چند دن پہلے میرے دیرینہ دوست کالج کے ساتھی مشہور شاعر ادیب وکیل انصاری صاحب سے گفتگو ہوئی تو ہمیں اپنے کالج کے طالب علمی کے دن یاد آگئے جب ہم دونوں ایک ہی وقت میں اسلامیہ کالج کراچی میں داخل ہوئے تھے جوکہ بہت ہی دلچسپ ڈائیلاگی واقعہ تھا کہ جب ہم ستمبر یا اکتوبر 1967 میں دونوں ایک قطار میں کھڑے تھے تو میرے ہاتھ میں مائوزے تنگ کی لال کتاب اور وکیل انصاری کے ہاتھ میں مولانا مودودی کی کوئی کتاب تھی جو ہمیں این ایس ایف اور اسلامی جمعیت طلبا کے سٹالوں سے ملی تھیں جو ظاہر کر رہا تھا کہ میں بائیں بازو اور میرا دوست دائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے جس کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے قریبی دوست بن گئے۔ جب 1970 میں طلبا یونین کے انتخابات منعقد ہوئے تو مجھے دوستوں نے طلبا یونین کے صدارتی امیدوار کے لئے نامزد کیا تو وکیل انصاری صاحب میری حمایت میں پیش پیش تھے جس میں مجھے کامیابی ہوئی یہ وہ وقت تھا کہ جب بنگال میں سخت بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ ہمارے پینل میں جنرل سیکرٹری کے امیدوار ایک بنگالی دوست بھی تھے جن کو بنگال میں ہنگاموں کی وجہ سے طلبا ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے مگر ہماری وطن پرستی اور ترقی پسند سوچ نے طلبا کو مطمئن کرلیا کہ بنگالی غدار نہیں ہیں یہ صرف فوجی حکمرانوں نے کیا ہوا ہے۔ جس سے بنگال میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے جس میں وہ بنگالی بھی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے جس کے بعد طلباء یونین کے تحت مختلف سوسائٹیاں وجود میں لائی گئیں جس میں ادبی سوسائٹی کے سربراہ وکیل انصاری بنائے گئے جو مہماں وقت شعروشاعری کے پروگرام منعقد کیا کرنے تھے جس میں ہم لوگ صرف ان کے پروگراموں میں چائے بسکٹ کھانے کے لئے حاضر ہوا کرتے تھے ورنہ شعروشاعری سے ہمارا دور دور کا واسطہ نہیں تھا نہ ہی آج ہے تاہم گفتگو میں اسلامیہ کالج کی تشکیل وتخلیل پر موزوں بحث آئی کہ وہ کالج جس میں پندرہ ہزار طلباء اکی ہی وقت میں پڑھا کرنے تھے جس کے مالک ایک معمولی شخص اے ایم قریشی مرحوم تھے جو زمانہ غربت میں ریڑھی لگا کر روزی کمایا کرتے تھے جو تعلیم یافتہ نہ تھے جنہوں نے نہ جانے کیوں اور کیسے ایک ایسا اتنا بڑا تعلیمی ادارہ کھولا کہ جس میں لاکھوں طلبا حصول تعلیم کے بعد پاکستان کے بڑے بڑے عہدیدار، وکیل جج سیاستدان شاعر اور سیاستدان اور طلباء رہنما کا اپنے جس میں مشہور سیاستدان صحتیاب علی خاں اداکار ندیم اداکار معین اختر، جسٹس رشید رضوی جسٹس حسن فیروز، اختر حسین ایڈووکیٹ شاعر وکیل انصاری بن اشفاق حسین لوگ کہاں کہاں اپنے فرائض ادا کرچکے ہیں جس کالج کے بارے میں سنا جارہا کہ اسے مویشی مرحوم کے خاندان کے ساتھ حکومت تنازعے کی وجہ سے کالج پسند کردیا گیا جو ایک پاکستان میں تعلیمی سانحہ سے کم نہیں ہے جس کے بارے میں ابھی تک نہیں پتہ چلا کہ اتنا بڑا کالج یہاں آرٹس، سائنس، قانون، کامرس کی تعلیم دی جاتی تھی اسے کیوں اور کیسے بندکر دیا گیا ہے جو پرانی تعلیمی درسگاہوں کو مٹانے کے مترادف عمل ہے یہ جانتے ہوئے کہ دنیا بھر میں پرانی کامیاب تعلیمی درسگاہوں کو بچا کر پاکستان میں کوائمنٹ کالج لاہور بھارت میں علی گڑھ، فورٹ ولیم کالج امریکہ میں ہارورڈ کولمبیا، برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹیوں کو آج جو مقام حاصل ہے کہ ان درسگاہوں نے لاکھوں طلبا کی تعلیم دے رکھی ہے جبکہ اسلامیہ کالج کراچی بھی کسی پرانی یونیورسٹی یا کالج سے کم نہیں تھا مگر تعلیم کے دشمن حکمرانوں نے ایک تقریب کی کالج کو واپس کالج کے مالک کے حوالے کیوں جو تعلیم کی بجائے اپنے محلات بنا کر ارب اور کھرب پتی بن جائیں گے حالانکہ یہ بھی معاوضہ حکومت وقت بھی دے اتنی بڑی پاکستان کی تعلیمی درسگاہ کو بچا سکتی ہے جو ایک شرم کا مقام ہے جس پر نہ جانے اسلامیہ کالج کراچی سے تعلیم یافتہ طلبا خاموش تماشائی کیوں بنے نظر آئے ہیں اسلامیہ کالج بند نہیں تعلیم کے خلاف سازش ہے جس پر عوام بھی لاتعلق اور بے بس ہوچکی ہے۔
٭٭٭٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)











