ایران کی تاریخ، ثقافت اورمنفرد حکومتی نظام!!!

0
17

ایران جو 1935 سے پہلے قدیم تاریخ میں چار ہزار سال قبل مسیح سے فارس کے نام سے جانا جاتا تھا رقبے کے لحاظ سے پاکستان سے دو گنا بڑا ہے جبکہ اس کی موجودہ آبادی نو کروڑ سے کچھ زائد ہے۔ اہل فارس کے متعلق اسلامی تاریخ میں تذکرہ ملتا ہے کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوتا تو وہ اسے حاصل کر لیتے۔ اسی علمی شوق کی بنیاد پر ایران میں خواتین کی شرح خواندگی ننانوے فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ سماجی سطح پر خواتین کو تعلیم و تربیت کے لیے مکمل وقت فراہم کرنے کی خاطر روٹی کی گھر میں تیاری کے بجائے تندور سے خریداری کے رجحان کو فروغ دیا گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امام بخاری اور امام مسلم جیسی عظیم شخصیات کا تعلق اسی سرزمین سے تھا جن کی کتب احادیث آج بھی عالم اسلام کے لیے مشعل راہ ہیں جبکہ نامور صحابی رسول حضرت سلمان فارسی بھی اسی خطے کے فرزند تھے۔
اس عظیم ملک کی تاریخ نہایت قدیم ہے اور اسے آج بھی روضہ حضرت امام رضا کی میزبانی کا شرف حاصل ہے۔ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں کا سماجی اور حکومتی ڈھانچہ نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ حالیہ علاقائی تنازعات اور جنگی صورتحال میں ایران نے کسی بھی دوسرے ملک سے مالی امداد طلب نہیں کی اور نہ ہی خوراک یا ادویات کے لیے کوئی اپیل جاری کی گئی۔ جنگی حالات کے دوران عوامی سہولت کے لیے ایندھن اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں غیر معمولی ریلیف دیا گیا ہے۔ مسلسل دباؤ کے باوجود ایرانی عوام نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ بیرون ملک مقیم شہری وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔ وہاں کے تاجروں نے مشکل وقت میں عوام کو ادھار پر اشیاء فراہم کرنے کی روایت قائم کی ہے جبکہ وزراء اور حکومتی عہدیدار سڑکوں پر عوام کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔
یہ استحکام اس لیے ممکن ہوا کہ وہاں کی قیادت اور نظام میں سادگی اور شفافیت کو اولیت حاصل ہے۔ سپریم لیڈر اور حکومتی وزراء کے لیے بیرون ملک اثاثے رکھنے یا ان کے بچوں کے باہر تعلیم حاصل کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ نظام حکومت میں کفایت شعاری کا یہ عالم ہے کہ اعلیٰ عہدیدار روزانہ طویل دورانیہ تک عوامی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ ملک میں تعلیم مکمل طور پر مفت ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر سمجھا جاتا ہے۔ معاشی پالیسیوں میں استحکام کے لیے ہر فیصلہ پارلیمنٹ اور قیادت کی منظوری سے ہوتا ہے تاکہ عوام پر اچانک بوجھ نہ پڑے۔ صحت کے شعبے میں حکومت ستر فیصد اخراجات خود برداشت کرتی ہے اور بچوں کی پیدائش پر خاندانوں کو مالی تحائف دیے جاتے ہیں۔
ایران میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور وہاں پولیس کے لیے بھی اخلاقی ضوابط مقرر ہیں کہ وہ رات کے وقت کسی کے نجی زندگی میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ جیلوں میں موجود افراد کو ہنر سکھایا جاتا ہے اور ان کی اجرت ان کے اہل خانہ کو بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ معاشی تنگی کا شکار نہ ہوں۔ معاشرے میں استاد کا مقام سب سے بلند ہے اور اسے ہر قسم کی انتظامی مداخلت سے بالاتر رکھا گیا ہے۔ وہاں نوکر رکھنے کا رواج نہیں ہے اور ہر شخص اپنی محنت پر یقین رکھتا ہے۔ ایرانی عوام اپنے نظام کو عدل و انصاف پر مبنی ایک عالمی حکومت کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں اور اسے ایک امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ان کے اس جذبے اور اتحاد کی وجہ سے آج دنیا بھر میں ان کے موقف کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگر مسلم امہ گناہوں سے توبہ کر کے بھائی چارے اور اتحاد کی فضا پیدا کر لے تو وہ وقت دور نہیں جب اسلام کا پرچم پوری دنیا پر سربلند ہوگا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here