ارادہ تھا کہ عالمی اُفق کی بشمول امریکی و ایران کشیدگی اور امریکی اندرونی صورتحال پر کالم معنون کریں لیکن مثل مشہور ہے کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو اولیت گھر کو دی جاتی ہے۔ وطن عزیز کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ ہفتے بارہ شہروں میں جو قیامت برپا ہوئی پاکستان کی تاریخ میں غالباً اس کی کوئی نظیر نہ ملتی ہو۔ بی ایل اے کی بھارتی سہولت کاری کے طفیل پاکستان دشمنی کا سلسلہ تو کئی عشروں سے جاری و ساری ہے اور اس کا قلع قمع کیا جاتا رہا ہے لیکن اس بار بیک وقت دارالحکومت کوئٹہ سمیت 12 شہروں (بعض خبروں کے مطابق 16) پر وطن دشمنوں کا حملہ بہت سے سوالوں بالخصوص سیکیورٹی ناکامی پر باعث تشویش ہے۔ ہم جس وقت یہ سطور تحریر کر رہے ہیں نوشکی سمیت کئی شہروں میں اب بھی شدید لڑائی کی اطلاعات آئی ایس پی آر کے توسط سے سامنے آرہی ہیں۔ سرکاری ذرائع اور انٹیلی جنس معلومات کے پس منظر میں دہشتگردوں کا صفایا کرنے کا سلسلہ جاری تھا اور اس کی آگاہی بھی دی جا رہی تھی۔ گزشتہ جمعہ کو 41 دہشتگردوں کو جہنم رسید کرنے کی خبر بھی آئی لیکن اگلے دن ہی دہشتگردوں کے مذکورہ حملوں، تھانوں، ایف سی ہیڈکوارٹرز، سی ٹی ڈی، سرکاری دفاتر اور بینکوں پر حملے، سرکاری افسر کا اغواء اور معصوم بلوچوں بشمول خواتین و بچوں کے قتل عام کا سلسلہ گیارہ گھنٹے تک جاری رہا حتیٰ کہ ریڈ زون بھی سیل کر دیا گیا۔ تآنکہ فوج نے آکر حالات کوسنبھالا۔ قارئین تاحال حقائق سے یقیناً پوری طرح واقف ہو چکے ہیں، ہم نے گزشتہ سطور میں سیکیورٹی و اطلاعات کے فیلیور پر نشاندہی بے وجہ نہیں کی ہے، حقیقت یہ ہے کہ بی ایل اے، بی این ایف و بی وائی ٹی کی پاکستان دشمن اور آزاد بلوچستان کی ناپاک سرگرمیاں حال کی بات نہیں، بھارت و افغانستان اور بعض مغربی طاقتوں کی سپورٹ و سہولتکاری سے بلا مبالغہ وہ بلوچستان کے درپے ہیں۔ جعفر ایکسپریس پر حملے کا سرغنہ بشیر زیب ہی اس قیامت خیز کارروائی کا بھی لیڈر منصوبہ ساز بتایا جاتا ہے اور افغانستان میں رہتے ہوئے آپریشن کو کمانڈ کرتا رہا ہے۔ بات پھر اسی پوائنٹ پر آجاتی ہے کہ بلوچستان و کے پی کے حوالے سے سنگین ترین حالات کے باوجود ہمارے جاسوس و سیکیورٹی اداروں کو اس حقیقت سے آگاہی نہ ہو سکی کہ وطن دشمنوں نے اپنے مقاصد کیلئے علاقہ مکینوں کو بزور یا بالرضاء مغوی یا سہولتکار بنایا ہوا ہے۔ سریاب روڈ یا دیگر علاقوں کی گلیوں سے نکل کر دہشتگردوں کا حملہ آور ہونا اس امر کا سبب نظر آتا ہے کہ مقامی سطح پر مخبری یا کھوج کا عنقا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک زمانے میں ہر تھانے، علاقے کی سطح پر سادہ لباس اسپیشل برانچ کے عمال اور مخبر بلکہ کھوجی بھی حالات پر نظر رکھتے اور متوقع سرگرمیوں کی خبر رکھتے تھے اور متعلقہ اتھارٹیز کو خبر دیتے تھے کہ امن و امان اور حالات پر کنٹرول رہے۔ اب حالت یہ ہے کہ اسپیشل برانچ ہو یا سی ٹی ڈی ان کے طریقۂ کار اس حد پر آچکے ہیں کہ وقوعہ یا واردات ہونے پر اقدام کرتے ہیں، جہاں تک مرکزی ایجنسیز کا تعلق ہے ان کے فرائض کا دائرہ گلیوں و علاقوں کے حوالے سے انفارمیشن کی بناء پر ہوتا ہے۔ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تھانوں و علاقوں پر مروجہ سابقہ طریقہ کار بحال کئے جائیں تاکہ کم از کم بی ایل اے جیسے ملک دشمنوں کی گرفت کی جا سکے۔ حالیہ ڈیجیٹل دور میں اطلاع اور واقعات سے قبل ان کا کنٹرول و سد باب مشکل نہیں!دل تو چاہتا تھا کہ ورلڈکپ کے حوالے سے پاکستان کی اسٹریٹجی اور بھارت و آئی سی سی کی ناکامی و بد حواسیوں کے حوالے سے کچھ تبصرہ کیا جائے لیکن وطن عزیز کی موجودہ صورتحال میں یہ عرض کرنا ضروری ہوتا ہے کہ بلوچستان میں ہونیوالی بی ایل اے کی دہشتگردی محض آزاد بلوچستان اور بھارتی و افغان سہولت کاری تک محدود نہیں، حالیہ امریکہ و ایران کشیدگی، اسرائیلی وسعت گیری و شرق اوسط تک حکمرانی کے ایجنڈے کی کڑی بھی ہے۔ عقلمند کو اشارہ کافی، بلوچستان پاکستان کیساتھ ایران کا بھی حصہ ہے اور آزاد بلوچستان کا نعرہ بے معنی نہیں۔ ہماری وطن عزیز کے ارباب اقتدار و محافظین سے عرض ہے کہ دھرتی ماں کے تحفظ و سالمیت کا واحد ذریعہ اتحاد و یکجہتی ہے۔ سیاسی مخاصمت و رقابت کا راستہ چھوڑ کر وقت کا تقاضہ ہے کہ تمام سیاسی، حکومتی، ریاستی قوتیں اندرونی و بیرونی سازشوں و دشمنیوں کے مقابل ایک دیوار بن سکیں، محض سیاسی رقابت کی بناء پر عوام کے مقبول ترین لیڈر کیخلاف جانا مناسب نہیں، مکمل اتحاد و اتفاق سے دہشتگردی، ملک دشمنوں کو انجام تک پہنچانا ہی وطن کی سالمیت کا راستہ ہے۔ مانو نہ مانو جان جہاں اختیار ہے، ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔
٭٭٭













