فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
ہجرت کی وہ تاریخی رات جب ظلمت کے بادل چھٹ رہے تھے اور حق کا سورج طلوع ہونے کو تھا۔ مکہ کے تمام قبیلوں کے نمائندے زہر آلود تلواریں لئے شانہ نبوت کے باہر اس ہستی کے منتظر تھے جو انہیں ہلاکت کے دہانے سے نکال کر امن و سلامتی کی آغوش میں لانا چاہتی تھی۔ عین پچھلے پہر جب کاشانہ نبوت کا دروازہ کھلا تو ایک ایسی نورانی کرن چمکی جس نے دشمنوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا۔ اللہ کے حبیب حضرت محمد ۖمسکراتے ہوئے ان کے درمیان سے اس طرح گزر گئے کہ دشمنوں کو خبر تک نہ ہوئی۔ جب صبح کے اجالے میں قریش کے جنگجو دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے تو وہاں بستر نبوت پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پا کر وہ ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے کیونکہ ان کی پلکوں کے نیچے سے مطلوبہ شخصیت بخیریت گزر چکی تھی۔
اس شکست فاش نے کفار کے سرداروں کو تلملا کر رکھ دیا اور فوری طور پر دارالندوہ میں مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ طے پایا کہ اگر ابھی پیچھا کیا جائے تو انہیں پکڑا جا سکتا ہے۔ مکہ کی گلیوں میں منادی کر دی گئی کہ جو شخص بھی محمد ۖکو معاذ اللہ گرفتار کر کے لائے گا اسے سو سرخ اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے۔ اس بھاری انعام کا سن کر عرب کا مایہ ناز شہسوار سراقہ بن مالک لالچ میں آ گیا اور فوراً اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ مسافت طے کرنے کے بعد اسے دو سائے نظر آئے جنہیں دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور اس کے تصور میں سرخ اونٹوں کی قطاریں رینگنے لگیں۔
نبی کریم ۖاپنے رفیق خاص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ اونٹنی پر سوار مدینہ کی جانب محو سفر تھے۔ سراقہ نے جوں ہی قریب پہنچ کر کمند ڈالنے کا ارادہ کیا تو فضا میں ایک پر جلال آواز گونجی جس نے زمین کو اسے پکڑ لینے کا حکم دیا۔ فوراً ہی زمین شق ہو گئی اور سراقہ کے گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے۔ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود جب وہ زمین کی گرفت سے نہ نکل سکا تو اس نے عاجز آ کر رحم کی اپیل کی۔ رحمت عالم ۖنے اس کی درخواست قبول فرمائی اور زمین کو اسے چھوڑ دینے کا حکم دیا جس پر زمین کی گرفت ڈھیلی ہو گئی۔
انسانی فطرت میں چھپا مال کا لالچ بسا اوقات اسے بار بار ٹھوکر کھانے پر مجبور کرتا ہے۔ سراقہ ابھی کچھ دور ہی گیا تھا کہ حرص و ہوس کا شیطان اس پر دوبارہ غالب آ گیا اور اس نے سوچا کہ شاید وہ محض ایک اتفاق تھا اس لئے اسے انعام کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اس نے دوبارہ گھوڑا دوڑایا لیکن جیسے ہی قریب پہنچا زمین نے اسے پھر دبوچ لیا۔ تیسری بار بھی جب یہی صورتحال پیش آئی تو سراقہ کی آنکھیں کھل گئیں اور اسے احساس ہو گیا کہ وہ کسی عام انسان نہیں بلکہ خدا کے سچے پیغمبر کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس موقع پر سرکار دو عالم ۖنے ایک تاریخی پیشگوئی فرمائی کہ سراقہ تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے ہاتھوں میں ایران کے بادشاہ کسریٰ کے سونے کے کنگن ہوں گے۔
سراقہ بن مالک اس غیبی خبر کو سن کر حیران رہ گئے اور وہیں سے واپس پلٹ گئے۔ تھوڑی ہی مدت کے بعد ان کا سینہ اسلام کی دولت سے منور ہو گیا اور وہ شمع رسالت کے پروانوں میں شامل ہو گئے۔ برسوں بعد جب عہد فاروقی میں ایران فتح ہوا اور مال غنیمت مدینہ پہنچا تو اس میں شاہ ایران کے وہ قیمتی کنگن بھی موجود تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کو طلب کیا جو اس وقت علیل تھے مگر وہ خوش خبری پوری ہونے کا یقین لئے دربار خلافت پہنچے۔ امیر المومنین نے وہ کنگن سراقہ کے ہاتھوں میں پہنائے اور اس طرح صادق و امین ۖکی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سچ ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقائق کی روشنی میں ہدایت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
٭٭٭٭٭










