اسلام آباد میں منعقدہ حالیہ مذاکرات بلاشبہ عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے جنگی بحران کو کم کرنے اور اس کے ممکنہ حل تلاش کرنے کی سمت میں پاکستان کی ایک قابل تحسین سفارتی کوشش ہیں۔ ایسے نازک حالات میں جب دنیا ایک نئے تصادم کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، پاکستان کا یہ متحرک کردار نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے استحکام کے لیے بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ بروقت کوششیں بروئے کار نہ لائی جاتیں تو قرین قیاس ہے کہ اب تک قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کہیں زیادہ ہو چکا ہوتا اور عالمی معیشت مزید گہرے انسانی و مالی نقصانات کی زد میں آ چکی ہوتی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کی بنیادی وجہ فریقین کی مسلسل ہٹ دھرمی ہے۔ عالمی سیاست میں اکثر و بیشتر اخلاقیات پر طاقت اور مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے جس کے باعث دیرینہ مسائل کا حل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ تاہم تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ خونی تصادم کے بعد بھی بالآخر مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ثابت ہوتے ہیں جو پائیدار امن کی منزل تک لے جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ امید رکھنا بے جا نہ ہو گا کہ آنے والے دنوں میں فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور کسی مشترکہ سمجھوتے تک پہنچنے کی مخلصانہ کوشش کی جائے گی، جس کے نتیجے میں تعطل کا شکار یہ عمل دوبارہ بحال ہو سکے۔
پاکستان نے ہمیشہ خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا ہے جو نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا جانتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے عملی اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ نشستیں اسی دیرینہ ریاستی پالیسی کا تسلسل ہیں اور یہ اقدام اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں ایک مثبت اور تعمیری کھلاڑی کے طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں چین کی حالیہ سفارتی پیش رفت اور اس کا واضح موقف بھی عالمی سیاست میں ایک فیصلہ کن عنصر بن کر ابھرا ہے کیونکہ چین اب محض ایک معاشی قوت نہیں رہا بلکہ عالمی تنازعات میں بھی اس کا کردار فعال ہو چکا ہے۔ جب چین جیسے بڑے ممالک حساس عالمی معاملات پر دوٹوک رائے دیتے ہیں تو اس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں، جس نے عالمی طاقتوں کے روایتی توازن کو ایک نئے اور کثیر قطبی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
موجودہ حالات امریکہ کے لیے بھی ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی خارجہ پالیسیوں، بالخصوص ایران کے حوالے سے اپنے رویے پر نظرثانی کرے۔ اگر امریکہ تعلقات کو معمول پر لانے کی مخلصانہ کوشش کرے تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو گی بلکہ عالمی سطح پر بھی مفاہمت کا ایک مثبت پیغام جائے گا۔ بصورت دیگر، چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور تزویراتی طاقت کو محدود کرنے کی کوششیں محض ایک خواب بن کر رہ جائیں گی کیونکہ اب دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر طاقت کے مختلف مراکز کی طرف بڑھ چکی ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری توانائی کے وسائل، تجارتی راستوں کی حفاظت اور عالمی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے، جو بڑی طاقتوں سے محاذ آرائی کے بجائے باہمی تعاون کا تقاضا کرتی ہے۔
دنیا اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی غیر یقینی صورتحال میں پاکستان کی سفارتی کوششیں امید کی ایک روشن کرن کی مانند ہیں جو تاریک حالات میں بھی مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں بھی اسی ذمہ دارانہ جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں اور ذاتی مفادات پر انسانی بقا کو فوقیت دیں، تو بعید نہیں کہ دنیا ایک بار پھر امن، پائیدار استحکام اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے۔












