قارئین اور عزیزانِ وطن! ایران کی استقامت اور جذبہ شہادت نے امریکی فرعونیت کے قدموں کو لڑکھڑانے پر مجبور کر دیا ہے لیکن امریکہ کو اپنی بڑک کا بھرم رکھنے کے لیے بالآخر پاکستان کی ضرورت پڑ ہی گئی۔ اللہ کی شان ہے کہ ایک میر سپاہ اور ایک جبری وزیر اعظم کو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی عرفِ عام سیز فائر کروانے کا ذمہ سونپا گیا۔ بقول شاعر!
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض عارضی سیز فائر کا جواز نہیں بنتا تھا۔ اگر شہباز شریف مکمل سیز فائر کا جملہ درج کر دیتے تو ایران کی تشفی ہوتی جس کی بنیادی شرط ہی یہ تھی کہ اسے مکمل امن چاہیے۔ دو چار یا دس دن کا وقفہ اس کی ترقی میں رکاوٹ بنے گا جبکہ اسرائیل نے اپنی کمینگی ظاہر کرتے ہوئے لبنان پر سب سے بڑا حملہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں چار سو کے قریب شہادتیں ہوئی ہیں اور زخمیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایسی صورت حال میں سیز فائر محض ایک شوشہ لگتا ہے لیکن جو بھی ہے میرے مادرِ وطن کا نام بلند ہوا ہے اور اللہ اس کا نام ہمیشہ روشن رکھے۔ میں چونکہ ناسٹی لجیا کا بندہ ہوں اس لیے بڑی خوشیوں پر محتاط رہتا ہوں کیونکہ امریکہ بہادر پر میرا یقین ہمیشہ متزلزل رہا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ پولیس والے کی دوستی بھی بری اور دشمنی بھی بری بالکل اسی طرح امریکیوں کی کیرٹ اور اسٹک یعنی صلے اور سزا کی پالیسی بھی بڑی ظالم ہے۔ ان امریکیوں میں بڑا فن ہے بس خدا ہماری خوشیوں کو محفوظ رکھے۔ میں نے خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی شان و شوکت بھی دیکھی اور پھر انہیں صدر جانسن کے دروازے کے باہر چار گھنٹے گڑگڑاتے بھی دیکھا۔ یحییٰ خان کی نکسن کے ساتھ یاری اور پھر ساتویں بیڑے کا انتظار بھی دیکھا۔ ضیاء الحق اور ریگن کی انقلابی پینگیں دیکھیں اور پھر ان کا جہاز پھٹتے دیکھا۔ مشرف اور بش کی یاری کا حشر بھی سب کے سامنے ہے۔ اب میں نوابزادہ میاں ذاکر نسیم صاحب کے حافظ کا برا انجام نہیں دیکھنا چاہتا جنہوں نے نواب صاحب کو سینیٹر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ مجھے اپنے یار کی خوشی مقصود ہے اور خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص پر تو اعتبار ہی نہیں کیا جا سکتا جو پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہے۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! جب تک میرا یہ کالم فیس بک پر چسپاں ہوگا اور نیوز پاکستان کے دفتر پہنچے گا تب تک معلوم نہیں ایران امریکہ اور اسرائیل کی ثالثی پر کیا گزر چکی ہوگی لیکن پھر وہی سوال ہے کہ جو بھی گزرے قطرے پر گہر ہونے تک ڈپلومسی کے نئے باب میں پاکستان کا نام بلند رہے گا خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کا تذکرہ رہے گا۔ ہمیں تو اس بات کی خوشی ہے کہ بھارت کے جلاپے پر مزہ آ رہا ہے۔ آج دنیا کے بڑے بڑے صحافی اور تھنک ٹینک بہت کچھ لکھ رہے ہیں۔ کل کیا ہوگا
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
ہم تو آج اس بات پر خوش ہیں کہ ایک عرصے کے بعد میرے ملک پاکستان کا جھنڈا اونچا ہوا ہے۔ پاکستان زندہ باد۔
قارئین اور عزیزانِ وطن! ویسے تو اس وقت سیاسی منظر نامے پر بڑے بڑے وی لاگ کرنیوالے دانشور اور دنیا کے مانے ہوئے لکھاری ایران امریکہ جنگ پر اپنے اپنے تجزیے پیش کر رہے ہیں۔ امریکہ میں آنکھ جھپکتے ہی بڑے بڑے پروفیسر اور مصنف اندر کی کہانی نکال لاتے ہیں۔ میرا مطالعہ بتاتا ہے کہ امریکی صحافیوں میں یہ خوبی ہے کہ کوئی بھی چھوٹا بڑا واقعہ ہو وہ فوری طور پر اس کی اصل روداد باہر لے آتے ہیں۔ میری نظریں اس وقت مشہور امریکی صحافی اور مصنف باب وڈورڈ پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ کچھ ہی دنوں میں وائٹ ہاؤس کی ایک ایک منٹ کی رپورٹ سامنے آئے گی کہ ایران پر حملے کی سازش میں کون کون ملوث تھا۔ باب وڈورڈ نے دنیا کے بڑے بڑے امریکی اور غیر ملکی حکمرانوں اور پالیسی سازوں کی بدعنوانیوں اور بدمعاشیوں کو بے نقاب کر کے چوراہوں پر ٹانگ دیا ہے تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ یہ چہرے کتنے دلفریب ہیں۔ انہی چہروں میں مجھے جنرل اختر عبدالرحمان کا چہرہ بھی یاد آتا ہے کہ کس طرح افغان مجاہدین کے لیے آنے والی امریکی امداد میں خرد برد کی جاتی تھی اور اسی طرح لوگ پیپسی کولا اور بڑے بڑے کاروبار کے مالک بنتے ہیں۔ باب وڈورڈ اب جلدی کرو کیونکہ دنیا تمہاری نئی تصنیف پڑھنے کے لیے بے تاب ہے تاکہ اس نئی تہذیب کے عریانیت زدہ کرداروں کو دیکھ سکے۔












