیداروں کو معزول کر دیا گیا ہے ، یہی نہیں شنید ہے کہ ٹرمپ اپنی کابینہ میں بھی ردو بدل کرنے والا ہے جو اس کے حالیہ مقاصد سے متفق نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسبٹین فائلز کے سبب نیتن یا ہو کے ٹائوٹ بن کر ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگ میں کودنے کے خلاف نائب صدر وینس سمیت کا بینہ کے متعدد اراکین اور 68 %عوام بھی مخالف ہیں لیکن ٹرمپ اپنی فطرت سے مجبور وہ سب کچھ کر رہا ہے جو امریکہ کی سپر میسی اور عوام کے مفادات و خوشحالی کے خلاف ہی نہیں امریکی عسکری و دفاعی برتری کو بھی متاثر کرنے کا سبب بنا ہے ۔ ٹرمپ کی غیر متوقع و ناقابل اعتماد فطرت کے بارے میں ہم متعدد بار اظہار کر چکے ہیں ؟ خود امریکی دانشور اور مختلف مکاتب فکر تو اسے امریکی سالمیت اور برتری کیلئے ڈیٹرینس قرار دے چکے ہیں، گزشتہ دنوں کے واقعات نے حقیقت میں اسے مرزا غالب کی زبان میں ”بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ” جنون و دیوانگی کی ان حدوں پر پہنچا دیا ہے کہ دھونس دھمکیوں کے ساتھ وہ گالم گلوچ اور فحش بیانی پر اتر آیا ہے ۔ گذشتہ ہفتے ایف 15 و 18 کی تباہی ، سی 130 سمیت 12 جدید طیاروں کی تباہی ،درجن سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکتوں ، سینکڑوں کے زخمی و ہلاکتوں کے حقائق نے ٹرمپ کی ہذیانی و جنونی کیفیت میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال اور ایک رات میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر اُتر آیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اب تک کی محاذ آرائی میں انتہائی بربادی اور شہادتوں کے باوجود کیا ایران کے پائے استقلال میں کمی آئی ہے؟ جواب یہ ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ قارئین ہر لمحہ سے واقف ہیں کہ ایران نے امریکہ، اسرائیل اور عرب و خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو زک پہنچانے کے ساتھ آبنائے ہرمز کے توسط سے دنیا کے بیشتر ان ممالک کو جن کا امریکہ، اسرائیل کے ممدوح و ساتھی ہونے کا تعلق ہے معاشی بحران سے دوچار کیا ہوا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ خود کو امن کا دعویدار کہنے والا اور امن کے نوبل ایورڈ کا خواہشمند صدر امریکہ اسرائیل کے شیطانی منصوبے پر عملدرآمد کے کھیل میں نیتن یاہو کی بلیک میلنگ کا شکار ہوا ہے یا پھر اس طاقتور صہیونی لابی کے سامنے مجبو رہو کر جو امریکی سیاست ،معیشت، تجارت و دیگر شعبوں پر حاوی ہیں امریکہ اسرائیل کی خوشنودی میں ایران پر حملہ آور ہوا ہے۔ ایران اپنی معاشرت، طویل روایات، استقلال، عزم اور تاریخ کے حوالے سے ایسا ملک ہے جو ہتھیار ڈالنے کے برعکس اپنی بقا ء کی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑنے والی قوم ہے۔
اب تک کی صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ اس جنگ میں قیادت کے ضیاع، تباہی و بربادی، سول و دیگر انفراسٹرکچر کے نقصان کے با وجود ایران بدستور اسرائیل و امریکہ کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ یہ سچائی بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کی صیہونی منافرتی سازش میں شریک ہو کر امریکہ اپنے عالمی مستحکم مقام اور دنیا کی بہترین ، واحد قوت و ریاست ہونے کے تصور کو متاثر کئے جانے کے مرحلے کو پہنچ رہا ہے بلکہ اس جنگ کے اثرات سے خود ٹرمپ اور امریکی ایڈ منسٹریشن عوام کے اعتبارو حمایت سے دُور ہو گئے ہیں، مڈٹرم سے قبل ہونے والی یہ صورتحال نہ ٹرمپ اور اسکی جماعت کے حق میں جاسکتی ہے اور نہ امریکہ سمیت دنیا میںامن و سکون، خوشحالی اور طمانیت کا سبب ہے ہو سکتی ہے ۔ ہم نے گذشتہ سطور میں معاشی و تجارتی سرگرمیوں اور خوشحالی و کے عالمی کساد کا ذکر کیا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اب مزید گزرگاہیں بند کرنے کا ایرانی اعلان مزید دشواریوں کا سبب ہو سکتا ہے۔
شنید ہے کہ گذشتہ تمام کاوشوںکے بعد پاکستان کے فیلڈ مارشل نے چین کی رضا مندی سے جنگ کے سیز فائر کیلئے معاہدے کا امریکی نائب صدر وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کر کے مسودہ تیار کیا جس کو اسلام آباد کارڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کا پہلا اقدام آبنائے ہرمز کھو لنا ہے۔ شنید یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کے اڑیل مؤقف اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے ایران کا رد عمل اس اکار ڈ کی منظوری اور عمل پذیری کی راہ میں تاحال رکاوٹ ہیں ۔ ہماری رب تعالی سے دعا ہے کہ عالمی امن کیلئے ہونے والی اس کوشش کو قبولیت عطاء فرمائے ،بظاہر تو یہ ممکنات سے بعید ہی ہے کیونکہ فریقین اپنی انا سے ہٹنے پر تیار نہیں حالانکہ امن ہی دنیا کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭














