نیویارک کی زندگی! !!
نیویارک اور اس کے گردونواح میں سردی کا بہت زور ہے، صرف ایک دن زور دار برف باری ہوئی ہے مگر سڑکوں پر ابھی تک برف ہے کیونکہ گھر کے آگے چلنے والی سڑک پر تو برف صاف کردی گئی ہے مگر سائڈ میں کافی برف جم جاتی ہے لہذا ایک دن کی برف باری کے بعد بھی کئی دن تک پیدل چلنے والے بھی پریشان رہتے ہیں اور گاڑی نکالنے والے بھی مگر ہی نیویارک کی زندگی ہے۔ ایک دن برف گرتی ہے اور دوسرے دن سے زندگی معمول پر لانے کی لوگ کوشش کرتے ہیں دوکانیں کھل جاتی ہیں سٹورز کھل جاتے ہیں سکول کھاتے ہیں بسیں چلنے لگتی ہیں ٹرین بھی چلنا شروع ہو جاتی ہے یوں لوگوں کو کوئی بہانہ نہیں ہوتا کے وہ کیسے کام پر جائیں موٹے کوٹ دستانے موٹی ٹوپیاں سب باہر نکل آتے ہیں اور لوگ انہیں پہن کر صبح ہی صبح کام پر جانے کے لئے نکال جاتے ہیں۔ سکول کے معصوم بچے دیکھ کر دل تھوڑا پریشان ہوتا ہے کے یہ کیسے سکول جائیں گے مگر دیکھا جائے تو یہ بچے سب سے زیادہ مضبوط اور بہادر ہوتے ہیں ماں باپ خوب پہنا اوڑھا کر دل کڑا کر کے انہیں باہر نکلتے ہیں اور یہ بچے ایسے آرام سے چلتے ہیں بلکہ سکول کے لئے بھاگ رہے ہوتے ہیں سردی گرمی کی ان کو پرواہ نہیں ہوتی سکول پہنچ کر سب کچھ بھول جاتے ہیں ہاں ماں باپ پریشان ہو رہے ہوتے ہیں کے ابھی دوبارہ پہن اوڑھ کر بچوں کو لینے سکول بھی جانا ہے مگر زندگی کا یہ سفر جاری رہتا ہے بچے بڑے ہو کر نیویارک کی مشکل زندگی کے عادی ہو جاتے ہیں۔نئے آنے والے بھی اس مشکل دوڑ میں شریک ہوجاتے ہیں کے نیویارک کی زندگی جتنی مشکل ہے اتنی ہی سہل بھی ہے بچوں کو بے شک پیدل سکول لے جانا پڑتا ہے۔ مگر ایسے علاقے بھی ہیں جہاں گاڑی میں تو بچوں کو بٹھا کر لے جاتے ہیں مگر والدین کے لئے یہ بھی ایک مشکل کام ہوتا ہے کے بچوں کو گاڑی میں ڈالو سیٹ بیلٹ باندھو، برفیلی سڑک پر گاڑی چلائو پھر سکول پہنچ کر سیٹ بیلٹ کھولو اور سکول کے اندر پہنچائو مائوں کا کہنا یہ ہے کے اس سارے عمل میں ان کی کمر دکھ جاتی ہے۔ اس لئے جو مائیں اپنے بچوں کو پیدل سکول لے جاتی ہیں ان کو نہ اپنے اوپر افسوس ہونا چاہئے اور نہ ہی اپنے بچوں پر اس بہانے سردی گرمی میں باہر واک بھی ہوجاتی ہے اور آگ گاڑی چلانے کی زحمت سے بچ جاتے ہیں،بچے بھی باہر کی فریش ہوا لے کر تازہ دم ہوجاتے ہیں۔ یہی نیویارک میں رہنے والوں کو خوش رکھتا ہے کے وہ آسانی تلاش کرلیتے ہیں جا بجا بسیں چل رہی ہوتی ہیں ان میں بیٹھ کر کہیں بھی چلے جائو بچے بھی تھوڑے بڑے ہوتے ہیں تو بس میں سکول چلے جاتے ہیں والدین بھی ہر وقت کی ڈرائیونگ سے بچ جاتے ہیں ایک طویل عرصہ نیویارک میں گزارنے کے بعد اور بچوں کو یہاں بڑا کرنے کے بعد جب میں نے نیویارک کے گردونواح کی زندگی دیکھی تو یہاں بہت آسانیاں نظر آئیں۔ اس لئے اگر آپ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں تو اس برف باری سے لطف اندوز ہوں کے نہ صرف صاف کرنی ہے نہ ہی گاڑی باہر نکالنے کا مسئلہ ہے۔
٭٭٭٭٭٭















