نفرت کی دلدل … عالمی تباہی!!!

0
10
جاوید رانا

کالم کا آغاز کرتے ہوئے ہمیں مرزا غالب کا شعر یاد آرہا ہے ”تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے، دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشہ نہ ہوا”۔ وجہ تسمیہ اس معروض کی امریکہ ایران کے پاکستان کی میزبانی و سہولت کاری میں ہر دو فریقین کے درمیان اعلیٰ سطح کی قیادت کی 1979ء کے بعد ملاقات بلا شبہ اپنی نوعیت میں تاریخی حیثیت کی حامل تھی، اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے تعاون اور مثبت و مصالحتی کردار پر دونوں فریقین ہی نہیں تقریباً پچاس سے زیادہ سربراہان و سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، عالمی اداروں اور وزرائے خارجہ نے اظہار تحسین کیا لیکن 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کا اختتام امریکی نائب صدر کے الفاظ ”ایران نے شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے، بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہو سکا ہم سے زیادہ یہ ایران کیلئے بری خبر ہے ہم ایک مفید اور قابل عمل تجویز دے کر جا رہے ہیں”۔ بادی النظر میں متذکرہ تجویز سے یہ احساس ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل کیلئے کچھ کشن چھوڑا گیا ہے لیکن صدر ٹرمپ کے تسلسل سے متضاد بیانات خصوصاً آبنائے ہرمز اور یورینیم افزودگی کے ناطے کے اعلانات و مزاحمت اور سب سے بڑھ کر نیتن یاہو کی مسلم دشمن نفرت انگیزی کسی بھی مثبت نتیجے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
حالات جس رُخ پر جا رہے ہیں قارئین ایک ایک لمحے سے واقف و آگاہ ہیں۔ مذاکرات کے تعطل کے بعد عارضی جنگ بندی کے حوالے سے اس تاثر کے سبب کہ وینس کی مفید و قابل عمل تجویز کے تناظر میں گفتگو سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان نظر آتا تھا مگر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان اور ایرانی پاسداران کے الٹی میٹم کیساتھ اس حوالے سے امریکہ و چین کے درمیان چشمک اور اسرائیل کی لبنان پر مسلسل جارحیت کی وجہ سے سوال اٹھتا ہے کہ جنگ بندی قائم رہے گی یاجنگ ہوگی۔ ٹرمپ کے ہذیانی دعوے، یورپ، نیٹو حتیٰ کہ پوپ لیو کے متعلق توہین آمیز ٹوئیٹ ان خدشات کا پیش خیمہ نظر آتے ہیں کہ صورتحال ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہے، ہرمز کے ناکہ بندی کے ایشو پر امریکہ و چین کا آمنے سامنے آنا اور روس کا ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کا مشورہ خطے ہی نہیں گلوبل سطح پر تشویش کا مظہر نظر آتے ہیں۔
حالات کی تندی و تیزی اور صہیونی سازشوں کے باوجود خبریں یہ بھی ہیں کہ صورتحال کی بہتری کیلئے ایران امریکہ مذاکرات کا ایک اور دور ہو، کہا جا رہا ہے کہ عالمی خدشات کے ساتھ امریکی رائے عامہ کے احتجاج کے تناظر میں ایک اور مذاکراتی دور کیا جائیگا، خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان، روس چین اور یورپی و عرب ممالک کی کوششوں سے اس اقدام پر غور کیا جا رہا ہے، شنید تھی کہ اگلا دور مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں ہو، اور عمان کا نام لیا جا رہا تھا۔ تاہم واشنگٹن میں سوچ بیچار کے بعد نیز ایران کے نقطہ نظر کے پیش نظر دوسرے دور کا اہتمام کرنے کے لئے پاکستان کی میزبانی پر غور کیا جارہا ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ14 مئی کے چین کے دورے سے قبل پاکستان آنا چاہتے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ موصوف مذاکرات میں شریک ہونگے؟ یہ امر اس نقطے کے حوالے سے بھی ہو سکتا ٹرمپ مصالحت کے ناطے اپنے سر سہرا سجانے کی فطرت رکھتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ پہلا دور جب پاکستان میں ہوا تھا تو اگلا دور کسی دوسرے ملک میں رکھنے کاکیا جواز بنتاہے جبکہ گزشتہ دور کے اہتمام و انعقاد کو ہر طرح سے سراہا بھی گیا۔ ہماری سوچ یہ ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں حکومت و ریاست خصوصاً وزارت خارجہ و انتظامی حوالے سے اطمینان بخش اقدامات کے باوجود عمومی تبادلۂ خیالات اور متوقع صورتحال پیش بینی کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ حکومتی شرکاء بالخصوص پیپلزپارٹی کے قائدین کو ان کے وژن اور سیاسی امور کے حوالے سے بھی شریک کیا جاتا تو ممکنہ طور پر مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ سکتے۔ سیاسی و نظریاتی پرخاش کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پیپلزپارٹی کا داخلی و خارجی وژن خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارا خیال تو یہ بھی ہے کہ اہم ترین موقعہ پر پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو لُوپ میں لیا جا سکتا تھا کہ اجتماعی سوچ اور فیصلہ قومی اجتماعیت کا مظہر ہوتاہے۔ کیا یہ امید کی جاسکتی ہے کہ دوسرے دور میں حکومتی پارٹنر بلکہ اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
بہرحال کالم کی تحریر کے دوران مذاکرات کے احیاء کی خبر جلتی دوپہر میں سایۂ شجر دار کی نوید ہے لیکن نیتن یاہو کے ناپاک منصوبے اور امریکی وزیر جنگ کے مسلم دشمن مؤقف کے اثر میں محصور صدر ٹرمپ کی متلون مزاج فطرت کے سبب امن کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی ہے۔ دوحہ تو یہی ہے کہ امریکہ بالخصوص اسرائیل کی نفرت انگیز دلدل اور امریکی عوام میں بڑھتی ہوئی نامقبولیت سے نکلنے کے لئے مصالحت اور امن کی طرف آیا جائے تاکہ دنیا تباہی سے بچ سکے۔
٭٭٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here