سوال: بھائی ایک سوال کا جواب تو دو آپ کے مولانا مودودی نے پاکستان بننے کی مخالفت کیوں کی تھی؟ جواب: سید ابوالاعلی مودودی نے قیامِ پاکستان کی مخالفت کی تھی یہ ایک لغو بات ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے چند خدشات و اعتراضات کیے تھے اور وہ محض طریقہ کار (Methodology) اور نظریاتی خلا پر تھے۔ ان کے موقف کے تین بنیادی نکات درج ذیل ہیں
1. مسلم قوم پرستی” بمقابلہ “اسلامی نظریہ:
مولانا کا استدلال یہ تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت مسلم قوم پرستیکی بنیاد پر مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ اسلام ایک عالمی نظریہ ہے۔ ان کا خدشہ تھا کہ اگر محض مسلمان قوم کے نام پر ملک حاصل کر لیا گیا، اور اس کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہی جو اسلامی نظام کی تربیت یافتہ نہیں ہیں، تو وہ ملک ایک “سیکولر مسلم ریاست” تو بن سکتا ہے، لیکن “اسلامی ریاست” نہیں بن سکے گا۔
2. صالح قیادت اور تربیت یافتہ کارکن :
مولانا مودودی کے نزدیک کسی بھی انقلاب کے لیے اس کے مطابق “رجالِ کار” نیک افرادی قوت کا ہونا لازمی ہے۔ کھوٹے سکوں سے کام نہیں چلتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مٹی سے اسلامی ریاست بننی ہے، پہلے اس کے افراد کی اخلاقی اور فکری تربیت کی جانی چاہیے۔ ان کے نزدیک محض ووٹوں کی گنتی سے جغرافیائی تبدیلی تو آ سکتی ہے، لیکن نظام کی تبدیلی ،اقامتِ دین کے لیے ایک منظم تحریک اور تربیت یافتہ گروہ ناگزیر ہے۔
3. تقسیم کا فارمولا اور مسلمانوں کا مستقبل :
اس وقت ان کا ایک علمی خدشہ یہ بھی تھا کہ اگر ہندوستان تقسیم ہوتا ہے تو جو مسلمان انڈیا میں رہ جائیں گے، ان کی حفاظت اور مستقبل کے حوالے سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل موجود نہیں تھا۔ وہ پوری ہند کی زمین کو اسلام کے لیے ایک میدانِ عمل دیکھتے تھے۔ اگر ہم مولانا مودودی کے اس دور کے لٹریچر مثلا: مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا موقف کسی بھی مغربی سیاسی فلسفے سے مرعوب نہیں تھا، بلکہ خالصتاً قرآن و سنت کی بالادستی پر مبنی تھا۔ بندگیِ رب اور قومی مفاد کا فرق مولانا کے نزدیک ‘الہ’ اور ‘رب’ صرف اللہ ہے، اس لیے کسی ریاست کی بنیاد ‘قومیت’ پر رکھنا ان کے نزدیک شرکِ سیاسی کی ایک شکل تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کا مطالبہ صرف اس لیے ہو کہ وہاں اللہ کی حاکمیت قائم کی جائے گی، نہ کہ اس لیے کہ وہاں صرف مسلمانوں کی اکثریت کا اقتدار ہوگا۔
قیامِ پاکستان کے بعد کا رویہ: یہ بات انتہائی اہم ہے کہ جیسے ہی پاکستان بن گیا، مولانا مودودی نے اسے اپنی حقیقت تسلیم کیا اور اپنا پورا وزن اس ملک کو ایک حقیقی اسلامی ریاست بنانے کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے ہجرت کی اور یہاں آکر “قرار دادِ مقاصد” کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، جو ان کے اسی مؤقف کی جیت تھی کہ پاکستان کی بنیاد حاکمیت الہی ہونی چاہیے۔ مولانا کی مخالفت وجودِ پاکستان سے نہیں بلکہ اس کے غیر اسلامی سانچے میں ڈھلنے کے خدشے سے تھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ بعد کے ادوار میں پاکستان میں سیکولر اور لادین قوتوں کی کشمکش نے مولانا کے ان خدشات کو کسی حد تک درست ثابت کیا، جس کے خلاف وہ تاحیات نبرد آزما رہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج تک پاکستان ایک کامل اسلامی ریاست نہ بن سکا۔ کیونکہ اس تحریک کی جڑوں میں جو لوگ شامل تھے وہ مغرب سے بھی زیادہ مغرب سے مرعوب تھے اور ہیں۔ پاکستان کی بربادی کی وجہ پاکستانی اشرافیہ کے ذہن کا سیکولر لبرل اور جاگیردارانہ ذہنیت کا ہونا ہے۔ اور تاریخ نے یہی ثابت کیا ہے۔ جب تک اس قابض کرپٹ سیکولر لبرل مافیہ بیوروکریسی سے جان نہیں چھوٹے گی یہ ملک صحیح معنوں میں کبھی بھی اسلامی ریاست نہیں بن سکتا۔ سب سے بڑی رکاوٹ یہی کالی بھیڑیں ہیں۔ جب تک انہیں اکھاڑ کر سسٹم سے باہر نہیں پھینکا جاتا یہ قوم کا خون اسی طرح چوستے رہیں گے۔ اور ملک کو کبھی بھی ایک اسلامی ریاست نہ بننے دیں گے۔ اس قابض فاسق و فجار اشرافیہ کو ہٹا کر یہاں پر اللہ کے مخلص بندوں کو بیٹھانا ہی اصل اقامت دین ہے۔ جسکی جدوجہد انکی جماعت کر رہی ہے۔
٭٭٭














