حکومتِ پاکستان کی جانب سے قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی مشروط اجازت اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان بین الاقوامی کرکٹ میں ایک سنجیدہ سفارتی اشارہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی ملاقات میں طے پانے والا یہ موقف بیک وقت آئی سی سی، بھارتی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ اور جنوبی ایشیا کی کرکٹ ڈائنامکس کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر بنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کے جانبدارانہ رویے کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ ایک نئے بیانیے کو جنم دیتا ہیکہ کیا کرکٹ واقعی غیر سیاسی رہی ہے؟ سب سے پہلے آئی سی سی پر اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کو دیکھنا ضروری ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا دعوی ہے کہ وہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھتی ہے، مگر عملی طور پر اس کی بڑی ٹورنامنٹس کی میزبانی، شیڈولنگ اور نشریاتی فیصلے اکثر طاقتور کرکٹ بورڈز کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق عالمی کرکٹ آمدن کا تقریبا 70 سے 80 فیصد حصہ بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی مارکیٹس سے آتا ہے، جس میں بھارتی براڈکاسٹنگ رائٹس کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔ یہی معاشی حقیقت آئی سی سی کی فیصلہ سازی پر سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر پاکستان واقعی بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر قائم رہتا ہے تو آئی سی سی کو نہ صرف مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے بلکہ اس کی غیر جانبداری کے دعوے بھی مزید کمزور ہوں گے۔ پاک بھارت میچ عالمی سطح پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کرکٹ ایونٹ ہوتا ہے۔ 2023 کے ایک بڑے مقابلے کو دنیا بھر میں 300 ملین سے زائد ناظرین نے دیکھا۔ ایسے میچ کرنٹ والے میچ کا نہ ہونا ٹورنامنٹ کی تجارتی کشش کو براہِ راست متاثر کرے گا۔ بھارتی کرکٹ کے تناظر میں یہ فیصلہ ایک سفارتی اور علامتی چیلنج ہے۔ بی سی سی آئی نہ صرف دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ ہے بلکہ اس کا اثر و رسوخ آئی سی سی کی پالیسی سازی میں بھی نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ بھارت نے ماضی میں کھیلوں کو سیاسی دباو کے آلے کے طور پر استعمال کیا، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز سے مسلسل انکار اس کی مثال ہے۔ پاکستان کا حالیہ موقف اس بیانیے کو پلٹنے کی کوشش ہے کہ کھیلوں میں سیاست صرف ایک طرف سے نہیں ہوتی۔ اگر پاکستان کا یہ قدم عالمی حمایت حاصل کرتا ہے تو بھارتی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اپنی پالیسیوں کا دفاع مشکل ہو سکتا ہے، خصوصا اس پس منظر میں کہ بھارت خود بھی بعض مواقع پر سیاسی بنیادوں پر کھیلوں کے فیصلے کرتا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یہ فیصلہ ایک غیر معمولی سفارتی پیغام رکھتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ کہنا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے معاملے میں جانبداری دکھائی، دراصل ایک علاقائی یکجہتی کا اظہار ہے۔ جنوبی ایشیا میں کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ قومی وقار سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر پاکستان اس موقف کو موثر انداز میں عالمی فورمز پر پیش کرتا ہے تو بنگلہ دیش سمیت دیگر نسبتا کمزور کرکٹ بورڈز کو بھی آواز مل سکتی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں میں آئی سی سی کے بڑے فیصلوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کرکٹ ممالک کا کردار محدود رہا ہے۔ پاکستان کا قدم اس طاقت کے عدم توازن کو اجاگر کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے محض جذباتی ردعمل کے بجائے ایک منظم سفارتی حکمتِ عملی میں بدلا جائے۔بھارت کی کھیلوں میں سیاست کی پالیسی پر اثرات اس فیصلے کا سب سے حساس پہلو ہیں۔ بھارت طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کھیلنا سکیورٹی اور سیاسی حالات کی وجہ سے ممکن نہیں، مگر اسی دوران وہ دیگر متنازع خطوں یا ممالک کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگر عالمی میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں اس نکتے پر سنجیدہ بحث شروع ہوتی ہے تو بھارت کے لیے غیر سیاسی کرکٹ کا دعوی برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔تاہم، اس فیصلے کے ممکنہ نقصانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کرکٹ مالی طور پر پہلے ہی دباو میں ہے اور بڑے میچز سے حاصل ہونے والی آمدن پی سی بی کے لیے اہم ذریعہ ہے۔ آئی سی سی ایونٹس میں پاک بھارت میچ نہ کھیلنے کی صورت میں نہ صرف براڈکاسٹنگ ریونیو متاثر ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کی کرکٹ سفارت کاری بھی آزمائش میں پڑ سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ فیصلہ وقتی جذبات کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کے تحت ہو اور اس کے ساتھ متبادل سفارتی راستے بھی اختیار کیے جائیں۔ پاکستان کا یہ اعلان کرکٹ کی دنیا میں ایک علامتی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ آئی سی سی کی غیر جانبداری، بھارتی کرکٹ کی بالادستی، بنگلہ دیش کے ساتھ علاقائی ہم آہنگی اور کھیلوں میں سیاست کے مسئلے کو ایک ساتھ عالمی بحث کا حصہ بناتا ہے۔ اگر پاکستان اس موقف کو اعداد و شمار، قانونی نکات اور سفارتی حمایت کے ساتھ آگے بڑھاتا ہے تو یہ قدم محض ایک میچ کے بائیکاٹ سے بڑھ کر کرکٹ کے عالمی نظام میں توازن کی ایک سنجیدہ کوشش بن سکتا ہے۔ ورنہ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ یہ فیصلہ ایک وقتی سرخی بن کر رہ جائے اور کھیل کی بڑی سیاست ویسی ہی چلتی رہے جیسی پہلے تھی۔
٭٭٭











