کراچی سے ہیوسٹن تک بندوخان کے کباب !!!

0
10
کامل احمر

حبیب جالب کا نام ذہن میں آتے ہی آمروں کے خلاف اُن کے اشعار ذہن میں ابلنے لگتے ہیں۔ اور یہ شعر !
”سربراہ ہوگئے کمینے لوگ۔۔خاک میں مل گئے کمینے لوگ
اور یہ بات اب امریکہ پر بھی حاوی ہے جہاں کے سیاست دانوں کا ٹولہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتا رہتا ہے ایک دوسرے کی ملک کے ساتھ آنکھیں بند کرکے دھول جھونکنے پر کلنٹن، اوبامہ، ٹرمپ، بائیڈین اور اب پھر ٹرمپ ملک کو جس سمت میں لے جارہے ہیں وہ امریکہ کو ڈبونے کے لئے کافی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ابتری کا عالم ہے صدر ٹرمپ کھل کر جھوٹ بولتے ہیں انہیں کسی مشیر کی ضرورت نہیں اور امریکنز بے چارے۔ بازیجہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے غالب نے یہ بات 19صدی میں کہی تھی۔ اور آج یہاں وہاں مطلب امریکہ اور پاکستان میں درست ہے مطلب شروع پاکستان بننے کے بعد سے ہوئی تھی اور آج تک پاکستان کو کوئی محب وطن نہ ملا۔ اور جو ملا تھا اُسے قتل کروا دیا گیا۔ اور اس قتل کے راز کو چھپانے کے لئے اس قاتل کو بھی فوری فارغ کردیا گیا بالکل ایسا ہی امریکہ میں ہوا جان ایف کینڈی کے ساتھ عجب اتفاق ہے جو پاکستان برطانیہ چھوڑ کر گیا تھا ہمیں یاد ہے جو کراچی برطانیہ چھوڑ کر گیا تھا وہ بھی یاد ہے ایک منظم شہر، جہاں بسیں اور ٹرامیں سڑکوں پر رینگتی تھیں اور ہم حیدر آباد سے کراچی ٹرام میں سفر کرنے کے شوق میں آتے تھے۔ بند روڈ، میکلوڈ روڈ صدر پرنس روڈ ایمپریس مارکیٹ، گاندی گارڈن کیا کچھ نہ تھا تفریح اور ضرورت کے تحت ہندوستان سے جو لوگ آکر بسے تھے جو پڑھے لکھے تھے انہوں نے ناظم آباد کی رونق بڑھائی اور باقی لالوکھیت، ملیر، لانڈھی میں جابسے۔ صدر کا علاقہ دیکھنے کے قابل اور تفریح کا مقام تھا اور گرد ریستوران، سینما، کتابوں رسالوں کی دوکانیں اور پھر کچھ غلط لوگ آئے سیاست میں اور سماج میں وہ قبضہ کر بیٹھے ان کے لیڈر فوجی آمروں کے بٹھائے لوگ تھے جو اپنے ذاتی فائدے کا سوچتے تھے۔ دینے کی بجائے لوٹتے تھے۔ اور آج جو نقشہ ہے وہ سامنے ہے آئے دن میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے بے ہودہ کارناموں سے بھرا رہتا ہے۔ سندھ کو زرداری ہڑپ کر بیٹھا ہے جنرلوں کو دھمکی دے کر صدر بنا ہوا ہے من مانی کر رہا ہے اس نے اپنی بہن فریال(ادی) کے علاوہ وزیراعلیٰ، میئر اور شرجیل جیسے ملزموں کو وزارتیں دے رکھی ہیں۔ اور ہم ادھر اور تم ادھیر کے قول پر جنرلز اور شریف خاندان دن رات ملک کو لوٹ رہے ہیں عوام کو جنرلوں نے گھروں میں گھس گھس کر انکی ماں بہنوں، بیٹیوں لڑکوں کو اٹھا کر بند کردیا ہے کچھ کا پتہ بھی نہیں کہاں ہیں۔ یہ کہانی جاری ہے اور اس ملک کے سب سے بڑے پسندیدہ لیڈر کو امریکہ کی بات نہ ماننے پر جیل میں بند کردیا ہے ہمیشہ کے لئے امریکہ کے حکم پر کہ وہ ہی واحد لیڈر ہے جو ملک وقوم کے لئے بولتا ہے اور اب یہ بات امریکہ کے صدر ٹرمپ کو پسند نہیں جو اسرائیل کے پٹھو بنے بیٹھے ہیں وہ ہی ان کو کچہرے سے اٹھا کر دوبارہ صدر بنانے والے ہیں اس سلوگن کے تحت MAKE AMERICA GREAT اور اس میں AGAIN کا اضافہ کیا ہے۔ ادھر پاکستان میں شیکپیر کے ڈرامے کا یہ قصہ درست ہے ”دوزخ خالی ہے اور تمام شیطان یہاں پر ہیں” زرداری، نوازشریف اور عاصم منیر کی شکل میں اور سوشل میڈیا پر باجماعت پروپیگنڈا کر رہے ہیں چاہے کوئی پڑھے یا نہ پڑھے، یقین کرے یا نہ کرے بے ہودگی عروج پر ہے۔ تمام مولوی حضرات اپنے حلوے مانڈے کر رہے ہیں اور نچلے درجہ کے فتنہ نواز عمران خان کو بے عزت کرنے میں مصروف ہیں جنرلز اور ڈاکو حکومت کے بٹھائے ہوئے سب کے سب عمران خان کو جیل میں بند کرکے اپنی اور امریکہ کی خوشی میں شامل ہیں اور یہ برسوں چلتا رہے گا۔ مشکل ہے عمران باہر آجائے نہ یہ بدلینگے اور نہ عمران ملک کو تو کھولا کرچکے ہیں۔ وسائل بیچ چکے ہیں اور لوگ مجبور ہو کر ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور امریکہ آکر ہیوسٹن کو آباد کر رہے ہیں۔ہیوسٹن میں پورا کراچی آباد ہے جہاں بھی رہیں آدھے یا ایک میل کے اندر آپ کو حلال میٹ اور گراسری اسٹور ملے گا ہر بلاک میں میں دوکانیں اور ہر ملک سے آئے لوگوں کے ریسٹورانٹ اور دوکانیں ہیں۔ کوئی 25 سال پہلے یہاں کوئی ڈھنگ کا ریستوران نہیں تھا ایک انڈین ریستوران تھا صرف اور اب اس عرصے میں پورا کرچی آباد ہوچکا ہے۔ بابر غوری بھی یہاں قدم جما چکے ہیں اور بشیر چانڈیو سندھ کے صحافی مشہور وی لاگر بن کر عیش کر رہے ہیں۔ ہرویک اینڈ پر محفلیں، قوالیاں، شعروشاعری ہو رہی ہے لکھنئو ہے تو کہیں دلیّ اور کہیں میرٹھ موسی مارکیٹ کے ایریا میں جگہ جگہ لائن سے فوڈ ٹرک کھڑے ملینگے ترکی فوڈ اور اٹالین فوڈ، بار بی کیو اور سب سے مشہور میرٹھ بار بی کیو ہائوس ہمارے کزن سے ہم نے کہا کہ بھائی یہاں کہیں اچھے کراچی والے سیخ کباب ملینگے ”بالکل ملینگے” سمیع انصاری جو ہمارے کزن ہیں نے جواب دیا وہ شام کو ہمیں موسیٰ مارکیٹ جو ان کے گھر کے قریب ہے لے گئے، ہر چند کہ موسم ٹھنڈا تھا لیکن پارکنگ ملنا مشکل تھا تو گرمیوں میں کیا ہوگا جب لوگ گھروں سے نکل کر یہاں شامیں آباد کرینگے ان کا جواب تھا پڑوس میں گھروں کے سامنے گلی میں سڑک پر اور وہاں کے رہائش تنگ بلکہ بہت تنگ ہیں رات بارہ سے ایک بجے تک یہاں رونقیں ہوتی ہیں۔ ہیرٹھ بار بی کیو کے پاس لائن میں لگ سڑک کی دیوار پر مینو لکھا تھا نظر بیف کباب پر پڑی قیمت پڑھی 11.99 یلس ٹیکس، بیف بہاری 12.99 فیمس پراٹھا ( جو پوری تھا) $.3.49 نان $ 2.50 چکن تکہ $ 7.50 سیخ کباب کی تصویر بتا رہی تھی تین کباب لیکن وہاں بیٹھ کر ٹیک آئوٹ کھولا اور کباب پر جھپٹے وہاں دو چھ چھ انچ کے کباب تھے ماشاء اللہ کھائے ذائقہ دار تھے بیف بہاری بھی ذائقہ دار تھا۔ ہم سمجھتے تھے نیویارک کے ریستوران لوٹ مار کرتے ہیں جہاں پنجاب آباد ہے اور ان کی قیمتیں کم ہیں مگر ذائقہ نہیں کوئی بتائے نان وہاں کہاں ملتے ہیں البتہ بیوسٹن میں اگر ٹھلے والوں کے کھانے لذیذ ہیں اور ریستوران کیسا ہوگا برابر میں ٹرکش فوڈ میں ایک لڑکی کھڑی تھی۔ وہاں کوئی گاہک نہیں تھا پوچھا وہ ترکی سے ہے مینو میں ڈونر کباب ڈھونڈ رہے تھے جب نہ ملے تو پوچھا ”ڈونر کباب ہیں” اس نے حیرت سے جواب دیا ”وہاٹ” ہم نے پوچھا ”آریوٹرکش” اس کا جواب تھا یاہ آپ اندزہ کرلیں کہ نقلی لوگوں نے بھی ٹرک کھڑے کر رکھے ہیں دوسرے دن ہمارے سمدھی قادری صاحب ایک اچھے شاپنگ مال میں بندو خان میں لے گئے۔ وہاں بھی مینو میں وہ ہی کچھ تھا جو میرٹھ ٹرک دامے کے پاس تھا۔ لیکن اچھی سروس اور بکری کے سیخ کباب (پہلی بار) گائے کے سیخ کباب بہاری کباب جواب نہیں تھا۔ برسوں پہلے کوئی 66برس ہوئے کراچی میں بندو خان کے کباب کھائے تھے۔ بعد میں دوبارہ انگلیوں کے برابر کباب کھائے مگر ہم کہہ سکتے ہیں۔ سب چیزیں ذائقہ دار تھیں اور قیمت میرٹھ ٹرک والے سے کم۔!!
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here