واشنگٹن(پاکستان نیوز)ٹرمپ حکومت کی غیرقانونی تارکین کے خلاف کارروائیاں نجی و سرکاری اداروںپر بھاری ثابت ہوئی ہیں ، اس وقت ملک میں ہر ادارہ 30 سے 45فیصد ورک فورس کی کمی کا شکار ہے ، کیلیفورنیا میں آئس کے ایک چھاپے کے دوران فارمز ہائوس کے 80فیصد ملازمین گرفتار کر لیے گئے، اندازے کے مطابق چار ہزار کے قریب ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے، 2ارب ڈالر کی فصلیں کھیتوں میں کٹائی کی منتظر ہیں، کوئی ڈش واشر نہیں، کوئی کلینر نہیں، نرسنگ ہوم میں ملازمین ناپید ہیں، ایک نرسنگ ہوم کو مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے ، کام بند ہونے سے کھانے ، پینے کی اشیا بھی مہنگی ہوگئی ہیں، ملازمین کی عدم فراہمی کے خلاف امریکہ بھر میں احتجاج جاری ہے، مظاہرین نے نہ کام ، نہ اسکول، نہ خریداری کی اپیل کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں جاری ہڑتال کی کال امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں 2 امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد دی گئی تھی جس کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی کانگریس رکن البان عمر سمیت کئی منتخب نمائندوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی، ایریزونا، کولوراڈ و مشی گن، اٹلانٹا اور پورٹ لینڈ سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے اور طلبہ کی جانب سے واک آٹ کیا گیا جبکہ بعض ریاستوں میں اسکول بند رہے۔ بین الاقوامی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے 37 سالہ الیکس پریٹی کی ہلاکت پر شہری حقوق کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تا ہم 37 سالہ رینی محول گنڈ کی ہلاکت پر تا حال کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔ امریکی حکام کے مطابق پریٹی کی ہلاکت کی مکمل چھان بین اب ایف بی آئی کرے گی۔ ابتدائی طور پر حکومتی عہدیداروں نے دعوی کیا تھا کہ پریٹی نے اسلحہ لہرایا تھا تاہم بعد میں اس واقعے پر کئی پر سوالات اٹھ گئے ۔ واشنگٹن ڈی سی، ایریزونا ، کولوراڈ وہ مشی گن، اٹلانٹا اور پورٹ لینڈ سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے اور طلبہ کی جانب سے واک آٹ کیا گیا جبکہ بعض ریاستوں میں اسکول بند ر ہے۔ بین الاقوامی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے 37 سالہ الیکس پریٹی کی ہلاکت پر شہری حقوق کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم 37 سالہ رینی نکول گڈ کی ہلاکت پر تا حال کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔ امریکی حکام کے مطابق پریٹی کی ہلاکت کی مکمل چھان بین اب ایف بی آئی کرے گی ۔ ابتدائی طور پر حکومتی عہدیداروں نے دعوی کیا تھا کہ پریٹی نے اسلح لہرایا تھا تاہم بعد میں اس واقعے پر کئی پر سوالات اٹھے گئے ۔ دوسری جانب کھول گڈ کو ابتدا میں دہشت گرد قرار دیا گیا مگر بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیجز کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ وہ موقع سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔









