ستمبر 1982ء میں لبنان میں واقع صابرہ اور شتیلہ کے فلسطینی کیمپوں میں اسرائیل و امریکہ کی زیرِ نگرانی برپا ہونے والے ہولناک سانحہ کے بعد نوے کی دہائی کے دوران امریکی قیادت میں مغربی افواج نے عراقی عوام پر جو قیامت ڈھائی تھی، اس میں پانچ لاکھ معصوم بچے لقمہ اجل بنے تھے۔ اسی طرح امریکی پشت پناہی میں سات اکتوبر کے نام پر اسرائیل کی سفاک فوج نے غزہ میں کم و بیش پچاس ہزار بچوں کا قتلِ عام کیا تو انسانیت تڑپ اٹھی۔ جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود غزہ میں معصوم بچوں کو آج بھی روزانہ کی بنیاد پر بے دریغ شہید کیا جا رہا ہے لیکن ذرائع ابلاغ پر امریکی اور اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے عالمی برادری کی اکثریت اس مسلسل ہونے والے ظلم سے بے خبر رکھی جاتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ کربلا کی عظیم قربانیوں کے بعد طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے مسافرانِ شام کا دربارِ یزید میں پہنچنا ایک ناگزیر مرحلہ تھا اور اسی وجہ سے ایسا بیانیہ تشکیل پایا جس نے حسینیت کو رہتی دنیا تک جرأت اور استقامت کا استعارہ بنا دیا۔ اسی فکری تسلسل کی بدولت فضل حسین صابر جیسے شعراء اپنی شاعری کے ذریعے ظالموں کو حق کے راستے کی تلقین کرنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔
اللہ کے بندوں پر اے بت یہ ستم تیرے
رکھا نہ قیامت کا کچھ خوف و خطر تو نے
حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے عالمی بے حسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر اس قدر دیدہ دلیری سے حملہ کیا کہ قیادت کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی کلیوں کو بھی مسل کر رکھ دیا۔ میناب میں واقع کمسن بچیوں کے اسکول شجرہ طیبہ پر براہِ راست بمباری کر کے عملے اور بچیوں سمیت 168 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ میزائل حملوں کے واضح ثبوتوں کی موجودگی کے باوجود نام نہاد ترقی یافتہ قوتیں اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اس سے پہلے کہ صابرہ و شتیلہ جیسے سانحوں کی طرح میناب کے معصوم بچوں کو بھی دنیا فراموش کر دے، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف ان بچوں کی یادیں اور تصاویر فلائیٹ نمبر 168 کے ذریعے اپنے ساتھ اسلام آباد لے آئے تاکہ بین الاقوامی ایوانوں اور ذرائع ابلاغ تک ان مظلوموں کی آواز پہنچ سکے اور موجودہ ورلڈ آرڈر کو حق و سچ کا بیانیہ چیلنج کر سکے۔ اس تناظر میں افتخار عارف کا یہ کلام حالات کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔
حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
مدینہ و نجف سے کربلا تک ایک سلسلہ
ادھر جو آ گیا وہ پھر اِدھر اْدھر نہیں رہا
صدائے استغاثہ حسین کے جواب میں
جو حرف بھی رقم ہوا وہ بے اثر نہیں رہا
صفیں جمیں تو کربلا میں بات کھل کے آگئی
کوئی بھی حیلہ نفاق کارگر نہیں رہا
استعماری قوتوں کے ظلم کے سامنے جب حزب اللہ، حماس، حوثی اور ایران سر تسلیم خم نہیں کر رہے تو غاصب قوتوں کی بوکھلاہٹ انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ بیروت پر حالیہ شدید بمباری کے نتیجے میں محض دس منٹ کے اندر تین سو سے زائد افراد کو شہید کر دیا گیا لیکن یہ سفاکی بھی دشمن کو اس کے مذموم مقاصد میں کامیابی نہ دلا سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے قدرتی وسائل پر ناجائز تسلط جما لینے کے باوجود یہ ظالم کبھی سکون نہیں پا سکیں گے کیونکہ فرعون، نمرود اور شداد جیسے جابر حکمران بھی قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ ماضی میں جنگی جرائم کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی عدالت تو قائم کی گئی تھی اور اصولی طور پر ان ظالم حکمرانوں کو اس عدالت کے کٹہرے میں ہونا چاہیے تھا لیکن حبیب جالب کے بقول یہ منصف خود مصلحتوں کے اسیر ہیں۔
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے
لکھا ہے ان کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے
ہمارے قتل پر جو آج ہیں خاموش کل جالب
بہت آنسو بہائیں گے بہت دادِ وفا دیں گے












