بے راہ روی اور رشتوں کا زوال !!!

0
17
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

بے راہ روی اور رشتوں کا زوال ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس نے آج ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میاں بیوی کا مقدس رشتہ جو کبھی سکون اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب محض ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ وطن عزیز سے آئے روز ایسی دلخراش آپ بیتیاں سننے کو ملتی ہیں کہ دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے سر بھی شرم سے جھک جاتے ہیں۔ ایک دور وہ تھا جب مغربی دنیا طلاق، علیحدگی اور خانگی جھگڑوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی لیکن اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان اس برائی کی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ گھروں کی بربادی، زوجین کی چپقلش اور اولاد کی نافرمانی جیسے سنگین مسائل نے پورے سماجی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس تمام صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر ذی شعور انسان کو جھنجھوڑ رہا ہے۔
انسانی ہوس اور لالچ نے رشتوں کے تقدس کو اس قدر پامال کر دیا ہے کہ اب انسان کی جان لینا معمولی بات بن چکی ہے۔ ایک ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ تھانہ خواجہ اجمیر نگری کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک بدنصیب شوہر فجر کی نماز کے لیے گھر سے نکلا اور اپنی ہی جیون ساتھی کی ہوس اور بے وفائی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ 10 اپریل 2026 کو علی الصبح تقریباً 05:30 بجے مسجد کے دروازے پر 33 سالہ ریحان ولد غلام نبی کو فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو ڈکیتی میں مزاحمت یا ٹارگٹ کلنگ کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، مگر ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کی ہدایت پر بننے والی خصوصی ٹیم نے محض 48 گھنٹوں میں اس اندھے قتل کا معمہ حل کر کے انسانیت سوز سازش کو بے نقاب کر دیا۔پولیس کی تفتیش، فنی مہارت اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے یہ انکشاف ہوا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ تھا جس میں مقتول کی بیوی صدف، ساس فاطمہ، سالا جبران اور صدف کا آشنا شیزان عرف سجو شامل تھے۔ ان ملزمان نے ایک اسٹیٹ ایجنسی میں بیٹھ کر اس قتل کا منصوبہ تیار کیا۔ ملزمہ صدف نے اپنے ہی شوہر کی روزمرہ کی روٹین سے قاتلوں کو آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ سنتیں گھر پر ادا کر کے فرض نماز کے لیے مسجد جاتا ہے۔ اسی مخبری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیزان نے اپنے بھائی کا لائسنس یافتہ پستول چوری کیا اور جبران کی فراہم کردہ گولیوں اور ماسک کی مدد سے ریحان کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے جا رہا تھا۔دوران تفتیش یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ ملزمہ صدف اپنے شوہر کو راستے سے ہٹا کر اپنے آشنا شیزان سے شادی کرنا چاہتی تھی اور اس گھناؤنے جرم میں اس کی ماں نے بھی اس کا پورا ساتھ دیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے اور مقدمہ نمبر 315/2026 کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک عبرت ناک سبق ہے کہ جب انسان اخلاقی حدود پار کر لیتا ہے تو وہ کس قدر سفاک بن جاتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں کے ماحول کو پاکیزہ بنانے، محرم اور نامحرم کے فرق کو برقرار رکھنے اور اپنی نسلوں کی دینی و اخلاقی تربیت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر کسی رشتے میں نباہ ممکن نہ ہو تو شریعت نے طلاق اور خلع کا راستہ دیا ہے، مگر اپنی ہوس کی خاطر کسی کی زندگی کا چراغ گل کرنا ایسا جرم ہے جس کی سزا دنیا اور آخرت دونوں میں بھگتنا پڑے گی۔ اللہ پاک ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور ہر خاندان کو ایسے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here