ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے!!!

0
6

عید پر شعر لکھنے کے جواب میں علامہ اقبال نے ایک خوبصورت نظم لکھ تو دی لیکن اپنی کم عمری میں مجھے اسے پہلی مرتبہ پڑھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ عید تو ایک خوشی کا موقع لاتی ہے تو پھر علامہ مرحوم نے یہ نظم بڑے اداس دل سے کیوں کہی ہے؟ جیسے جیسے وقت گزرا اور تسلسل کے ساتھ امت مسلمہ کی زبوں حالی دیکھنے کو ملی تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ عید پر کہی گئی اس نظم کے ہر شعر سے اداسی کیوں ٹپکتی ہے۔ خاص طور پر یہ شعر،!
خزاں میں مجھ کو رلاتی ہے یاد فصل بہار
خوشی ہو عید کی کیونکر کہ سوگوار ہوں میں
غزہ پر ٹوٹنے والے مظالم پر امت مسلمہ کی خاموشی نے تو دل اداس کیا ہی تھا لیکن اب ایران اور لبنان پر ہونے والی جارحیت کو باقی پچاس سے زائد مسلم ممالک اس طرح سے نظر انداز کر رہے ہیں جیسے یہ دونوں ممالک ہی اصل مجرم ہوں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کو ان کو تباہ و برباد کرنے کا گویا پورا حق حاصل ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال کے ایک اور شعر میں بتوں کی جگہ امریکہ لکھ دیا جائے تو ہماری موجودہ صورتحال پر وہ بالکل صادق آئے گا۔
امریکہ سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
ایران اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ چومکھی لڑائی اسے شاید نہ لڑنی پڑتی اگر وہ بھی مظلوموں کی حمایت کرنے کی بجائے ٹرمپ کو امن کے ایوارڈ کے لیے نامزد کر دیتا اور مشرق وسطی میں صیہونیت کی چوہدراہٹ قبول کر کے عام مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے کا اہتمام کر لیتا۔ مسلم ممالک کی باقی اشرافیہ کی طرح ایرانی حکمران بھی عیش و آرام کی زندگی گزارتے اور وہاں کے عام لوگ بھی اسرائیل میں موجود فلسطینیوں کی طرح دوسرے درجے کے شہری بن کر زندگی کے باقی ماندہ دن پورے کرتے رہتے۔ اس صورت میں وہ مستقل پولیس چوکیوں اور ہنگامی ناکوں پر اپنی خواتین اور بچوں سمیت جامہ تلاشیاں دے کر خود کو پرامن شہری ثابت کرنے پر مجبور ہوتے۔ علامہ اقبال نے ہماری بیداری کے لیے خوب کہا کہ!
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ان سنگین حالات کے سائے میں امریکہ میں ہماری رہائش کا ایک اور ماہ رمضان تمام ہوا۔ اپنے آبائی وطن پاکستان کی صورتحال اور اب مشرق وسطی کی حالت دیکھ کر علامہ اقبال کے یہ الفاظ ہی ہماری عید کی کیفیت بیان کر رہے ہیں۔
عید آزاداں شکوہ ملک و دیں
عید محکوماں ہجوم مومنیں
امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ اس وقت آگ میں جل رہا ہے۔ جب بڑے بڑے بم گرتے ہیں تو ان کی دہشت ناک آوازیں راتوں کو سونے نہیں دیتیں۔ خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر بھی پناہ نہیں مل رہی اور تہران، اصفہان، شیراز اور بیروت جیسے عظیم الشان شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ جنگی جرائم کے شکار یہ مظلوم و مجبور لوگ بڑی ہمت سے ان نامساعد حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ حقیقت میں ایران یہ جنگ پہلے دن ہی جیت گیا تھا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ شیطان بزرگ اپنی ہار کب مانتا ہے، امید ہے کہ یہ موقع بھی جلد آجائے گا۔ ان شائ اللہ۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں،
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
امریکہ کی ریاست نیو جرسی کی بظاہر پرامن سڑکیں اس عید پر کچھ اس طرح کی سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ مروجہ عالمی نظام اپنے ہی وزن سے زمین بوس ہو رہا ہے۔ اخلاقی قدریں ایپسٹین فائلوں کی زد میں ہیں، معاشی استحکام کاروباری بدعنوانی اور سیاسی ڈالرز سے لرز رہا ہے جبکہ معاشرتی قدروں کی زبوں حالی نے پوری مغربی تہذیب کو خودکشی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ اب یہ صاف محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ملک دنیا کی قیادت کے قابل نہیں رہا اور دیکھنا یہ ہے کہ اس کی جگہ اب کون لیتا ہے؟ مضمون کا اختتام علامہ مرحوم کے اس مشہور شعر پر ہوتا ہے،
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here