نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو مغالطے میں رکھا!!!

0
12
حیدر علی
حیدر علی

سیاہ ایس یو وی اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو لے کر 11 فروری کے دن ٹھیک گیارہ بجے وائٹ ہاؤس پہنچ گئی۔ اسرائیلی رہنما جو برسوں سے ایران پر ایک بڑے حملے کی پیروی کر رہے تھے خاموشی سے اندر داخل ہو گئے کیونکہ انہیں اپنی آمد اور وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس کو صحافیوں سے خفیہ رکھنا تھا۔ بعد ازاں نیتن یاہو نیچے تہہ خانے کے سچویشن روم میں چلے گئے جہاں امریکی و اسرائیلی وزارت دفاع اور انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ اسکرین پر ایک فلم چلنا شروع ہوگئی جس میں اسرائیل کے ڈائریکٹر آف موساد ڈیوڈ برنی اور اسرائیلی انٹیلی جنس و فوج کے اعلیٰ افسران کو خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ چند لمحوں بعد اجلاس سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی خطاب کرنا تھا جن کی تقریر کا مقصد اسرائیل اور امریکہ کو دنیا کے ایک غیر مستحکم علاقے میں گھمسان کی جنگ میں دھکیلنے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا۔
سچویشن روم کے اجلاس میں نیتن یاہو نے پْرزور طریقے سے یہ وکالت کی کہ ایران کی موجودہ حکومت تبدیلی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسرائیل و امریکہ کی ایک مشترکہ مہم جوئی اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں ایک ویڈیو میں ان رہنماؤں کو بھی دکھایا جو موجودہ حکومت کے معزول ہونے کے بعد مسند اقتدار پر متمکن ہو سکتے ہیں۔ ان رہنماؤں میں رضا شاہ پہلوی بھی تھے جو واشنگٹن میں جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شاہ پہلوی سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ موجودہ نظام کو ختم کر سکتے ہیں۔ نیتن یاہو اور ان کی ٹیم نے اجلاس میں اس توقع کا اظہار کیا کہ انہیں اس جنگ میں فتح ہوگی اور جنگ شروع ہونے کے چند ہفتوں کے اندر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کر دیا جائے گا۔ ان کے بقول ایران کی حکومت اتنی کمزور ہو جائے گی کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے کے اہل نہیں رہے گی۔ اگرچہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے اندر چھوٹے پیمانے کے حملے کر سکتا ہے لیکن وہ حملے قابل برداشت ہوں گے۔ اس کے علاوہ موساد کے ایجنٹوں نے یہ پیش گوئی کی کہ ایران کی سڑکوں پر احتجاجی جلوسوں کا سلسلہ پھر شروع ہو جائے گا اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اہلکار ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج اور حکومت کے خلاف بغاوت کا آغاز کر دیں گے۔ جگہ جگہ دھماکے کیے جائیں گے جس سے حکومت اقتدار سے سبکدوش ہونے پر مجبور ہو جائے گی اور حزب اختلاف کے رہنما باگ ڈور سنبھال لیں گے۔ ان ہی عناصر نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ کرد جنگجو عراق سے سرحد پار کر کے ایرانی سرحدی علاقوں پر حملہ آور ہوں گے جس سے حکومت کے تختہ الٹنے کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔
نیتن یاہو کا خطاب اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مثبت رویہ دیکھ کر امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسران مجبور ہو گئے کہ وہ حالات کا جلد از جلد تجزیہ کریں اس لیے 12 فروری کو سچویشن روم میں ایک دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں صرف امریکی فوج کے اعلیٰ افسران اور صدر ٹرمپ کی کابینہ کے اراکین نے شرکت کی۔ کمرے میں موجود شرکائ میں سے ہر ایک نے اس امر سے اتفاق کیا کہ ایران کے پاس میزائل اور ڈرونز بنانے کی پوری صلاحیت موجود ہے جسے وہ کم لاگت اور کم وقت میں بنا سکتا ہے۔ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اجلاس میں تشریف لائے تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر ریٹکلف نے نیتن یاہو کے حکومت کی تبدیلی کے ادراک کا تجزیہ پیش کیا اور اسے ایک مضحکہ خیز سوچ قرار دیا۔ اسی دوران مارکو روبیو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کا سنہرا خواب سراسر لغو ہے۔ دوسرے افراد بھی اس بحث میں شامل ہو گئے جن میں نائب صدر جے ڈی وینس پیش پیش تھے جنہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کا خیال بے شمار شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ جنرل کین سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ ان کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔
صدر ٹرمپ نے شرکاء کے تجزیوں کا جائزہ لیا اور کہا کہ حکومت کی تبدیلی کا مسئلہ ان کا اپنا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے ایران کے اعلیٰ وزرائ ، فوجی کمانڈروں اور ایرانی فوج کا صفایا کرنے میں کافی دلچسپی دکھائی۔ اگلے دن ٹرمپ کی کابینہ اور فوج کے جنرلوں کی ایک اور میٹنگ ہوئی جس میں جنرل کین نے یہ خدشات پیش کیے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو اسلحے کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یوکرین اور اسرائیل کو متواتر اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ دوسرے خدشات جو ایک اور جنرل نے پیش کیے وہ آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق تھے لیکن صدر ٹرمپ نے یہ دلیل دی کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے قبل ہی وہاں کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جیسا کہ ظاہر ہو رہا تھا کہ صدر ٹرمپ یہ سوچ رہے تھے کہ ایران کے ساتھ جنگ چند دن میں ختم ہو جائے گی اور یہ خیال انہوں نے گزشتہ سال 2025 کی جون کی جنگ سے اخذ کیا تھا جس میں امریکی طیاروں نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ جنگی مشاورتی ٹیم کے درمیان دوسری کشیدگی صدر ٹرمپ کے قطعی رائے زنی کے اختیارات اور عسکری کونسل کے مابین پیدا ہوگئی جس میں چیئرمین کو بارہا یہ کہنا پڑا کہ یہ ان کے فرائض میں شامل نہیں کہ وہ صدر کو بتائیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here