چند روز قبل میں نے جوش ملیح آبادی کی نمازہ جنازہ کے بارے میں ایک مختصر تحریر لکھی تھی اور چند محبانِ جوش کا ذکر کیا تھا۔ عاشق کا درجہ و مرتبہ محب سے زیادہ ہوتا ہے۔ سید عون محمد رضوی عاشقِ جوش تھے اور عاشق کو تو ضربِ عشق سہنا پڑتی ہے اور سید عون محمد رضوی نے بڑی جوانمردی سے آمرِ وقت جنرل ضیا الحق کے حواریوں اور حاشیہ برداروں کے ہاتھوں یہ ضرب سہی۔ یہاں تک کہ شہادت کے درجہ پر فائض ہوئے۔ اِس خانوادہ کا تعارف چراغِ نور: قاہدِ اتحادِ بین المسلمین سید ابو محمد رضوی کی شخصیت پر لکھی گئی کتاب جسے ان کے فرزندِ ارجمند ممتاز ماہرِ تعلیم اور شاعرشمیم حیدر سید نے مرتب کیا ہے میں ایک جھلک ہے۔ اِس خانوادے کی علمی، ادبی ، سماجی اور سیاسی خدمات اتنی ہیں کہ وہ ایک کالم میں ان کا ذکر دریا کے مقابل قطرے کی مانند ہے۔ بقولِ مرزا غالب!
بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
جوش ملیح آبادی نے شہید عون محمد رضوی کا ذکر اپنی کتاب یادوں کی بارات میں کیا ہے اور شہید کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے۔ عون محمد رضوی شاعر اور خطیب تھے۔ آپ کو جوش اور ان کی شاعری سے عشق تھا۔ آپ نے محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں پاکستان ٹی وی پر شہرِ وفا کے عنوان سے جوش صاحب پر تین پروگرام کیے۔ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو جوش صاحب سے ان کی اقامت گاہ اسلام آباد پر ملنے آیا کرتے تھے۔ میں اس بات کا عینی گواہ ہوں کہ جنرل ضیا الحق کے استبدادی دورِ حکومت میں جب لوگوں کو سرِ عام کوڑے مارے جاتے تھے، جوش صاحب کے گھر پر سی آئی ڈی والے ڈیرہ جمائے رہتے تھے، ہر ملاقاتی کا نام نوٹ کرتے تھے، حکومتی ملازمین نہایت خائف تھے تو ایسے دورِ استکبار میں عون محمد ، سید عارف اور مجھ جیسے دیوانے جوش صاحب سے بلا خوف و خطر ملنے جاتے تھے۔
عون محمد رضوی پاکستان ٹیلیویژن اسلام آباد میں سینئر کنٹرولر پروگرامز تھے۔ جب جوش صاحب کا انتقال ہوا اور ان کے بیٹے سجاد خروش نے مجھے مطلع کیا تو میں فورا ان کی رہائش گاہ پر پہنچا ۔ چند لمحوں کے بعد میں نے دیکھا کہ عون محمد رضوی پاکستان ٹیلیوژن کی ٹیم لیے جوش مرحوم کے گھر ان کی وڈیو بنانے پہنچ گئے۔ عون محمد رضوی اور میں جوش مرحوم کی میت کے سرہانے کھڑے ہیں اور ٹی وی کے عملہ نے وڈیو بنائی جو آج بھی ٹی وی کے دفتری ریکارڈ میں موجود ہے۔ یہ وڈیو بنانے پر حکامِ بالا نے ان کی سرزنش کی۔ مجھے جوش ملیح آبادی کے نواسے فرخ جمال نے بتایا کہ جب کراچی پریس کلب کی تا حیات رکنیت کے لئے جوش صاحب اسلام آباد سے کراچی گئے تو عون محمد رضوی بھی ان کے ساتھ گئے۔ اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات لفٹیننٹ جنرل حبیب الرحمان نے اِس بات کا سخت نوٹس لیا اور عون محمد رضوی کا اسلام آباد سے تبادلہ کوئٹہ کر دیا۔ مجھے شہید عون محمد رضوی کے بھائی شمیم حیدر سید نے چند روز قبل جب میں ان کے چھوٹے بھائی سید ابنِ رضوی مرحوم کی تعزیت کے لیے ان کی رہائش گاہ پر گیا شہید عون محمد رضوی کی جراتِ رندانہ کے کئی واقعات سنائے۔ فاتحہ خوانی کے لئے حضرتِ جوش کے نواسے فرخ جمال بھی آئے ہوئے تھے اور جوش مرحوم اور شہید عون محمد رضوی کے بارے میں گفتگو رہی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنرل ضیاالحق کے دورِ حکومت میں جوش صاحب کا ماہانہ وظیفہ کیوں بند کر دیا گیا اور وہ کیوں معتوب ہوئے؟ اصل میں معاملہ یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کئی ادبی اور ثقافتی اداروں کی بنیاد رکھی۔ جوش مرحوم ، فیض احمد فیض اور احمد فراز کو اِن اداروں سے وابسطہ کیا۔ جنرل ضیا الحق نے زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی انتقامی کاروائیاں شروع کر دیں۔ فیض احمد فیض اور احمد فراز نے کئی سال لندن میں جلا وطنی کے دن گزارے۔ جوش صاحب وطن میں بے وطن رہے۔
ایسے میں عاشقِ جوش سید عون محمد رضوی شہید کیسے حکومتی چیرہ دستیوں سے بچ سکتے تھے۔
آج راولپنڈی اور اسلام آباد میں عون محمد رضوی روڈ کی تختیاں نصب ہیں۔ وہ آج بھی نہ صرف دلوں میں زندہ ہے بلکہ حقیقت میں زندہ ہے۔ از روئے قرانِ مجید شہید مرتے نہیں وہ زندہ ہوتے ہیں۔ حافظ شیرازی نے شاید شہید عون محمد رضوی جیسے شہدانِ عشق کے لیے کہا تھا
ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جرید عالم دوامِ م
٭٭٭













