میئر ممدانی کا ہاٹ ٹبس کی خریداری کا حکم!!!

0
11
حیدر علی
حیدر علی

جب سے ظہران ممدانی نیو یارک سٹی کے میئر منتخب ہوے ہیں ، اُس وقت سے ایک نئی وباء اِس شہر میں پھیل گئی ہے، نیویارک سٹی کے جب بھی کسی عہدے کیلئے انتخاب کا اعلان ہوتا ہے تو درجنوں ساؤتھ ایسٹ ایشین لائن لگا دیتے ہیں، اُنہیں مقامی امریکیوں کے ذائقے کا علم ہوگیا ہے کہ وہ ایشیائی لوگوں کو پسند کرتے ہیں اگر امیدوار مسلمان ہوتی ہے تو فورا”حجاب پہن کر مسجد کا دورہ شروع کر دیتی ہے ، مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بس یہ محترمہ اسٹیٹ اسمبلی کی رکن بننے والی ہیں، بلکہ ایک مرتبہ تو مسجد میں ایسی ہی ایک امیدوارن کو اپنے شوہر کو ڈانتے ہوئے بھی میں نے مشاہدہ کیا اور اِس نتیجے پر پہنچا کہ اگر یہ منتخب ہوگئی تو اپنے حلقے کے لوگوں کا کیا حشر نشر کردے گی ، لیکن انتخابات سے کہیں زیادہ اِن دنوں برفباری موضوع بحث بنا ہوا ہے جو بچ گئے وہ پِٹ گئے، مطلب یہ کہ وہ حضرات جن کے گھر کے سامنے والی سڑک پر تا ہنوز برف جمی ہوئی ہے وہ خوش قسمت نہیں ہیں،کیونکہ میلوں میل والی لانبی سڑک سے برف کب صاف ہوگی اِسکا کسی کو اتا پتا نہیں، میں تو اِس صورتحال پر نظر ثانی کر رہا ہوں تو میرے علم میں یہ بات لائی گئی ہے بلکہ مجھے مطلع کیا گیا ہے کہ چونکہ مذکورہ سڑکیں میونسپلٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں اِسلئے وہ اُن سڑکوں سے برف صاف نہیں کر سکتے ہیں، وہ پراپرٹی ٹیکس لے سکتے ہیں، پانی اور سیوریج کی بلز بھیج سکتے ہیں لیکن سڑک سے برف صاف نہیں کرسکتے بیشتر ایسے اپارٹمنٹ یامکانات کو آپ کے زیر ماتحت ہیں ، لہٰذا اُن کے ارباب اختیار کا یہ فرض ہے کہ وہ جلد از جلد اُن سڑکوں سے برف صاف کروائیں، آپ کے مالکان برف صاف نہ کرنے سے روکے رکھنا اُن کے منافع کی وجہ ہے مثلا”جس دِن برفباری ہوئی اُس کے دوسرے دِن اُس کی صفائی کرنے پر اُنہیں پانچ ہزار ڈالر معاوضہ ادا کرنا پڑیگا ، اُسکے تیسرے اور چوتھے دِن وہی معاوضہ کم ہوکر تین ہزار ڈالر ہوجائیگا اور اگر وہ اﷲ کی نعمت پر بھروسہ کرتے ہیں اور شاید بارش بھی ہو سکتی ہے تو کو اُن مالکان کی پوری پانچ ہزار ڈالر کی رقم بچ سکتی ہے ، اور وہ نفع میں شمار ہوتی ہے۔اِس اسرار و رموز سے واقفیت کیلئے مجھے اور میری بیگم کو کافی وقت صرف کرنا پڑا تھا، دراصل میری بیگم کو یہ شکوہ ہے کہ میں نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کا اندھا دھن حمایتی ہوں، اگر وہ کہتے ہیں کہ شام ہوچکی ہے تو میں لقمہ دیتا ہوں کہ نہیں حضور ابھی تو صبح ہوئی ہے بہرکیف مجھے اور میری بیگم کو میئر ظہران ممدانی کی رپورٹ کارڈ تیار کرنی تھی ، کیونکہ ہمارا سابقہ سال نو کی سب سے زیادہ قیامت خیز برفباری سے ہوا تھا اور سارے نیویارک کے باسی میئر ممدانی کو زمین دوز خدا سمجھ کر اُس کی جانب متوجہ تھے،میئر کے مجھ جیسے حمایتی خدا وند کریم سے دعا گو تھے کہ وہ اُسے فتح و کامرانی سے سرفرازے۔ ایمرجنسی کے دوران کسی پھڈے کا رونما ہونا ایک عام بات ہے چند سال قبل ہی برفباری کے دوران نیویارک شہر کی ساری الیکٹرک بسیں ناکارہ اور ناقابل استعمال ہوکر سڑکوں پر پھنس گئیں تھیں اور جس کی وجہ کر برف کی صفائی کا کام ٹھپ ہوکر رہ گیا تھا جب شہر کے ایک کونے میں کمزوری کا کوئی اندیشہ نظر آتا ہے تو شہر کے دوسرے کونے کے لوگ بھی اپنی بِلوں سے نکل کر میئر پر تنقید شروع کردیتے ہیں، اُن کا گلہ ہوتا ہے کہ ہائے اﷲہمارے گھر کے سامنے والی سڑک سے برف چار دِن تک صاف نہیں ہوئی ہے، میں کس
کے پاس جاؤں اور کس سے گلہ کروں؟
ٹھیک ہے رپورٹ کارڈ میں سڑکوں سے برف کی صفائی کا سارا سہرا میئر کے سر نہیں جاسکتا ہے،کیونکہ برف اب بھی یعنی اِس کالم کی تحریر کرتے وقت بھی سڑکوں پر جمی ہوئی ہے. ماضی میں برفباری کے دوسرے دِن ہمارے علاقے اسٹوریا کوئینز کی سڑکوں یا سائڈ واک پر جمی ہوئی ساری برف کو اٹھاکر اسٹوریا پارک کے پارکنگ لاٹ میں لے جاکر پھینک دیا گیا تھا، پارک میں جانے والے لوگوں کی تعداد
اکا دکا تھی ، کیونکہ جاگنگ ٹریک اور سارا میدان خود برف سے ڈھکا پڑا تھالیکن پارکنگ لاٹ پر ایک تیس فٹ اونچا برفانی پہاڑ کھڑا ہوگیا تھا۔ مجھے پتا نہیں کہ وہ پہاڑ کتنے دِن تک وہاں کھڑا رہا،
یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا میں جہاں جہاں برف پڑی ہے وہاں یہ لوگوں کے سر پہ مسلط ہے۔ میرے بھتیجے نے ورجینیا سے مجھ بتایا کہ اُس کے یہاں بھی صرف ہائی ویز سے برف کو صاف کی گئی ہے اور باقی جگہوں کو اﷲ تعالیٰ کے حوالے کردیا گیا ہے، مطلب یہ کہ اُن کمرشل یا ریسیڈنٹیل علاقوں سے کب برف صاف ہوگی یہ بھی ایک معمہ سے کم نہیں۔
یہ لیجئے اب ایک نئی مشین معرض وجود میں آئی ہے جو ٹن کے برف کو منٹوں میں پگھلادیتی ہے جیسا کہ میئر کی آفس سے یہ اطلاع دی گئی ہے کہ نیویارک شہر کے پانچ بوروز میں آٹھ ایسے ہاٹ ٹبس کو
تقسیم کیا گیا ہے ، ہر محلے دار برف پگھلانے والے ہاٹ ٹب کو لینے کیلئے بے چین ہے ،ماہرین کی رائے میں نیویارک شہر میں ایسے پانچ ہزار ہاٹ ٹبس کی ضرورت ہے جو اِس پیمانے کی برفباری کو ایک دِن میں صاف کرسکے، جب میں نے ایسے ہی ایک ہاٹ ٹب کو اپنے گھر کیلئے خریدنے کا عندیہ دیا تو اِس کے بنانے والی کمپنی نے مجھے سوئیٹزرلینڈ کی واپسی ٹکٹ بھیجنے کی پیشکش کی تاکہ میں وہاں جاکر خریداری کے معاہدے کو آخری شکل دے سکوں، میں نے اُس کی تسلی کیلئے یہ کہہ دیا کہ میں اپنی بیوی سے پوچھ کربتاؤنگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here