امریکہ میں ماہِ رمضان کے مبارک دنوں کی ہماری تمام خوشگوار یادیں مولانا یوسف اصلاحی کے ذکرِ خیر سے معمور ہیں۔ رمضان کی شب و روز کی عبادتیں ہوں یا سحور و افطار کی ضیافتیں ہوں، دروس قرآن کی محفلیں ہوں یا ساتھیوں کے ساتھ گپ شپ کی مجلسیں ہوں، ہماری ہر مصروفیت مولانا محترم کے تعلق سے شروع ہوتی تھی اور اسی بابرکت اخیر پر ختم ہو جاتی تھی۔ یہ طویل عرصہ بالکل اسی طرح گزرا۔ اس دور کی خاص بات یہ رہی کہ باتوں ہی باتوں میں امریکہ کی کمیونٹی کی فکری بنیادیں کافی حد تک مضبوط نظریاتی ستونوں پر قائم ہوتی چلی گئیں۔ اس جستجو اور جدوجہد میں دیگر علما کرام کے ساتھ ساتھ مولانا محترم کی انتھک کوششیں بھی شاملِ حال رہیں۔ مولانا محترم تو اس جہان سے رحلت فرما گئے لیکن ان کی دینی میراث کو آئندہ نسلوں تک پہنچانا بہت ضروری تھا۔ انکی رحلت کے بعد کچھ عرصے تک تو ہم صرف بھارت میں ان کے قائم کردہ اداروں کی ہی فکر کرتے رہے لیکن ساتھ ساتھ یہ احساس بھی رہا کہ امریکہ میں ان کے فکری کام کو یہاں کی آئندہ نسلوں تک پہنچانا بھی بہت ضروری امر ہے۔ گذشتہ برس، رمضان کے مبارک مہینے میں کمیونٹی سے یہ درخواست کی کہ سنٹرل جرسی کے اس علاقے میں یوسف اصلاحی سنٹر بنایا جائے تاکہ مولانا محترم کی دینی و نظریاتی وراثت کو جدید ذرائع سے آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا اہتمام ہو سکے۔ اس تجویز کا بھرپور خیر مقدم ہوا۔ زکوة فانڈیشن آف امریکہ کے ادارے نے بلڈنگ خریدنے میں مدد دی جبکہ مخیر حضرات نے ایک خطیر رقم جمع کرکے اس سنٹر کو قائم کرنے اور چلانے میں مدد کی یقین دہانی کرا دی۔ الحمدللہ، اس رمضان میں اس سنٹر کو مزید مؤثر بنانے کیلئے فنڈریزنگ جاری ہے۔ پچھلے چند ماہ میں اس سنٹر کے زیرِ اہتمام ساٹھ سے زائد پروگرام کر چکے ہیں۔ تجرباتی بنیادوں پر ، سینکڑوں بچے، نوجوان، خواتین اور بزرگ حضرات ان پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں۔ اس ہفتے سے یوسف اصلاحی سنٹر کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ مسلم کمیونٹی کی نوجوان قیادت کے ہاتھوں میں اس مرکز کی بھاگ ڈور ہے۔ مولانا محترم اور انکے خاندان کیلئے یقینا یہ ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔ آپ سب سے اس کاوش کی کامیابی کیلئے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔ یوسف اصلاحی سنٹر کا قیام ایک صبر آزما تجربہ رہا۔ سچی بات ہے کہ تعمیر کا کام کبھی آسان نہیں رہا۔ عزم شاکری کے یہ اشعار البتہ ہمیں حوصلہ دیتے رہے۔
یہ محبت کا اعزاز ہے یہ وفاں کا انعام ہے
جستجو اس کی جتنی بڑھی اتنی ہی محترم ہوگئی
درد بھی معتبر ہوگیا عشق بھی مستند ہوگیا
دل میں تھی جو وفا کی چمک وہ چراغ حرم ہوگئی
مولانا یوسف اصلاحی کی دینی میراث میں سے ہم نے چار ستون دریافت کئے ہیں۔ ہمارا یہ مرکز بھی ان چاروں ستونوں پر قائم ہوا ہے۔٭… الہامی دعوت کو عام فہم زبان میں عوام الناس تک پہنچانا
٭… معاشرے میں خواتین کے کردار کو مضبوط اور مؤثر بنانا
٭… نوجوان نسل تک اپنی دینی وراثت منتقل کرنا
٭… امتِ مسلمہ میں اتحاد اور یگانگت کی ترویج کرنا
ہماری کوشش رہے گی کہ یوسف اصلاحی سنٹر کے زیرِ اہتمام ہونے والی سرگرمیاں، ان چاروں ستونوں میں سے کم از کم کسی ایک ستون کو تقویت پہنچائیں تاکہ ہم ان کی طے کی ہوئی ترجیحات پر قائم رہ سکیں۔مستقبلِ قریب میں ہمارے پیش نظر مولانا محترم کی کتابوں کا امریکن انگلش میں ترجمہ کرانے کا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ دہلی میں مقیم ڈاکٹر سلمان اسعد صاحب کی زیرِ نگرانی اس کام کا آغاز تو ہو چکا ہے لیکن ہنوز دلی دور است والے محاورے کے مطابق ابھی کافی وقت لگے گا۔ مولانا محترم کی تقریروں اور تحریروں کو سوشل میڈیا پر منتقل کرنا بھی ایک ضروری اور اہم کام ہے جسے ہمارا یہ مرکز انجام دے گا۔ ان شااللہ۔
ہماری امریکن مسلم کمیونٹی پر مولانا محترم کے عظیم احسانات ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت اس ملک میں صرف اس لئے گزارا کہ یہاں دعوتی کام کو تقویت حاصل ہو۔ انہوں نے مغربی ممالک کی مسلمان نوجوان نسل سے نسبتا زیادہ امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسلیں ان کی توقعات پر پورا اتریں اور موجودہ ورلڈ آرڈر کو اسلامی ورلڈ آرڈر میں بدل دیں۔ وہ ثاقب لکھنوی کا شعر بڑی کثرت سے دہراتے رہتے تھے کہ
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے
٭٭٭










