ملک میں دہشتگردی ہے اورہم پارلیمانی وفد کو بمعہ خاندان عمرہ کی مفت سعادت کے لئے بھیج رہے ہیں۔ عوامی پیسوں سے عمرہ کرانے کا اسمبلی سے بل منظور کرا رہے ہیں۔ نہ ان پارلیمانی ممبرز میں کوئی غیرت ہے۔ نہ انکے اہل خانہ میں کوئی غیرت ہے، عوام بھوکی مرے اور پہلے لٹیرے پورے خاندان کو عمرہ پر لے جائیں ۔ یہ وہ قومی درندے ہیں جنہوں نے عوام میں احساس محرومی پیدا کررکھا ہے۔ یہی وہ روئیے ہیں جو نوجوانوں کو دہشتگردوں کے ہتھے چڑھنے پر مجبور کرتے ہیں، ریاست مخالف نظریات پروان چڑھتے ہیں۔ ہفتہ کی صبح چھ بجے بلوچستان کے بیسیوں مقامات پر بیک وقت دہشتگردانہ حملے ہوئے ۔ دہشتگرد کئی سیکورٹی آفیسرز، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر کو اغوا کرکے لے گئے۔ کوئٹہ ،مچھ، پسنی ،گوادر ،نوشکی ،ہرنائی، پنجگور،مستونگ ،کئی بینکوں ، پولیس اسٹیشنوں پر جدید اسلحہ سے حملے کیے گئے۔ تین پولیس اسٹیشنز اور تین بینکوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ڈی ایس پی سمیت سترہ سیکورٹی اہلکار اور اٹھارہ مقامی باشندے اس میں شہید ہوئے، ایک مقامی لیڈر کو بچوں سمیت شہید کردیا گیا، تقریبا دو سو دہشتگرد واصل جہنم ہوئے ۔بلوچستان کے بارہ اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات انتہائی منظم طریقہ سے کئے گئے۔بڑی تعداد میں ہیوی اسلحہ پکڑا گیا ہے، ہر دہشتگرد کے پاس کم از کم تیس سے چالیس لاکھ کا اسلحہ تھا۔ ایران اور افغان باڈرز پر دہشتگرد انتہائی متحرک ہیں۔ بی ایل اے کا سربراہ زیب بشیر پاک/ایران بارڈر پر مارا گیا ہے۔ ملک میں سیاسی افراتفری کے ساتھ سیکورٹی اداروں کی نااہلی بھی کھل کر سامنے آئی ہے۔ حکمرانوں کی نااہلیت کے خلاف آواز اُٹھانے پر بے حس حکمران اسے سیاست قرار دیتے ہیں۔ کرپٹ حکمرانوں نے نوجوان نسل کو تعلیم اور روزگار سے محروم رکھ کر انہیں دشمنوں کا آلہ کار بنادیا ہے۔ جب لوگوں کو انصاف،روزگار،صحت اور تعلیم میسر نہ ہو تو محرومیوں سے ستائے لوگ دہشتگردوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ کرپٹ مافیہ کی ناانصافیاں نوجوان نسل کو بغاوت پر اُکساتے ہیں۔ بیرونی ایجنسیاں نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کررہی ہیں۔ نوجوانوں کو راغب کرنے کے لئے عورتوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پاک افغان سرحد پر اسرائیلی بدنام زمانہ ایجنسی موساد کا نیٹ ورک متحرک ہے۔ پچیس اسرائیلی ایجنٹ ایرانی سرحد سے گرفتار کئے گئے ہیں۔ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی مسلسل دہشتگردی سے صوبہ میں امن انتہائی مخدوش ہے۔ بلوچستان کی دہشتگردی میں بھارت، امریکہ اور امارات فنڈنگ کررہے ہیں۔ قطر کا ٹی وی چینل الجزیرہ انتہائی غلط رپورٹنگ کررہا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف دہشگردی کے لئے استعمال ہورہی ہے۔ صوبہ بلوچستان،صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ دہشتگردوں کے نشانے پر ھیں،پاکستان کو افغان سرحد پر سیکورٹی حصار مضبوط کرنا چاہئے ۔ تاکہ دہشتگرد یہاں گھس نہ سکیں۔ یہاں کی صوبائی حکومتیں نااہل اور کمزور ہیں۔ ڈکٹیٹروں کی مرہون منت ہیں۔ انکی عوام میں نہ ہی جڑیں ہیں اور نہ ہی پذیرائی۔ یہ لوگ اوپر سے مسلط کئے جاتے ہیں۔ اپنے جرائم کے خوف سے نہ عوام میں جاسکتے ہیں۔ اور نہ بغیر سیکورٹی گھوم سکتے ہیں۔ مرکز سے جو فنڈرز تعلیمی اداروں ،تعمیرو ترقی اور سڑکوں کیانفراسٹریکچر کے لئے مہیا کئے جاتے ہیں وہ کرپٹ عناصر ہڑپ کر جاتے ہیں۔ فنڈز نہ تو عوامی بہبود پر صرف ہوتے ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کو تعلیمی سہولیات اور روزگار فراہم کی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے نوجوان دہشتگردوں سے ٹریپ ہوتے ہیں۔ را کے ریاست مخالف جذبات ابھارنے میں ھماری ایجنسیوں کا اپنا بھی کردار ہے ،جو ناحق لوگوں کو اٹھا لیتے ھیں،جنکی کہیں شنوائی نہیں ہوتی،ایسے لوگ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ کرپشن کا دور دورہ ہے۔ سیاسی بلیک میلنگ ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی من پسند حکومتیں ہیں۔ غرضیکہ انہی کی ناک تلے کرپشن، لوٹ مار پنپ رہی ہے جو محروم طبقہ میں نفرت اورریاست مخالف بغاوت پیدا کرتی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے وادی تیراہ میں لوگ مسلسل نقل مکانی کررہے ہیں۔ شدید برفباری ہے۔آپریشن کی آڑ میں لوگوں کے لئے مشکلات پیدا کردی گئی ہیں۔ بلوچستان کے علاوہ کراچی میں بھتہ خوری بڑھ گئی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کا نیٹ ورک ایکٹو ہو چکا ہے۔ ان حالات میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں جس کا ادراک نہیں کیا جارہا۔ سندھ حکومت نے کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنادیا ہے۔ قیمتی زمینوں، پلاٹوں پر پیپلز پارٹی قبضے کررہی ہے۔ بلدیاتی ادراروں میں ڈاکو راج ہے۔ کراچی ایکبار پھر بدامنی کیطرف بڑھ رہا ہے۔ بلوچستان ،سندھ اور خیبر پختونخواہ پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ تاکہ عوامی مسائل کو حل کیا جاسکے ۔لوگوں میں عدم تخفظ اور خوف بڑھ رہا ہے۔ عام آدمی کی مشکلات اور مسائل کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے ۔ انکی جائز آواز کو نہ دبایا جائے ۔کل جب یہ حکمران نہیں ہونگے تو انہوں نے اسی عوام میں واپس جانا ہے۔ ویلیج، ٹاون، یونین کونسلوں اور دیہات میں بلدیاتی نظام کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بلدیاتی اداروں اور مقامی حکومتوں کے زریعے عوام سے رابطہ ضروری ہے تاکہ مقامی لوگ رابطہ کے زریعہ دہشتگردوں پر نظر رکھ سکیں۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ موجودہ حکومت ہو یا اپوزیشن ھمارا ایجنڈا پاکستان ہونا چاہئے۔ پاکستان سے نفرت کرنے والے تمام لوگوں سے تعلق ختم کرنا چاہئے۔ ہمیں پاکستان مخالف عناصر سے کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ جو پاکستان کے دشمن ہیں۔ پاکستانی عوام کے دشمن ہیں وہ کبھی بھی ھمارے دوست نہیں ہوسکتے۔ اس لئے ہمیں طے کرنا پڑے گا کہہم اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یا دشمنوں کے ساتھ۔ ؟ ملک میں دہشتگردی پر خوش ہونے والے عناصر کبھی بھی ملک کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے ۔ خصوصا پی ٹی آئی کے یو ٹیوبرزصحافی جو بیرون ملک بیٹھ کر مودی کی زبان بولتے ہیں۔ یہ ہمیشہ منفی خبریں پھیلاتے ہیں۔ انہیں شرم آنی چاہئے ۔پاکستانی قوم ان عناصر پر نظر رکہے جو ملک وقوم کے خلاف باہر بیٹھ کر عوامی جذبات بھڑکاتے ہیں۔ہم ایسے عناصر کو بھی دہشتگردوں کی صف میں سمجھتے ہیں۔
ملک میں نفرت کی سیاست سے سیاسی جماعتوں میں خلیج بڑھ رہی ہے۔ پی ٹی آیی ،ن لیگ،ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو مثبت سیاست کرنی چاہئے ۔ان جماعتوں کے لوگ جب اقتدار سے الگ ہوتے ہیں ،تو ریاست مخالف ہوجاتے ہیں۔ اقتدار میں آتے ہیں تو ملک سے وفاداری کی بھانسری بجاتے ہیں۔ اگر فیلڈ مارشل اور وزیراعظم شہباز شریف کو صدر ٹرمپ کی چاپلوسی سے فرصت ملے تو ملک کے اندورنی حالات پر بھی توجہ دیں۔ بھارت سے بلوچستان کے حوالہ سے کھل کر بات کرنی چاہئے ۔ جو لوگ اسرائیل سے بہتر تعلقات کے لئے مرے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں اسرائیلی مداخلت سے انکی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔اسرائیل کو بھی جواب دینا چاہئے۔ تاکہ وہ کسی وہم میں نہ رہے۔بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں داعش کے بدبختوں پر نظر رکہیں۔ داعش نے یمن، شام، لیبیا اور عراق کوتباہ کیا ۔جنکے پیچہے اسرائیل ہے۔ بلوچستان میں بھٹکے ہوئے نوجوان اور خواتین آزادی کے نام پر غیر ملکی ایجنسیوں کے آلہ کار ہیں۔ سیکورٹی فورسیز نے دو سو سے زیادہ دہشتگردوں کو نشان عبرت بنایا۔کئی درجن لوگوں نے ہتھیار پھینک کر اپنے آپ کو سیکورٹی فورسیز کے حوالے کردیا ہے۔ ریاستی اداروں کو طے کرنا پڑے گا کہ بی ایل اے ہو یا ٹی ٹی پی یا کوئی بھی دہشتگرد تنظیم ان دہشتگردوں کو بالکل نہ چھوڑا جائے۔ چن چن کا خاتمہ کیا جائے ۔انکا فوری تدارک پاکستان کے امن کیلئے ،معاشی ترقی کیلئے ضروری ہیں۔ پاکستانی فورسیز مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ انشااللہ عنقریب انکا بلوچستان سے خاتمہ کردیا جائے گا۔
قارئین!۔ بلوچستان سونے ، تانبے، تیل، گیس اور مینرلز سے مالا مال ہے۔ جم سٹونز، پتھر ،گرینائٹ اور کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں ،دشمنوں کی نظریں اس پر ہیں ۔ ڈیپ سی پورٹ ہے ، گوادر کی بندرگاہ ہے۔ ہمیں انتہائی سنجیدگی سے سخت اقدامات کرنا ہونگے ۔ بھارت کی پراکسی کو یو این او میں ایکسپوز کرنا چاہئے۔بھارت جھوٹے پراپگنڈہ کے ذریعے کرکٹ میں بھی سیاست گھسیٹ لایا ہے۔ آئی سی سی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کی جانبداری کے خلاف سخت موقف اپنا کر بھارت کو کرارا جواب دیاہے۔ محسن نقوی نے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھلنے کا فیصلہ کرکے آئی سی سی کو باور کرایا ہے کہ آئی سی سی بھارتی کرکٹ بورڈ نہیں ۔ یہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے۔ سب کو برابری کا حق ہے۔ اگر بھارت سیکورٹی کا بہانہ بناکر پاکستان آنے سے انکار کرسکتا ہے۔ دوطرفہ سیریز کا انکار کرسکتا ہے ، ہاتھ ملانے سے انکار کرسکتا ہے۔ تو پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی ایسے ہی حق حاصل ہے۔ پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہونا۔ ایک اخلاقی فرض ہے۔ انگلینڈ، آسٹریلیا اور ساتھ افریقہ کے بورڈز کو کھل کر ناانصافی کے خلاف بولنا چاہئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین نے ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کرکے بنگلہ دیش کے جائز موقف کی تائید کی ہے۔ اور بھارتی بورڈ کو واضح پیغام دیا ہے کہ کرکٹ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے ۔فیصلے برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں ۔پاکستان نے بھارت کو مئی میں عبرتناک شکست کے بعد کرکٹ کے میدان میں بھی قرار واقعی تھپڑ رسید کیا ہے۔ روزانہ کے بھارتی ڈرامے پر فل سٹاپ لگانے کے لئے یہ ضروری تھا۔ کھیلوں میں سیاست کی آمیزش نہیں نفرت پیدا کی ہے۔ گزشتہ دو روز سے پنجاب میں بیوروکریٹک بسنت منائی جارہی ہے۔ جن کے انتظامیہ سے اچہے تعلقات ہیں وہی بسنت منا سکے۔ بسنت کو ہر غریب اور امیر سبھی منایا کرتے تہے۔ اب اسے کمرشل کردیا گیا ہے۔ صرف بااثر اور امیر ہی منا سکتے ہیں۔ کئی متوسط اور غریب ڈور،پتنگ لیجانے ہوئے گرفتار ہوئے ۔ ملک میں نوجوان بچوں کی تفریحی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس کی وجہ سے نوجوان نشہ کی لت میں پڑھ رہے ہیں۔ دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو گرانڈز اور کھیلوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں کی ازسرنو اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ سستی اور معیاری تعلیم کی ضرورت ہے۔ جھوٹے اور مکار سیاستدانوں سے چھٹکارے کی ضرورت ہے۔ بیحیثت اوورسیز پاکستانی ملک میں بدامنی سے ھمارا دل کڑتا ہے۔ ھمارا ملک ھماری آن، شان اور پہچان ہے۔ ہمیں ملکر اسے مخفوظ بنانا ہے۔ ملک میں صرف جماعت اسلامی ہی ایسی جماعت ہے جو مثبت سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ لوگوں کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھاتی ہے۔ بلا رنگ و نسل لوگوں کی خدمت کرتی ہے۔ باکردار لوگوں کی نظریاتی جماعت ہے۔ عوام کو آئندہ الیکشن میں سوچنا چاہئے کہ کونسی جماعت اس قابل ہے جو حقیقی معنوں میں ملک وقوم کی وفادار ہے۔ عوام کو تعلیم، انصاف اور روزگار کی فراہمی پریقین رکھتی ہے۔ ہمیں ملکر عہد کرنا چاہئے کہ ہم ووٹ کی امانت اہل لوگوں کے سپرد کرینگے۔ ملک سے مہنگائی، بیروزگاری کا خاتمہ جنکا ہدف ہو۔ سستا انصاف ،سستی تعلیم جن کا مشن ہو۔آئین پاکستان پر یقین رکھتے ہوں ۔ اللہ بارک سے دعا ہے کہ مملکت خداداد کو نظریاتی اور عوام دوست حکمران نصیب فرمائے۔وطن عزیز کی خفاظت فرمائے ۔آمین
٭٭٭













