ہمارے ہیوسٹن کی ایک معروف ادبی شخصیت رائٹر، ڈائریکٹر، اداکار مسعود بھائی سے گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی المنائی کی سالانہ تقریب میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے گلہ کیا کہ شمیم کچھ تلخ حقیقتیں ہیں ان پر کچھ لکھو جس طرح ہمارا معاشرہ دن بدن پستی کی طرف جا رہا ہے، ہمارے ہیوسٹن میں جس طرح سے ہم ایوارڈ کا انعقاد ہوا اور لوگوں کو صرف اپنے آرٹسٹوں کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ مہنگے ٹکٹوں کے باوجود ٹوٹ پڑے تھے لیکن اس کے باوجود پچھلے دنوں ایک فلاحی ادارے نے ایک فنڈریزنگ کا اہتمام کیا، کھانے کا بھی انتظام تھا اور ٹکٹ بھی اتنا نہیں تھا کہ لوگ خرید نہ سکیں۔ آرگنائزیشن کا کہنا ہے بہت کم لوگ آئے کیوں نہیں آئے تو کہنے لگے ”نا آنے کے سو بہانے” ہال کا جب دروازہ کھلتا تو خوشی ہوتی کہ شاید ایک مہمان اور اندر آگیا مگر مڑ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ اپنی سی آرگنائزیشن کمیٹی کا ممبر ہے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگ ایسے پروگراموں میں کیوں نہیں آتے کہ ان پروگراموں میں لوگوں کی دلچسپی کا سامان نہیں ہوتا یہ بھی ہوتا ہے کہ آرگنائزیشن کا کام کیسا ہے اس کی صحیح معنوں میں تشہیر بھی ہوئی ہے یا نہیں ہمارے ہیوسٹن مین اتنے فنڈریزنگ پروگرام ہوتے ہیں کہ لوگ تنگ آجاتے ہیں تھوک کے حساب سے آرگنائزیشن بنی ہوئی ہیں اور ہر کوئی منہ اُٹھا کر ہیوسٹن کی طرف چلا آتا ہے۔ ہماری کمیونٹی کا لوکل پروگراموں میں غیر دلچسپی کا شکوہ بجا ہو سکتا ہے مگر یہ بات بھی دُرست ہے کہ لوگوں کی دلچسپی کیلئے کھانا، گانا اور لمبی لمبی تقاریر سے آگے کرنے کا سوچنا ہوگا، مثلاً چند ماہ پہلے ہیوسٹن میں مسعود احمد کا لکھا ہوا ڈرامہ اسٹیج پلے ہوا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر آپ آرٹس اور ادبی معیار کے پروگرام کریں تو لوگ ضرور آتے ہیں جیسے کہ فنڈریزنگ جب شوکت خانم، انڈس ہسپتال، ایس آئی یو ٹی، حسیب یونیورسٹی کی ہوتی ہے تو لوگ بڑی تعداد میں آتے ہیں اور فنڈز دیتے ہیں مسئلہ یہی ہے کہ آپ کی آرگنائزیشن کے بارے میں لوگ کتنا جانتے ہیں اس لیے اگر پروڈکٹ اچھی ہے تو ضرور بکتی ہے۔ رسک تو ضرور ہوتا ہے مگر اپنے پروگراموں میں ایسی چیزیں شامل کرنے کیلئے ہمت اور جذبہ بھی چاہیے صرف یہ کہتے رہنا کہ لوگ ہمارے پروگرام میں نہیں آتے آج کی دوڑ بھاگ کی مصروف زندگی میں ہر کسی کو چند لمحے اپنے وقت سے ہٹ کر تفریح کیلئے درکار ہوتے ہیں اور اس کیلئے پاکستان سے ہی نامور فنکار بلکہ ہزاروں ڈالرز خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کے اپنے شہر یا دوسری ریاستوں میں ہر شعبہ میں پایۂ کے معیاری پروفیشنل افراد اب بھی موجود ہیں جن کی شمولیت سے آپ اپنے پروگراموں میں کشش پیدا کر سکتے ہیں کامیاب بنا سکتے ہیں جیسے ہیوسٹن میں تحسین جاوید، علی حیدر اور دوسرے فنکار موجود ہیں شکاگو میں مُنی بیگم، مہدی حسن خان کے صاحبزادے عمران مہدی حسن، اٹلانٹا میں کامران مہدی حسن جیسے بڑے فنکار موجود ہیں جن سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور اپنے پروگراموں کو کامیاب بنایا جا سکتاہے ضرورت صرف اپنی سوچ کی تبدیلی کی ہے۔ ورنہ یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!
٭٭٭












