امریکہ کی عسکری ہیبت اور عالمی بالادستی کا زوال

0
16

امریکہ کی عسکری ہیبت اور عالمی بالادستی کا زوال

فروری 2026ء میں شروع ہونیوالا آپریشن ایپک فیوری جدید جنگی تاریخ میں ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے طاقت کے توازن اور بالادستی کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور بے پناہ مالی وسائل کسی بھی معرکے کا فیصلہ چند گھنٹوں میں کر سکتے ہیں،ایران کے آسمانوں پر چھائے بارود کے بادلوں نے ایک مختلف کہانی سنائی۔ یہ جنگ محض دو ممالک کے درمیان تصادم نہیں تھی بلکہ یہ اس خام خیالی کی شکست تھی کہ محض بمباری سے سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی قیادت نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ انتہائی تیز رفتار، شفاف اور فیصلہ کن ہوگا، لیکن چالیس دنوں کے مختصر عرصے نے ثابت کر دیا کہ میدانِ جنگ کی حقیقتیں واشنگٹن کے ایوانوں میں بنے منصوبوں سے کہیں زیادہ تلخ اور پیچیدہ ہوتی ہیں۔ اس تنازعے کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ جب سفارت کاری اپنے منطقی انجام کے قریب تھی اور عمان کے تعاون سے ایک اہم معاہدہ طے پانے والا تھا، ٹھیک اسی وقت میزائلوں کا رخ ایران کی جانب موڑ دیا گیا۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ شاید جنگ کا مقصد امن کا قیام نہیں بلکہ اس سفارتی کامیابی کو روکنا تھا جو کسی مخصوص گروہ کے مفادات کے خلاف جا رہی تھی۔
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا کردار کلیدی اہمیت اختیار کر گیا۔ جب امریکہ کو احساس ہوا کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے ایران کو جھکانے میں ناکام رہا ہے اور اس کے اپنے دفاعی ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں، تو اس نے اسلام آباد کے دروازے پر دستک دی۔ پاکستان کو ایک ایسے پل کے طور پر استعمال کیا گیا جو ایران کو مذاکرات پر آمادہ کر سکے۔ واشنگٹن نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے اور جنگ کے دلدل سے نکلنے کے لیے پاکستان کے اثر و رسوخ کا سہارا لیا تاکہ ایران کو ایک ایسے سمجھوتے کی طرف لایا جا سکے جو بظاہر برابری کی بنیاد پر ہو لیکن درحقیقت امریکہ کے لیے باعزت واپسی کا راستہ فراہم کرے۔ پاکستان کی سرزمین پر ہونے والی ان گفتگوؤں نے ثابت کیا کہ خطے کے مسائل کا حل گولی میں نہیں بلکہ اسی مٹی کی خوشبو اور پڑوسیوں کے باہمی اعتماد میں چھپا ہے۔
اس چالیس روزہ معرکے میں جو جانی و مالی نقصان ہوا وہ کسی بھی سپر پاور کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اربوں ڈالر کے جدید ترین جنگی طیارے، ڈرونز اور جاسوسی آلات کا ضیاع یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب دفاعی نظام صرف قیمت یا ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ حکمت عملی سے جیتا جاتا ہے۔ ایران نے فضا میں برتری حاصل کرنے کے بجائے زمین اور سمندر کے سنگم پر ایسی چال چلی جس نے عالمی معیشت کی شہ رگ کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے ثابت کر دیا کہ تزویراتی فائدہ صرف ہتھیاروں کی تعداد میں نہیں بلکہ جغرافیائی پوزیشن کے درست استعمال میں پنہاں ہے۔ امریکی بحریہ، جو دنیا کی طاقتور ترین بحری قوت کہلاتی ہے، صرف خاموش تماشائی بنی رہی کیونکہ کسی بھی براہِ راست مداخلت کی صورت میں زمینی فوج کے جانی نقصان کا اندیشہ سیاسی ساکھ کو خاک میں ملا سکتا تھا۔ یہ طاقت کی وہ معذوری تھی جہاں ہتھیار تو موجود تھے لیکن ان کا استعمال ناممکن بنا دیا گیا تھا۔
جنگ کے معاشی پہلو نے تو اور بھی حیران کن حقائق بے نقاب کیے۔ ایک طرف ایران کے سستے ڈرونز تھے اور دوسری طرف امریکہ کے مہنگے ترین دفاعی میزائل۔ یہ ایک ایسا عدم توازن تھا جہاں چند ہزار ڈالر کے حملے کو روکنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے تھے۔ اس مالیاتی جنگ نے امریکی اسلحے کے ذخائر پر وہ دباؤ ڈالا جس کی توقع شاید خود ان کے ماہرین نے بھی نہیں کی تھی۔ جب صورتحال ہاتھ سے نکلنے لگی اور دھمکیوں کا لہجہ تند ہوتا گیا، تو دنیا نے دیکھا کہ ایک خودساختہ آخری تاریخ سے چند گھنٹے قبل ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ پسپائی نہیں تو اور کیا تھی کہ تمام تر تادیبی کارروائیوں کے باوجود مطلوبہ سیاسی تبدیلی نہ لائی جا سکی اور ایران کی حکومت پہلے سے زیادہ مستحکم انداز میں مذاکرات کی میز پر نمودار ہوئی۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی مطالبات، جن میں خطے سے غیر ملکی افواج کا انخلا اور تمام پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے، کسی ہارے ہوئے ملک کی آواز نہیں بلکہ ایک فاتح کا بیانیہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس جنگ نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ اب بڑی طاقتیں اپنے فوجی رعب سے چھوٹے ممالک کو مرعوب نہیں کر سکتیں۔ روس، چین اور شمالی کوریا جیسے ممالک اس شکست کا گہرائی سے مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کے دور رس اثرات آنے والے برسوں میں عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ امریکی فوجی اساطیر کا وہ بت جو دہائیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، اب پاش پاش ہو چکا ہے۔ دنیا اب ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا معیار ایٹمی آبدوزیں نہیں بلکہ وہ تزویراتی مہارت ہے جو دشمن کو اس کے اپنے ہی جال میں الجھا کر مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کر دے۔ یہ معرکہ ایران کی فضائی حدود سے نکل کر اب تاریخ کی کتابوں میں ایک ایسی عبرت بن کر محفوظ ہو چکا ہے جو ہمیشہ یاد دلائے گا کہ تباہی پھیلانا آسان ہے لیکن اس تباہی کو سیاسی فتح میں بدلنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here