پردہ: فرض، فیشن اور اسلامی روح!!!

0
5

ایک بہن نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ پردہ اختیار کرنے کی خواہش مند تو ہیں لیکن محافل اور دعوتوں میں ہر لباس کے ساتھ ہم رنگ اسکارف یا دیگر لوازمات کا انتظام کرنا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اب تک اس اہم فریضے پر عمل پیرا نہیں ہو سکیں۔ آج کل یہ احساس شدت سے ابھر رہا ہے کہ اسلام کا نرم تاثر پیش کرنے کی کوشش میں ایسی اشیا کو معمول بنا لیا گیا ہے جو دین کی اصل روح کے منافی ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر متحرک بااثر شخصیات یہ پرچار کرتی نظر آتی ہیں کہ اسلام کو ہر جگہ جدت اور وقار کے ساتھ اپنایا جا سکتا ہے جس کا سادہ مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیا جائے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان جہاں بھی ہو اگر وہ اللہ اور اس کے مقرب بندوں کی محبت میں اپنا حلیہ ان جیسا بنا لے گا تو اللہ اسے تمام جہانوں میں معزز کر دے گا۔ اس حقیقت پر غور لازم ہے کہ اگر اچانک موت آ جائے تو کیا خالق کے سامنے یہ عذر پیش کرنا ممکن ہوگا کہ پردہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ ہم رنگ اسکارف میسر نہیں تھے۔ اللہ تعالی نے پردے کا حکم اس لیے دیا تاکہ مومن خواتین کی الگ شناخت ہو سکے اور وہ پہچانی جائیں۔تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پردہ اور مکمل لباس بلند نسب اور آزاد ہونے کی علامت تصور کیا جاتا تھا جبکہ غلام عورتوں کے لیے سر ڈھانپنے کی ممانعت تھی جو ان کی محکومی کی نشانی تھی۔ آج جدید نظر آنے کی دوڑ میں پردہ ترک کرنا درحقیقت اللہ کی عطا کردہ عزت کی چادر کو رد کر کے ذلت کا انتخاب کرنے کے مترادف ہے۔ پردہ انسان کو آزاد کرنے کے لیے فرض کیا گیا تھا لیکن اسے فیشن میں ڈھال کر ایک نئی مشکل کھڑی کر دی گئی ہے جہاں نت نئے عبایوں اور حجاب پنز کے جھنجھٹ نے انسان کو دنیا میں مزید الجھا دیا ہے۔ رب کا حکم اسی صورت میں پردہ کہلائے گا جب وہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوگا ورنہ اسے محض دل کی تسلی کے لیے کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہے۔ حضور اکرم ? نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ اسلام عنقریب اجنبی ہو جائے گا لہذا ان اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے جو اس پر قائم رہیں گے۔ آج اسی اجنبیت سے گھبرا کر دین کو جدید بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ معاشرے میں نام نہاد برتری قائم رکھی جا سکے۔دین کے اٹل احکامات کو بوجھ سمجھ کر انہیں فلسفے اور لفاظی کا رنگ دینا تاکہ وہ لوگوں کو پرکشش معلوم ہوں دراصل دین کی بنیادوں سے انحراف ہے۔ اسلام کے آسان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے بنی آدم کے لیے زندگی کا جو ضابطہ منتخب کیا وہ بہترین اور سہل ترین ہے اور کسی بھی حکم میں مزید لچک کی گنجائش ہوتی تو اللہ خود اسے واضح فرما دیتا۔ یہ سمجھنا کہ جہاں نفس غالب آئے وہاں تاویلات کا سہارا لے کر سہولت ڈھونڈ لی جائے سراسر غلط فہمی ہے۔ بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ سخت موقف سے لوگ دین سے متنفر ہو جائیں گے لیکن اس ڈر سے دین کی صورت بگاڑ دینا کسی صورت جائز نہیں۔ فیشن کے زیر اثر شروع ہونے والا حجاب رفتہ رفتہ مختصر ہوتا چلا جاتا ہے جہاں اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے اور ظاہری نمائش باقی رہ جاتی ہے۔اگر پردہ مذہبی اصولوں کے مطابق نہیں تو اسے محض ذاتی یا معاشرتی قدر تو کہا جا سکتا ہے لیکن اسے اللہ کے لیے کیا گیا عمل قرار دینا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالی بے شک انسان سے کمال کا مطالبہ نہیں کرتا لیکن وہ یہ ضرور دیکھتا ہے کہ عمل کی بنیاد اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر ہے یا نہیں۔ نیت کے ساتھ ساتھ عمل کا شرعی حدود میں ہونا لازمی ہے کیونکہ صرف اچھی نیت کسی غلط عمل کو درست نہیں کر سکتی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پردے کا مقصد خود کو ایک ایسی چادر میں ڈھانپنا ہے جو سادہ ہو اور لوگوں کی توجہ کا مرکز نہ بنے۔ پردے پر فخر کا احساس لباس کی میچنگ سے نہیں بلکہ اس مائنڈ سیٹ سے پیدا ہوتا ہے کہ یہ کپڑا اللہ کا دیا ہوا اعزاز ہے۔ جب انسان پردے کو فیشن کی غلامی سے آزاد کر لیتا ہے تو وہ حقیقی معنوں میں ذہنی آزادی حاصل کر لیتا ہے کیونکہ آخرت کے سوالات پہلے ہی واضح کر دئیے گئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here