وقت کی تبدیلی ایک معاشرتی تجزیہ

0
11
رعنا کوثر
رعنا کوثر

وقت کی تبدیلی
ایک معاشرتی تجزیہ

تبدیلی ایک ناگزیر عمل ہے جس سے انسان زندگی کے مختلف ادوار میں گزرتا رہتا ہے۔ کبھی یہ بدلاؤ خوشگوار احساسات لاتا ہے اور کبھی اپنے ساتھ کرب کی گہری لہریں سمیٹے ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایک مشہور افسانہ دو مٹھی چاول وقت کی اسی سنگین تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جسے آج ہر گھر کے والدین محسوس کر رہے ہیں۔ ایک وہ دور تھا جب انسان جوان تھا اور خاندان کے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ ہر گھر میں چار پانچ بچوں کا ہونا ایک روایت تھی اور باورچی خانوں میں پکنے والے کھانوں کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی رہتی تھی۔ آلو گوشت، گوبھی گوشت یا کدو گوشت جیسے پکوان بنتے تھے اور گوشت میں سبزیوں کی شمولیت محض ذائقہ نہیں بلکہ ضرورت ہوتی تھی تاکہ بڑھتے ہوئے افراد کے لیے سالن کی مقدار کافی ہو سکے۔ اس قدر و منزلت اور ہجوم کے باوجود کھانے دل کھول کر بنائے جاتے تھے۔
وقت کے بے رحم پہیے نے ان بڑے خاندانوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ بچے جوان ہوئے اور شادیوں کے بعد بہتر مستقبل کی تلاش میں دیارِ غیر کا رخ کر لیا۔ بیٹیاں سعودی عرب، امریکہ، کینیڈا اور دنیا کے دیگر حصوں میں بیاہ دی گئیں اور بیٹے ملازمتوں کے سلسلے میں پردیس سدھار گئے۔ یوں وہ وسیع و عریض گھر صرف دو بوڑھے میاں بیوی تک محدود ہو کر رہ گئے اور اگر ان میں سے کوئی ایک رفیقِ حیات اللہ کو پیارا ہو جائے تو تنہائی کا عذاب اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ دنیا کے اس کاروبار کے سمٹنے کے ساتھ ہی باورچی خانہ بھی سمٹ گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ دو مٹھی چاول اور ایک پاؤ گوشت ہی پورے دن کی ضرورت کے لیے کافی قرار پاتا ہے۔ یہ محض ایک افسانے کا عنوان نہیں بلکہ پاکستان کے بے شمار گھروں کی حقیقی داستان ہے۔
یہی صورتحال امریکہ میں آباد ان پاکستانی خاندانوں کی ہے جو آج سے تقریباً تیس سال پہلے یعنی 1996 کے آس پاس یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ اس وقت یہاں رہنے والوں کے پاس وسائل کی فراوانی تھی، جس کی وجہ سے خوب دعوتیں ہوتی تھیں اور بڑے بڑے دیگچوں میں بریانی و قورمہ تیار کیا جاتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہاں بھی وہی معاشرتی تبدیلی رونما ہوئی اور خاندان بکھرنے لگے۔ بچے بڑے ہو کر یا تو تعلیمی ہوسٹلوں میں چلے گئے یا پھر روزگار کی خاطر دوسرے شہروں میں مقیم ہو گئے۔ مغربی معاشرت کے زیرِ اثر شادی کے بعد لڑکوں کا والدین کے ساتھ رہنے کا تصور ویسے بھی معدوم ہے، جس کے نتیجے میں یہاں بھی بزرگ جوڑے اکیلے رہ گئے۔ اب ان کے ہاں بھی بڑے دیگچوں کی جگہ چھوٹے برتنوں نے لے لی ہے اور صحت کے اصولوں کے پیشِ نظر باسمتی چاول کے بجائے بھورے چاول یا محض سلاد پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
دنیا کے ہر کونے میں اب یہی عالم نظر آتا ہے کہ خاندان تو بڑھ رہے ہیں لیکن ایک گھر میں رہنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک مشترکہ باورچی خانے کے بجائے اب ہر فرد اپنا الگ نظامِ طعام رکھتا ہے۔ بڑی دعوتوں کی جگہ اب مختصر ملاقاتوں نے لے لی ہے۔ اس تبدیلی پر کچھ لوگ تو حالات کا تقاضا سمجھ کر مطمئن ہیں لیکن وہ لوگ جو بھرے پرے گھروں اور رونقوں کے عادی تھے، وہ شدید اداسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم زندگی کے اس موڑ پر مایوس ہونے کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ میسر وقت کو غنیمت جانا جائے۔ تنہائی کو بوجھ بنانے کے بجائے اسے مطالعہ، عبادت اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنا چاہیے تاکہ عمر کا آخری حصہ ذہنی سکون اور وقار کے ساتھ گزر سکے۔ زندگی کی اس تبدیلی کو قبول کر لینا ہی دانشمندی ہے تاکہ ماضی کی یادوں کے کرب میں رہنے کے بجائے حال کو بہتر بنایا جا سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here