اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی نے خطے کی سیاست کو ایک نئے اور نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بظاہر یہ مذاکرات کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھے مگر پسِ پردہ موجود عدم اعتماد، علاقائی مفادات کا ٹکراؤ اور عالمی طاقتوں کی حکمت عملی نے ان کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ یہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے بلکہ بنیادی اہمیت اس امر کی ہے کہ اب آگے کیا ہوگا۔ ان مذاکرات کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان رہا کیونکہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ امریکہ خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ ثالثی کرنے والے ممالک کی محدود اثر پذیری اور پیچیدہ علاقائی سیاست بھی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ بنی۔
اب جو صورتحال سامنے آ رہی ہے اس میں جنگ بندی بظاہر ایک عارضی وقفہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب تک بنیادی تنازعات حل نہ ہوں تو جنگ بندی محض سانس لینے کا وقفہ بن جاتی ہے۔ قوی امکان یہی ہے کہ اگر اب سفارتی کوششیں تیز نہ ہوئیں تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور ایک نئی شدت کے ساتھ تصادم سامنے آ سکتا ہے۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ آیا اس وقفے کو ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے یا امریکہ نے اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وقت حاصل کیا ہے، تاہم حقیقت شاید ان دونوں پہلوؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ عالمی سیاست میں ایسے وقفے اکثر مخصوص حکمت عملی کے تحت لیے جاتے ہیں جہاں ہر فریق خود کو اگلے مرحلے کے لیے تیار کرتا ہے۔
بلاشبہ دنیا ایک بار پھر ایٹمی خطرات کی دہلیز پر کھڑی دکھائی دیتی ہے مگر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایٹمی جنگ ناگزیر ہے کیونکہ عالمی طاقتیں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایٹمی تصادم کسی ایک خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ اسی لیے پسِ پردہ سفارت کاری اور بیک چینل رابطے جاری رہنے کا امکان موجود ہے اور جہاں تک امن کا تعلق ہے تو اس کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ تاریخ میں کئی بار شدید تنازعات کے بعد بھی مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا گیا ہے مگر اس کی شرط صرف یہ ہے کہ فریقین وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی استحکام کو ترجیح دیں۔
پاکستان کا کردار اس تمام صورتحال میں نہایت اہم ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور ماضی میں بھی ثالثی کے متعدد کردار ادا کر چکا ہے۔ پاکستان اگر متوازن اور فعال سفارت کاری اپنائے تو وہ نہ صرف کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ خود کو ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی کے طور پر بھی منوا سکتا ہے۔ آخر کار دنیا ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر فیصلہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کرے گا اور جنگ یا امن کا یہ انتخاب ابھی بھی انسانی دانش اور قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ اگر تاریخ سے سبق سیکھا گیا تو شاید تباہی کا منظر ٹل جائے ورنہ نتائج کا اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں ہے۔
















