امریکہ میں پاکستانیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو امریکہ کی تعمیر ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں اکثریت میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں نہ صرف انفرادی ترقی کی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ بیک ہوم پاکستان بھی اربوں ڈالرز مسلسل بھیج رہے ملکی معیشت اور خاندانی ترقی بھی جاری ہے امریکہ میں یوں تو پاکستانی ہر شعبے میں موجود ہیں کاروباری شخصیات کے علاوہ میڈیکل کا شعبہ ہے ،اس میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی ڈاکٹر ہیں اور بہت ہی کامیاب ہیں ،امریکی معاشرے میں عزت اور احترام سے دیکھے جاتے ہیں ڈاکٹروں کی اپنی تنظیم اپنا رہنا ہر سال بہت بڑے بڑے اجتماعات کرتے ہیں بلکہ سال میں کئی تقریبات منعقد کرتے ہیں اور پاکستان میں کئی فلاحی منصوبوں پر کام کر رہے ہیںڈاکٹروں کا کام اپنے شعبے میں ترقی کرنا اور ہیلتھ کے شعبے میں لگن اور محنت سے کام کرنا ہے جو اکثریت میں پاکستانی ڈاکٹرز کر رہے ہیں لیکن پاکستانی کمیونٹی میں ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جو سیاسی طور پرایکٹو ہیں انہیں میں ایک ڈاکٹر کہیں نیوجرسی کے علاقے میں رہتے ہیں ان کی میرے خیال میں ایک یا دو ممبران پر مشتمل تنظیم بھی ہے۔ اس مختصر سی تنظیم کے تحت انہوں پاکستان سے کئی سینٹرز کو دعوت دی پاکستانی حکومت کے منع کرنے کے باوجود دو عدد سینٹرز امریکہ تشریف لائے ڈاکٹر صاحب نے کئی ایونٹس کی نشاندہی کی انہوں نے کہا کہ ہماری ملاقاتیں پانچ اراکین کانگریس اور سینٹرز سے ہونگی اور ہمارے ہمدرد میڈیا نے خوب خبریں اچھالیں کہ بڑی کامیاب اور تاریخی ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔ جب ہمارے واشنگٹن میں بہت ہی اہم صحافی نے وی لاگ کیا کہ کسی بھی رکن کانگریس سے ملاقات نہیں ہوتی سوائے ران الیسٹس جو ریبرن آفس بلڈنگ میں پانچ منٹ آئے دوسری تقریب میرپاٹ ورجینیا میں ٹیکساس کی متنازعہ شخصیت نے کی ہم نے بھی حقیقت پر مبنی آرٹیکل لکھ دیا لیکن انگریزی روزنامہ میں جھوٹی خبر کو ہم نہ لکھ سکے جب میزبان ڈاکٹر صاحب کو نمائشی خبروں کی بجائے حقیقی خبروں کا سامنا کرنا پڑا تو سیخ پا ہوگئے اور بڑی دھواں دار باتیں کرنے لگے اپنی ضد پر قائم تھے کہ یہ میٹنگز تاریخ میں لکھی جائیں گئی پریس کلب میں ایسی میٹنگز نہیں ہوئیں رہیبرن آفس بلڈنگ پہلی تقریب ہوئی تو یوں محسوس ہوا کہ ڈاکٹر صاحب فارم 47 کے نتیجے میں تنظیم بنا کر کام کر رہے ہیں ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے راقم الحروف 1999امریکہ میں صحافت سفر شروع کیا تو ابتداء میں ہی پاکستانی امریکن کانگریس تنظیم کے زیراہتمام اسی بلڈنگ میں سو سے زیادہ اراکین کانگریس اور سینٹرز شریک ہوئے اور یہ سلسلہ کئی عشروں پر تک جاری رہا ہمارے پاس مکمل تصاویر اور تفصیلات موجودہیں پاکستان سے کئی سیاسی رہنما جو صرف ان اجلاسوں میں شرکت کیلئے آتے تھے بعض اوقات سال میں کئی مرتبہ یہ وفود امریکہ کے دورے پر آتے تھے۔ پاکستانی امریکن کانگریس کے رہنما اور کئی آج حیات ہیں ان میں ڈاکٹر اشرف عباسی اعظم سواتی ڈاکٹر نثار چوہدری وکٹر گل ڈاکٹر اکرم پروفیسر وسیع اللہ ڈاکٹر حفیظ ڈاکٹر لقمان چوہدری اور کئی اور کئی دیگر رہنماء یہ تقریبات تین دن تک ہوتی تھیں ایک ڈے ایٹ دی ہل ایک سفارت خانہ پاکستان میزبان ہوتا تھا اور تیسرا دن گرینڈ ڈنر ایونٹ ہوتا تھا۔ پاکستانی سینٹرز اور اراکین اسمبلی کی لمبی لسٹ شرکت کرتی رہی ہیں پریس کلب میں ہر سال کئی پاکستانی پریس بریفنگ کرتے ہیں کوئی تاریخی بات نہیں2000سے لیکر آج تک عمران خان نواز شریف جنرل مشرف اور کئی اہم رہنما پریس کلب کے زیراہتمام تقریبات میں شرکت کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اتنے جذباتی اور غیر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ ہمیں پہلے نہیں تھا ایک سو سے زیادہ جھوٹی خبروں کے بعد ایک دو سچی خبر ملی تو سامنا نہ کرسکے اس میںقصور ہمارے میڈیا کا بھی ہے ڈاکٹر صاحب اتنی اچھل کود کرنے کی بجائے تھوڑا سا78سالہ تاریک کا مطالعہ کر لیتے تو شائد سمجھداری کا ثبوت دیتے جو اعلیٰ ظرف تجربہ کار سیاستدان ہوتے ہیںوہ تنقیدی خبروں پر خوش ہوتے ہیں اور بڑے اچھے انداز میں جواب دیتے ہیں کہ آئندہ ہم احتیاط کریں گے اور درست خبریں دیں گے لیکن ڈاکٹر صاحب نے فارم 47 تنظیم ہونے ثبوت دیا ہماری کسی سے کوئی عداوت یا دشمنی نہیں ہے کوشش کرتے ہیںہے کہ اپنی بساط کے مطابق صحافتی ذمہ درایاں پوری ایمانداری سے پوری کریںسچی خبروں سے ہمارے قریبی دوست بھی ناراض ہوتے ہیں کیونکہ سچ کا سامنا نہیں کرسکتے امید ہے اس دفعہ ڈاکٹر صاحب انتہائی اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں گے اور اس آرٹیکل کو خوش آمدید کہیں گے۔
٭٭٭٭٭











