حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں ایک مرتبہ شدید قحط نے جنم لیا جس سے عوام سخت پریشان اور بے حال ہو گئے۔ اس صورتحال میں لوگ جلیل القدر پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور التجا کی کہ وہ اللہ کے حضور بارش کے لیے دعا فرمائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ستر ہزار بنی اسرائیل کے ہمراہ صحرا کی جانب روانہ ہوئے اور بارگاہ الٰہی میں معصوم بچوں، نیک بزرگوں اور بے زبان جانوروں کے وسیلے سے رحمت کی بارش طلب کی۔ عام طور پر انبیاء کی دعائیں فوراً قبول ہوتی ہیں مگر اس موقع پر آسمان پہلے سے زیادہ صاف ہو گیا اور سورج کی تپش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس صورتحال پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ گریہ و زاری کی اور اللہ سے اس کی حکمت دریافت کی۔
اس وقت وحی نازل ہوئی کہ اے موسیٰ تمہاری قدر و منزلت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اصل رکاوٹ تمہارے مجمع میں موجود وہ شخص ہے جو چالیس سال سے مسلسل نافرمانی میں مصروف ہے۔ جب تک وہ گناہ گار شخص مجمع سے نہیں نکلتا تب تک بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں برسے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم الٰہی کے مطابق مجمع میں اعلان کیا کہ وہ نافرمان بندہ باہر نکل جائے تاکہ سب پر رحمت ہو سکے۔ وہ شخص اپنی جگہ کھڑا رہا اور جب اس نے دیکھا کہ کوئی دوسرا شخص باہر نہیں جا رہا تو اسے احساس ہوا کہ وہ خود ہی مقصود ہے۔ اسے خوف ہوا کہ اگر وہ باہر نکلا تو سب کے سامنے ذلیل ہو جائے گا اور اگر نہ نکلا تو قحط کا ذمہ دار ٹھہرے گا۔ اس نازک گھڑی میں اس نے اپنے چہرے کو چھپا لیا اور سچے دل سے توبہ کا ارادہ کر لیا۔اس بندے نے نہایت عاجزی سے دعا مانگی۔
ابھی اس کی دعا مکمل ہی ہوئی تھی کہ اچانک آسمان پر بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تعجب سے عرض کیا کہ اے پروردگار ابھی تو وہ شخص مجمع سے باہر بھی نہیں نکلا تھا تو یہ کرم کیسے ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ اس بندے نے توبہ کر لی ہے اور اب میری اس سے صلح ہو چکی ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس شخص کا نام جاننا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب وہ گناہ گار تھا تب بھی میں نے اس کا پردہ فاش نہیں کیا تو آج جب وہ توبہ کر کے میرا دوست بن چکا ہے تو میں اسے کیسے رسوا کر سکتا ہوں۔ یہ میرا اور میرے بندے کا نجی معاملہ ہے جو اب طے پا چکا ہے۔
٭٭٭












